اس 81 سالہ بڑھیا نے صرف 6 ماہ میں۔۔۔ ایسا عمل کہ تمام دنیا کے نوجوان سوچ میں پڑ گئے

ڈیلی بائیٹس

ٹوکیو(مانیٹرنگ ڈیسک)ٹیکنالوجی کا دور دورہ ہونے پر کھیل بھی میدانوں سے نکل کر موبائل فونز اور کمپیوٹرز کی سکرینوں میں مقید ہو گئے ہیں۔ اب لوگ انٹرنیٹ پر ہی ایک دوسرے کے ساتھ مختلف گیمز کھیلتے ہیں۔ ایسے میں عمررسیدہ افراد کی انگلیوں میں وہ پھرتی نہ ہونے کے باعث وہ اکثر نوجوانوں سے گیمز ہار جایا کرتے ہیں۔ اب ایک 81سالہ جاپانی خاتون نے ایسی ایپلی کیشن بنا دی ہے جس سے عمررسیدہ افراد کا یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق اس خاتون کا نام ماساکوواکامیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ”میں اکثر محسوس کرتی تھی کہ میری عمر کے افراد نوجوانوں سے اکثر گیمز میں ہار جایا کرتے تھے کیونکہ نوجوانوں کی انگلیوں کی رفتار ہم سے زیادہ ہوتی ہے۔ یہیں سے مجھے اس ایپلی کیشن کی تخلیق کا آئیڈیا ملا۔“

’ایک سال تک اپنے والد کو اپنا دودھ پلاتی رہی کیونکہ۔۔۔‘ خاتون نے ایسی وجہ بتادی کہ جان کر شاید آپ کو بھی غصہ نہ آئے
ریٹائرڈ بینکار ماساکوواکامیا نے اس آئیڈیا کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ٹیکنالوجی کے ماہرین سے رابطہ کیا اور انہیں عمررسیدہ افراد کے لیے گیمز پر مبنی یہ ایپلی کیشن بنانے کو کہا، لیکن کوئی بھی بوڑھے افراد کے لیے ایپلی کیشن تخلیق کرنے کو تیار نہیں تھا۔ چنانچہ ماساکوواکامیا نے یہ کام خود کرنے کی ٹھان لی اور ایپلی کیشنز بنانی سیکھنے لگی۔ اس کا کہنا ہے کہ ”مجھے ایپلی کیشن ڈویلپنگ سیکھنے میں 6ماہ کا عرصہ لگا جس کے بعد میں یہ ایپلی کیشن بنانے میں کامیاب ہوئی۔ اس ایپلی کیشن پر عمر رسیدہ افراد ایک دوسرے کے ساتھ گیمز کھیل سکیں گے۔واضح رہے کہ ماساکوواکامیا کی تخلیق کردہ ایپلی کیشن کا نام Hinadanہے جس میں جاپان کے روایتی کھیل بھی شامل کیے گئے ہیں۔