’وہ گاؤں جہاں رہنے والے مردوں سے کوئی لڑکی شادی کرنے کو تیارنہیں کیونکہ ۔ ۔ ۔‘

ڈیلی بائیٹس

نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن) شادی عمومی طورپر زندگی میں ایک ہی بار ہوتی ہے اور اس مقدس بندھن کے لیے زندگی کی آسائشوں اور بہتر سے بہتر رشتہ دیکھا جاتاہے لیکن بھارتی ریاست اتر پردیش کے ایک گاؤں میں پانی سمیت زندگی کی بنیادی سہولیت ہی میسر نہ ہونے کی وجہ سے وہاں کے مردوں کیساتھ کوئی لڑکی شادی کرنے کو تیار نہیں ۔
ہندوستان ٹائمز کے مطابق اتر پردیش کے گاؤں شری تاراماجرا میں کوئی دوسرے علاقوں کی عورت شادی کرنے کو تیار نہیں اور اسے ’کنواروں کا گاؤں ‘ بھی کہا جاتاہے کیونکہ یہاں آج بھی پانی کی قلت ہے اور زیرزمین انتہائی گہرائی میں موجود پانی بھی استعمال کے قابل نہیں، آج بھی اس گاؤں میں بجلی جیسی سہولت بھی دستیاب نہیں جس کی وجہ سے ممکنہ دلہنیں اس گاؤں کے مکینوں سے شادی کرنے کو تیار نہیں ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نہ صرف 35کلومیٹر دور الہ آباد کی مکین بلکہ نواحی اضلاع پراتاپھگڑھ ، کوشمبی اور چتراکوٹ جیسے علاقوں کی خواتین بھی اس گاؤں کے نوجوانوں کی شادی کی تجویز مسترد کردیتی ہیں کیونکہ ان نوجوانوں سے شادی کرنے کا مطلب اپنی زندگی کو مزید مشکلات میں ڈالنا ہے ۔
گاؤں کی مجموعی آباد ی تقریباً ایک ہزار نفوس پر مشتمل ہے اور18سے 29سال کے 50افراد کو اب بھی دلہنوں کی تلاش ہے ۔ویڈیو بھی دیکھ سکتے ہیں