’میں اپنے بیٹے کی موت کا ذمہ دار خود کو سمجھتاہوں کیونکہ ہم نے اپنی بہو کے ساتھ یہ حرکت کی جسے ہمارا بیٹا برداشت نہیں کر سکا اور پھر ہم نے ۔۔۔‘ 65سالہ باپ نے ایسی کہانی سنا دی کہ جان کر آپ کیلئے بھی آنسو روکنا مشکل ہو جائے گا

ڈیلی بائیٹس

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن )ماں باپ ہمیشہ ہی اپنی اولا د کیلئے اچھا فیصلہ کرتے ہیں لیکن کبھی کبھی وہ بچوں کی محبت میں ان سے پوچھے بغیر یا دباوڈ ال کر ایسے فیصلے کر گزرتے ہیں جن کے باعث بچوں کی زندگی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتاہے ۔تاہم ایسا ہرگز نہیں کرنا چاہیے کیونکہ بچوں کی مرضی کے بغیر ان کی زندگی کے بڑے فیصلے ان پر بری طرح اثر انداز ہو سکتے ہیں ۔
اسی طرح کا ایک واقعہ ایک باپ نے نجی اخبار کو سنایاہے جس اس 65سالہ شخص کا کہناہے کہ اس کے تین بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں، ان کے سب سے چھوٹے بیٹے نے کچھ ماہ قبل خود سوزی کر کے زندگی کا خاتمہ کر لیا اور میں سمجھتاہوں اس کے اس اقدام کی وجہ میں ہوں ۔

مزیدپڑھیں:بھارتی رہنماءکی بھتیجی نے شوہر کو قتل کر دیا، گاڑی کی چابیاں گم ہونے کے باعث لاش ٹھکانے لگانے میں ناکام، پولیس نے گرفتار کر لیا
اس کا کہناتھاکہ ہم نے اپنے بیٹے کی شادی چارماہ قبل اپنی پسند کی ایک لڑکی سے کروائی جس کے ساتھ وہ بہت خوش تھا ،ہم سب ایک ہی گھر میں اکھٹے رہتے تھے اور ہماری بہو کیلئے ہماری فیملی میں ایڈجسٹ ہونا آسان نہیں تھا جبکہ میری بیوی ایک انتہائی سخت مزاج کی خاتون ہے اور اس کا رویہ بھی بہو کے ساتھ ٹھیک نہیں تھا ۔
لیکن ایک سال بعد ہماری بہو اس تمام معاملے سے عاجز آگئی اور وہ اپنے والدین کے پاس واپس چلی گئی جس پرہم نے اسے راضی کرنے کیلئے پوری کوشش کی لیکن لڑکی کے اہل خانہ کا مطالبہ تھا کہ میاں بیوی کو علیحدہ گھر لے کردیا جائے تاکہ وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ علیحدہ زندگی بسر کر سکے لیکن ہم نے یہ مطالبہ ٹھکرا دیا جس پر لڑکی نے طلاق لے لی ۔
ہمارا بیٹا اپنی بیوی سے بے پناہ محبت کرتھا اور اس کی جدائی میں بہت پریشان رہتاتھا اور اسی طرح وہ ڈپریشن میں چلا گیا ،ہم نے اسے کچھ ڈاکٹرز کو بھی چیک کروایا لیکن کچھ بہتر نہیں ہو سکا ۔ہم نے سوچا اگر اس کی شادی کروا دی جائے تو یہ واپس زندگی میں آ سکے گا اور ہم نے ایک سال بعد اس کی شادی کروا دی لیکن وہ اس کیلئے تیار نہیں تھا کیونکہ وہ اپنی سابقہ بیوی کو بھلا نہیں پا رہا تھا ۔میں نے اپنے خاندان سمیت اس پر دباﺅ ڈالا اور باور کروایا کہ ہمارا فیصلہ حتمی ہے ۔
لیکن اس کا نتیجہ ایسا نہیں نکلا جیسا ہم نے سوچا تھا کیونکہ وہ ٹھیک ہونے کے بجائے زیادہ دماغی طور پر پریشان رہنے لگا کیونکہ وہ اپنی نئی بیوی کو پسند نہیں کرتا تھا جبکہ وہ اپنی سابق اہلیہ کی یادوں میں کھویا رہتا تھا ۔ایک دن اس نے اپنی نئی بیوی کو سابقہ بیوی کیلئے احساسات کے بارے میں بتایا جس پر وہ اسے چھوڑ کر اپنے گھر چلی گئی ہمیں پتہ چلا کہ وہ ماں بننے والی ہے جس پر ہم نے اپنے بیٹے پر دباو ڈالا کہ وہ اسے گھر واپس لے کر آئے لیکن اس نے انکار کر دیا ۔ہم نے ایک بار پھر اس پر دباﺅ ڈالا اور اس نے تنگ آ کر رات میں زہر پی لیا ۔ہمیں اس کی لاش صبح کمرے میں پڑی ملی ۔
بیٹے کی موت کا صدمہ اس کی ماں برداشت نہیں کرپائی اور وہ معذور ہو گئی جبکہ وہ اب بھی روز اس کی یاد میں آنسو بہاتی ہے اور میں بیٹے کی موت کا ذمہ دار خود کو سمجھتاہوں ۔اگر ہم اسے اپنی بیوی کو گھر واپس لانے کیلئے دباﺅ نہیں ڈالتے تو وہ آج ہمارے ساتھ زندہ ہوتا ۔