’جو شادی شدہ جوڑے اپنی شادی کے دن یہ کام نہ کریں اُن کی طلاق کا خطرہ حد سے زیادہ ہوتا ہے‘ سائنسدانوں نے انتہائی حیران کن انکشاف کردیا، شادی کرنے والے لڑکے لڑکیوں کو خبردار کردیا

ڈیلی بائیٹس

لندن (نیوز ڈیسک) برطانیہ کی مشہور لاءفرم سلیٹر اینڈ گورڈن نے ایک دلچسپ تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ طلاق سے دوچار ہونے والے نصف سے زائد افراد کو اپنی شادی کے دن ہی شکوک و شبہات نے گھیر رکھا تھا کہ انہیں یہ کام کرنا بھی چاہیے یا نہیں، لیکن اس کے باوجود انہوں نے زبان نہیں کھولی اور بالآخر نتیجہ طلاق کی صورت میں نکلا۔
دی مرر کی رپورٹ کے مطابق اس تحقیق میں 1600 طلاق یافتہ افراد سے بات چیت کی گئی جن میں سے 52 فیصد نے اعتراف کیا کہ شادی کے دن ہی وہ اس پریشانی میں مبتلا تھے کہ یہ بندھن چل نہیں پائے گا۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ کاش اس وقت ہی فیصلہ کر لیتے تو بعد کی تلخی اور طلاق کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔

فیس بک پر دوستی، نوجوان لڑکی لڑکے سے ملنے گاﺅں سے شہر آگئی، لیکن پھر اسے دیکھتے ہی لڑکے نے کیا کام کیا؟ کبھی خوابوں میں بھی نہ تصور کیا تھا کہ۔۔۔
تحقیق میں شامل 48فیصد افراد کا کہنا تھا کہ انہوںنے شکوک و شبہات کے باوجود یہ سوچ کر خاموشی اختیار کئے رکھی کہ شاید سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔ اسی طرح 33 فیصد کا کہنا تھا کہ وہ شادی پر اتنے بھاری اخراجات کرچکے تھے کہ اسے منسوخ کرنے کی ہمت نہیں کرپائے۔ 16 فیصد کا کہناتھا کہ انہوں نے سوچا کہ اس موقع پر شریک حیات کو اپنی ناامیدی کے بارے میں بتانا اس کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ وہ اہم ترین وجوہات جن کی بناءپر یہ افراد بروقت بول نہیں پائے درج ذیل ہیں:
-1 یہ سوچ کر کہ سب ٹھیک ہوجائے گا۔
-2 اب بہت دیر ہوچکی، واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔
-3 شکوک و شبہات کو محض شادی کی وجہ سے ہونے والا ذہنی دباﺅ سمجھا۔
-4 چاہنے کے باوجود دل جدا ہونے پر تیار نہیں تھا۔
-5 خاندانی دباﺅ تھا۔
-6 شریک حیات کو صدمہ پہنچانا مناسب نہیں سمجھا۔
-7 یہ سوچ کرکہ شادی کے بعد اس رشتے میں دلچسپی پیدا ہوجائے گی۔
-8 شادی منسوخ کرنے کا خیال بہت خوفناک محسوس ہورہا تھا۔
-9 بچوں کے بارے میں سوچ کر خود کو شادی کے لئے تیار کرلیا۔
-10 یہ سوچا کہ اس موقع پر شادی منسوخ ہونے کا اعلان کیا تو کتنی شرمندگی کی بات ہوگی۔