20 سال پہلے اپنی پیشنگوئیوں سے تہلکہ برپا کرنے والی بابا وانگا کی عرب دنیا کے بارے میں ایک اور خوفناک پیشنگوئی منظر عام پر آگئی، اس میں کیا کہا تھا؟ جان کر یورپ اور عرب ممالک دونوں کے پیروں تلے واقعی زمین نکل جائے گی

ڈیلی بائیٹس

صوفیہ(مانیٹرنگ ڈیسک) بابا وانگا نامی نابینا خاتون 31جنوری 1911ءکو مقدونیہ کے شہر سترومیکا میں پیدا ہوئیں اور 11اگست 1996ءکو بلغاریہ کے دارالحکومت صوفیہ میں ان کا انتقال ہوا۔ اپنی زندگی میں انہوں نے آئندہ کئی ہزار سال کے حالات پر مبنی متعدد پیش گوئیاں کیں جن میں سے نائن الیون کے سانحے، شدت پسند تنظیم داعش کے عروج اور باکسنگ ڈے پر سونامی آنے سمیت کئی درست ثابت ہو چکی ہیں۔ اب دنیا کے انجام کے متعلق ان کی پیش گوئی منظرعام پر آ گئی ہے جس نے پوری دنیا کو خوفزدہ کر دیا ہے۔
دی مرر کی رپورٹ کے مطابق بابا وانگا نے پیش گوئی کی تھی کہ خطرناک کیمیائی ہتھیار استعمال کیے جائیں گے اور پھر تیسری عالمی جنگ شروع ہو جائے گی۔ ان کی یہ پیش گوئی شام میں بشارالاسد کی افواج کی طرف سے کیے گئے کیمیائی حملے سے بالکل مماثل ہے جس میں 90کے لگ بھگ لوگ لقمہ اجل بن گئے تھے۔ بابا وانگا کی اس پیش گوئی میں امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ کا 45واں صدر ایک ایسے بحران کا باعث بنے گا جس سے امریکہ کو تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بہت سے لوگوں کو اس صدر سے امید ہو گی کہ وہ دنیا میں جاری دہشت گردی کا خاتمہ کرے گا لیکن ہو گا اس کے بالکل الٹ۔ تب شمالی اور جنوبی ریاستوں میں تصادم ہو گا۔ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ شمالی اور جنوبی ریاستوں سے بابا وانگا کی مراد شمالی کوریا اور جنوبی کوریا ہیں۔

’انسانوں کے پاس صرف 10 سال باقی رہ گئے کیونکہ اس کے بعد۔۔۔‘ سائنسدانوں نے تاریخ کی تشویشناک ترین پیشنگوئی کردی، دنیا کو خبردار کردیا
بابا وانگا نے مزید پیش گوئی کی تھی کہ تیسری عالمی جنگ سے قبل 4ممالک کے سربراہوں کو قتل کرنے کی کوشش کی جائے گی جس کے نتیجے میں عالمی جنگ شروع ہو گی، اور ہم جانتے ہیں کہ اس وقت امریکہ شمالی کوریا کے حکمران کم جونگ ان کو ٹھکانے لگانے کی پوری منصوبہ بندی کر چکا ہے۔بابا وانگا کی پیش گوئیوں کے مطابق ان تمام واقعات کا آغاز عرب بہار سے ہو گا۔ اس کے بعد داعش کا ظہور، شام میں کیمیائی حملے، امریکہ کی زبوں حالی، یورپ پر شدت پسندوں کے حملے، شمالی کوریا کے ساتھ تصادم اور دیگر واقعات تیسری عالمی جنگ کو جنم دیں گے جو کروڑوں انسانوں کو نگل جائے گی اور ایٹمی حملوں کے باعث زمین کا بڑا حصہ بے آب و گیاہ ہو جائے گا اور صدیوں تک زندگی کے قابل نہ رہے گا۔بالخصوص بابا وانگا کی پیش گوئی میں یورپ کے لیے بری خبر ہے کیونکہ بتایا گیا ہے کہ پورے براعظم یورپ پر اس جنگ کے بعد انسانی زندگی ختم ہو جائے گی۔