دنیا کے سب سے بدنصیب میاں بیوی، 33 سال دنیا کے قیمتی ترین خزانے کو گھر میں رکھا اور پھر اسے بے وقعت سمجھ کر عطیہ کردیا، یہ کیا چیز تھی؟ جان کر آپ کو بھی ان کی قسمت پر رونا آجائے گا

ڈیلی بائیٹس

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ میں ایک میاں بیوی نے اپنا فیملی پیانو کئی سال تک اپنے پاس رکھنے کے بعد ایک کالج کو عطیہ کر دیا۔کالج نے پیانو کی مرمت کے لیے کاریگر بلایا تو اس میں ایسی چیز کی موجودگی کا انکشاف ہو گیا کہ بیچارے میاں بیوی کفِ افسوس ملتے رہ گئے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق میگ اور گراہم ہیمنگز نامی میاں بیوی کے پاس یہ فیملی پیانو 33سال تک رہا جو انہوں نے کچھ عرصہ قبل اٹھا کر بشپ کاسل کمیونٹی کالج کو عطیہ کر دیا۔ کالج کی انتظامیہ نے پیانو کو ٹھیک کروانے کے لیے کاریگر بلالیا۔ جب کاریگر نے پیانو کو کھولا تو اس میں سے سونے کے 913قدیم سکے برآمد ہوگئے جن کی مالیت 5لاکھ پاﺅنڈ (تقریباً 6کروڑ 71لاکھ روپے) تھی۔

شادی کی تقریب میں دلہن کی مہمانوں کے ساتھ ایسی حرکت کہ تمام لوگ خون کے آنسو رونے لگے
رپورٹ کے مطابق یہ سکے 1847ءسے 1915ءکے درمیانی عرصے سے تعلق رکھتے تھے۔ برٹش میوزیم نے ان سکوں کے تاریخی ہونے کے باعث ان کی ملکیت کا دعویٰ کر دیا ہے لیکن اسے سکے حاصل کرنے کے لیے کاریگر اور کالج کو ادائیگی کرنی ہو گی۔ برطانیہ میں ملنے والے خزانے کے متعلق 1996ءمیں ایک قانون بنایا گیا تھا جس کے مطابق جو شخص خزانہ دریافت کرے گا اس کا آدھا حصہ اسے ملے گا۔ اس قانون کی مہربانی سے آدھی رقم پیانو کے اس کاریگر کو ملے گی جس نے یہ سکے دریافت کیے جبکہ باقی کالج کو دی جائے گی، جبکہ اسے عطیہ کرنے والی ہیگ اور اس کے شوہر گراہم کو پھوٹی کوڑی بھی نہیں ملے گی۔برٹش میوزیم کے ترجمان کے مطابق ممکنہ طور پر یہ سکے 75سال قبل پیانوکے اندر چھپائے گئے تھے۔