یہ خواتین اس طرح قبروں میں کیوں لیٹی ہیں؟ یہ مردہ نہیں بلکہ ۔۔۔ اصل وجہ ایسی کہ جان کر آپ کی ہنسی نہ رُکے گی

ڈیلی بائیٹس

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) طلاق کا صدمہ یقیناًکسی بھی عورت کے لیے زندگی کا سب سے سخت صدمہ ہو سکتا ہے اور اس سے پیچھا چھڑانا اتنا آسان نہیں ہوتا مگر چین میں مطلقہ خواتین نے اس صدمے سے جان چھڑانے کا ایک ایسا طریقہ دریافت کر لیا ہے کہ جان کر آپ کے لیے ہنسی روکنا مشکل ہو جائے گا۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق اس طریقے کے تحت خواتین کے لیے قبریں کھودی جاتی ہیں جن میں لیٹ کر وہ غوروفکر کرتی ہیں اور خود کو دنیا کی بے ثباتی کا یقین دلا کر طلاق کے دکھ سے نکلنے کی کوشش کرتی ہیں۔

رینجرز کے5ونگ 60 روز کیلئے پنجاب کے مختلف شہروں میں تعینات ،نوٹیفکیشن جاری

رپورٹ کے مطابق یہ طریقہ چین کے جنوب مغربی شہر چونگ کنگ کی رہائشی 30سالہ خاتون لیو تائی جئے نے دریافت کیا تھا جب اسے طلاق ہوئی تھی۔ اس کے بعد اس نے دیگر مطلقہ خواتین کو اس طریقے کی طرف راغب کیا اور اب شہر میں یہ طریقہ باقاعدہ ایک رسم کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ہر سال نئی طلاق یافتہ خواتین ایک جگہ اکٹھی ہوتی ہیں جہاں ان کے لیے تعداد کے تناسب سے قبرنما گڑھے کھودے جاتے ہیں۔ گڑھے میں پلاسٹک کی شیٹ بچھائی جاتی ہے جس کے اوپر خواتین لیٹ جاتی ہیں۔ ان کی آنکھیں بند اور ہاتھ عبادت کی حالت میں ہوتے ہیں اور وہ لیٹی ہوئی غوروفکر کرتی رہتی ہیں۔


لیوتائی کا کہنا تھا کہ ’’مجھے اپنی طلاق پر شدید صدمہ ہوا جس سے نکلنے میں مجھے بہت وقت لگا۔ یہی وجہ ہے کہ میں اس صدمے سے دوچار دیگر خواتین کی مدد کرتی ہوں۔ جس طریقے سے میں نے اپنا غم بھلایا اس میں اب میں ان کی مدد کرتی ہوں۔‘‘اس طریقے کے پس پردہ فلسفے کو بیان کرتے ہوئے لیوتائی نے کہا کہ ’’جب کوئی شخص دکھ میں مبتلا ہوتا ہے اور مایوس ہوتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ گویا وہ مرنے جا رہا ہے۔ ان قبروں میں لیٹ کر یہ خواتین موت کا تجربہ حاصل کرتی ہیں۔اس سے انہیں زندگی کی قدر معلوم ہوتی ہے۔ انہیں احساس ہوتا ہے کہ ابھی انہوں نے اور بہت کام کرنے ہیں۔ ان کے دل میں اپنے دیگر رشتوں کا احساس بیدار ہوتا ہے جو طلاق کے صدمے میں کہیں دب چکا ہوتا ہے۔ چنانچہ وہ ماضی کو بھول کر ایک نئی زندگی شروع کرنے کے لیے ذہنی طور پر آمادہ ہو جاتی ہیں۔‘‘