جب ملالہ یوسفزئی کو گولی ماری گئی تو اس کی ہم جماعت دو لڑکیاں بھی ساتھ تھیں، اب یہ کہاں ہیں اور کیا کررہی ہیں؟ انتہائی حیران کن خبر آگئی

ڈیلی بائیٹس

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) اکتوبر 2012ءمیں جب ملالہ یوسفزئی کو قاتلانہ حملے کا نشانہ بنایا گیا تو ان کی دو ساتھی طالبات کائنات ریاض اور شازیہ رمضان بھی ان کے ساتھ تھیں۔ نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کے نام سے تو پوری دنیا آگاہ ہو گئی مگر کائنات اور شازیہ کا تذکرہ بہت ہی کم سننے کو ملا۔ حملے کے بعد شازیہ ایک ماہ تک ملٹری ہسپتال میں زیر علاج رہیں جبکہ کائنات کو ان کے گھر والے ایک مقامی ہسپتال لے گئے۔ ملالہ یوسفزئی کی نازک حالت کے پیش نظر انہیں علاج کیلئے برطانیہ لیجایا گیا۔ ملالہ صحتیاب ہوگئیں اور انہیں نوبیل انعام بھی ملا جبکہ وہ اقوام متحدہ کی کم عمر ترین سفیر امن بھی منتخب ہوئیں۔ دوسری جانب کائنات اور شازیہ نے یہ تمام عرصہ گمنامی میں گزارا۔

’ہاں! دو لڑکیاں ہیں اور انہیں میں۔۔۔‘ کریم ٹیکسی میں بیٹھتے ہی پاکستانی لڑکی کو زندگی کا سب سے بڑا جھٹکا لگ گیا، ٹیکسی ڈرائیور فون پر کس سے اور کیا بات کررہا تھا؟ جان کر آپ بھی لرز اُٹھیں گے
ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق ان دونوں طالبات کو گزشتہ چند سالوں کے دوران بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ چونکہ یہ دہشتگردوں کے نشانے پر تھیں لہٰذا ان کے اپنے علاقے کے لوگ بھی انہیں اپنے درمیان نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔ کائنات اور شازیہ کے لئے خوشی کی خبر اس وقت آئی جب ان کی دوست ملالہ کی کوششوں سے انہیں انٹرنیشنل بورڈنگ سکول یو ڈبلیو سی اٹلانٹک کالج میں تعلیم کیلئے سکالرشپ مل گیا۔ خوش قسمتی سے اب دونوں کو ایڈنبرا یونیورسٹی میں نرسنگ کی تعلیم کیلئے بھی سکالر شپ مل گیا ہے۔


دوسری جانب ملالہ کو بھی ایک ممتاز ترین یونیورسٹی سے سکالر شپ کی پیشکش آگئی ہے، جو کہ غالباً آکسفرڈ ہے۔ کائنات اور شازیہ اپنا مستقبل پاکستان میں دیکھتی ہیں، جہاں وہ تعلیم عام کرنے کا عزم رکھتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ پاکستانی بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کیلئے ان کے بس میں جو بھی ہوا ضرور کریں گی۔