بھارتی مَردوں کیلئے تاریخ کی سب سے پریشان کن خبر آگئی، کسی کو شادی کیلئے لڑکی نہ ملے گی کیونکہ۔۔۔ انتہائی شرمناک وجہ بھی سامنے آگئی

ڈیلی بائیٹس

نئی دلی (نیوز ڈیسک) بیٹیوں کی نسبت بیٹوں کی زیادہ خواہش یوں تو تمام مشرقی معاشروں میں عام پائی جاتی ہے لیکن بھارت میں یہ ایک جنون کی صورت اختیار کر گئی ہے، جس کا نتیجہ اب ایک بڑے المیے کی صورت میں بھارتی قوم کے سامنے ہے۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں نوجوان لڑکوں کی نسبت نوجوان لڑکیوں کی تعداد اس قدر تیزی سے کم ہوتی جارہی ہے کہ یہ ایک بہت بڑا سماجی مسئلہ بن گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2031ءتک صورتحال یہ ہوگی کہ ہر 1000 نوجوان مردوں کے مقابلے میں نوجوان خواتین کی تعداد صرف 898ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق لڑکیوں کو پیدائش سے پہلے ہی ختم کردینے کا کلچر بھارت میں پہلے بھی پایا جاتا تھا لیکن اسقاط حمل کے جدید طریقے متعارف ہونے کے بعد یہ عمل خوفناک حد تک تیزہوگیا ہے۔الٹراساﺅنڈ ٹیکنالوجی کا سہارا لیتے ہوئے لوگ بچے کی جنس معلوم کرتے ہیں اور اگر یہ لڑکی ہو تو اسقاط حمل کروانے میں ذرا ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرتے۔

’جب بھی کسی مرد کو یہ کام کرتے دیکھوں تو دل پر قابو نہیں رہتا کیونکہ۔۔۔‘ خواتین کو کس طرح کے مرد سب سے زیادہ پسند آتے ہیں؟ خواتین نے خود ہی سب سے خفیہ راز بے نقاب کردیا
بھارتی حکومت نے اس صورتحال سے گھبرا کر 1994ءمیں ایک قانون منظور کیا جس کے مطابق پیدائش سے قبل بچے کی جنس معلوم کرنے پر پابندی لگادی گئی، لیکن حکومت اس قانون پر عملدرآمد کروانے میں ناکام رہی۔ وزیراعظم نریندر مودی نے بھی 2014ءمیں ”بیٹی بچاﺅ، بیٹی پڑھاﺅ“ مہم کا آغاز کیا لیکن صورتحال جوں کی توں ہے۔
ماہرین عمرانیات کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال جاری رہی تو ایک دہائی بعد بھارت میں نوجوان مردوں کی نسبت نوجوان خواتین کی تعداد تقریباً 40 کروڑ کم ہوگی۔ عورتوں اور مردوں کی نسبت میں اتنے بڑے پیمانے پر فرق شاید ہی دنیا کے کسی اور خطے میں کبھی دیکھنے میں آیا ہو۔