’مجھے 14 سال پہلے تمہارا بٹوہ ملا تھا اور میں نے اس کے ساتھ۔۔۔‘ آدمی کو فیس بک پر 14 سال بعد اجنبی کا پیغام، اس کے گُم ہونے والے بٹوے کا کیا استعمال کیا؟ ایسی بات کہہ دی کہ کوئی تصور بھی نہ کرسکتا تھا، بٹوے سے محروم ہونے کے باوجود مالک خوش ہوگیا

ڈیلی بائیٹس

لندن (نیوز ڈیسک) اگر آپ کا بٹوہ کھوجائے اور اس میں کچھ رقم بھی موجود ہو تو کم ہی ایسا ہوتا ہے کہ پھر کبھی کوئی آپکو اس کے بارے بتائے، البتہ ایک برطانوی شہری کو اس وقت خوشگوار حیرت کا سامنا کرنا پڑا جب 14 سال قبل گم ہونے بٹوے کی خبر آ گئی۔
میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق صحافی ٹموتھی بروز کا پرس 2003ءمیں اس وقت کھوگیا جب وہ ریڈنگ میلے میں شرکت کے لئے گئے ہوئے تھے۔ اب اس ہفتے فیس بک پر ایک نامعلوم شخص نے ایک میسج بھیج کر بتایا کہ ان کا بٹوہ اسے ملا تھا۔ ٹم نے بتایا کہ انہیں ایک میسج موصول ہوا جس میں لکھا تھا ”کیا کبھی آپ کا بٹوہ ریڈنگ میں گم ہوا تھا؟“ انہوں نے جواب دیا ”میں نے یہ عجیب میسج ابھی دیکھا ہے۔ میں ریڈنگ جایا کرتا تھا۔ کیا آپ کو میرا بٹوہ ملا ہے؟“

’میں رشتہ کروانے کی 15لاکھ روپے فیس لیتی ہوں اور دیکھا ہے کہ امیر ترین مَرد شادی کیلئے خاتون کی اس ایک چیز کو سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں کہ۔۔۔‘ دنیا کے امیر ترین افراد کے رشتے کروانے والی خاتون نے سب سے اہم راز بے نقاب کردیا
پرس کی خبر دینے والے شخص نے ٹم کو بتایا ”میرے دوستوں کو آپ کا بٹوہ پرس 2003ءمیں ملا تھا۔ ہم نے اسے پولیس کے حوالے کردیا لیکن اس سے پہلے اس میں سے 10 پاﺅنڈ نکال لئے تھے۔ اس رقم سے ہم نے مشروبات خریدے اور ایک شاندار مقابلہ منعقد کیا۔ آپ کے اعزاز میں ہم یہ مقابلہ گزشتہ 14سال سے باقاعدگی سے منعقد کررہے ہیں۔ ہم نے اس سالانہ مقابلے کا نام بھی رکھا ہے۔ ہم اسے آپ کے اعزاز میں ’دی ٹموتھی بروز چیلنج‘ کہتے ہیں۔ ہر سال مقابلے کے دن ہم مشروبات خریدتے ہیں اور ایک پرجوش مقابلے کا اہتمام کرتے ہیں۔


یہ چیلنج نئے سال کے آغاز پر منعقد کیا جاتا ہے جس میں تین ٹیمیں حصہ لیتی ہیں۔ ہر ٹیم کے پانچ رکن ہوتے ہیں۔ ان ٹیموں کو پانچ منٹ سے کم وقت میں دئیے گئے مشروبات ختم کرنا ہوتے ہیں۔ جو ٹیم سب سے پیچھے رہ جاتی ہے اس کے کپتان کو قالین میں لپیٹ دیا جاتا ہے اور اسے ساری رات اسی حالت میں گزارنا پڑتی ہے۔
ٹم کا کہنا ہے کہ انہیں بٹوہ تو نہیں ملا لیکن یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ ان کے اعزاز میں ایک مقابلے کا انعقاد کیا جاتا ہے، جو گزشتہ 14 سال سے باقاعدگی سے جاری ہے۔