’آج کل باپ اپنے بیٹوں کے ساتھ یہ ایک کام کرتے ہیں جو انہیں فوری طور پر چھوڑ دینا چاہیے کیونکہ۔۔۔‘ انتہائی معروف سکول کے سربراہ نے والدین کو خبردار کردیا، اس کام سے منع کردیا جو آج کل ہر باپ کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے

ڈیلی بائیٹس

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) کہا جاتا ہے کہ والدین کو اپنے بیٹوں کا بہترین دوست ہونا چاہیے۔ باپ کے اس روئیے کو بیٹوں کی بہترین پرورش کی کنجی کہا جاتا ہے لیکن ایک برطانوی ماہر نے اس عام تاثر کو انتہائی غلط قرار دے دیا ہے اور متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’آج کل کے جدید والدوں کی بیٹوں کا بہترین دوست بننے کی کوشش ان کے بیٹوں کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔‘ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق برنابے لینن نامی یہ ماہر پیشے کے اعتبار سے ٹیچر رہے ہیں۔ 35سال کیریئر میں وہ لندن کے ہیرو (Harrow)سکول کے ہیڈماسٹر بھی رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ”گزشتہ ہفتے میرے پاس ایک شخص آیا۔ وہ بہت پریشان تھا۔ اس نے بتایا کہ اس کا بیٹا اپنے پلے سٹیشن کو ہوم ورک، گھریلو کام، حتیٰ کہ اپنی نیند پر بھی ترجیح دیتا ہے اور میری کوئی بات نہیں مانتا۔ جب میں نے اس سے بیٹے کے ساتھ تعلق کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتایا کہ اس نے بہترین دوست بن کر بیٹے کی پرورش کی ہے۔“

’جب بھی کسی مرد کو یہ کام کرتے دیکھوں تو دل پر قابو نہیں رہتا کیونکہ۔۔۔‘ خواتین کو کس طرح کے مرد سب سے زیادہ پسند آتے ہیں؟ خواتین نے خود ہی سب سے خفیہ راز بے نقاب کردیا
برنابے لینن کا کہنا تھا کہ ”یہ مسئلہ آج کل بہت عام دیکھا جا رہا ہے۔ آج کل کے جدید والد اپنے بیٹوں کے بہترین دوست بن جاتے ہیں جس سے بچے ان سے بالکل بے خوف ہو جاتے ہیں اور ان کی رائے یا حکم کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ انجام کار یہ بے خوفی ان بچوں کی زندگی تباہ کر دیتی ہے۔ میں یہ ہرگز نہیں کہتا کہ والد کو بیٹے کے ساتھ گرم جوشی پر مبنی تعلق نہیں رکھنا چاہیے لیکن اس گرم جوشی کے تعلق میں قوانین، ضابطوں اور معمول کو پس پشت نہیں ڈالنا چاہیے۔ بچے کے ساتھ اس قدر بے تکلف دوستی نہیں کر لینی چاہیے کہ وہ آپ سے بالکل بے خوف ہو جائے اور آپ کی رائے کو محض ایک دوست کی رائے سمجھنے لگے۔آج مجھے میرے کئی پرانے طالب علم ملتے ہیں۔ میں نے ان کے سکول کے دنوں میں ان پر جو سختی کی آج وہ اس پر میرا شکریہ ادا کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ اس دور میں میرا سخت رویہ انہیں سخت ناپسند ہوتا تھا لیکن وہ اعتراف کرتے ہیں کہ انہیں اچھی تعلیم اور ڈسپلن میرے اسی سخت روئیے نے سکھایا۔میں اپنے طالب علموں کے ساتھ دوستانہ ماحول میں رہتا تھا لیکن کبھی اس دوستی کو ایک حد سے آگے نہیں بڑھنے دیا۔ باپ کا بھی بیٹوں کی زندگی میں یہی کردار ہوتا ہے۔“