’تمہاری جرأت کیسے ہوئی یہ بات کہنے کی ، ابھی فیس بک پر یہ لکھ رہی ہوں پھر دیکھنا تم۔۔۔‘ پاکستانی بیگم کی اپنے شوہر کو ایسی شرمناک دھمکی کہ جان کر تمام پاکستانی مَردوں کے ہاتھ پیر پھول جائیں گے

ڈیلی بائیٹس

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) حقوق نسواں کا شور مچانے والے تو بہت ہیں لیکن ’حقوق مرداں‘ نام کی تو کوئی اصطلاح تک نہیں ملتی حالانکہ ایسا تو غیرممکن ہے کہ معاشرے میں کوئی ایک مرد بھی مظلوم نہ ہو۔ بالکل ہیں اور بہت سے ہیں۔ ویب سائٹ parhloپر ثناءخالق نامی لڑکی نے کچھ پاکستانی مردوں کی حالتِ زار بیان کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ خواتین کے حقوق کے لیے تو بہت کام ہورہا ہے لیکن ان مردوں کے خواتین کے ہاتھوں ہونے والے استحصال کا تدارک کون کرے گا۔اس نے لکھا ہے کہ ”میری ایک جاننے والی خاتون مسز خان تمام دن گھر سے باہر رہی، اس کے بچے اس کا انتظار کرتے کرتے بھوکے پیٹ سو گئے۔ اس کے واپس آنے پر جب شوہر نے شکایت کی تو تنک کر اس نے جواب دیا ’تمہاری جرأت کیسے ہوئی مجھے یہ بات کہنے کی، ابھی میں تمہاری یہ بات فیس بک پر ڈالتی ہوں، پھر دیکھنا تمہارا کیا حشر ہوتا ہے۔“ یعنی مسز خان نے اپنے شوہر کو حقوق نسواں کے علمبرداروں کی دھمکی دے کر خاموش کروا دیا۔

شوہر کی اپنی بیگم کے ساتھ انتہائی شرمناک حرکت، بیوی نے چپکے سے ریکارڈنگ کرلی، کیا کررہا تھا؟ دیکھ کر جج کی بھی ہوائیاں اُڑگئیں
ثناءخالق ایک اور واقعہ لکھتی ہے کہ ”ایک اور شائستہ نامی خاتون جب چاہے اپنے شوہر کو تشدد کا نشانہ بنا دیتی ہے۔ اس کے لیے اسے کسی وجہ کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس کا شوہر اس سے اس قدر ڈرتا ہے کہ اس کی آنکھ کے اشارے سے سمجھ جاتا ہے کہ وہ اس وقت کیا چاہ رہی ہے۔ میری یہ باتیں میری ان بہنوں کو قطعاً پسند نہیں آئیں گی جو حقوق نسواں کا پرچم بلند کیے ہوئے ہیں اور شاید وہ مجھ پر کوئی ایسا الزام عائد کر دیں جس کی کم از کم سزا ایک سال قید ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ معاشرے میںجہاں خواتین مظلوم ہیں وہیں کچھ مرد بھی اپنی بیویوں کے ہاتھوں تشدد کا شکار ہو رہے ہیں۔ جسمانی تشدد کا شکار ہونے والے مردوں کی تعداد کم ہو سکتی ہے لیکن بیوی کے ہاتھوں ذہنی و نفسیاتی تشدد کا شکار ہونے والے مردوں کی ہمارے معاشرے میں بہتات ہے۔ اس تشدد کے خلاف آواز کون اٹھائے گا؟“