سام سنگ کے سربراہ کی شرمناک حرکتیں منظر عام پر آگئیں، اس کام میں کمپنی کیسے مدد کرتی رہی؟ ایسا انکشاف منظر عام پر کہ ہنگامہ برپاہوگیا

ڈیلی بائیٹس

سیول (نیوز ڈیسک) بین الاقوامی شہرت یافتہ ٹیکنالوجی کمپنی سام سنگ کے سربراہ لی کن ہی ایک ایسے جنسی سکینڈل میں پھنس گئے ہیں کہ جس نے جنوبی کوریا کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں تہلکہ مچادیا ہے۔ جنوبی کوریائی میڈیا ہاﺅس نیوز تاپا نے دو روز قبل لی کن ہی کی قابل اعتراض ویڈیوز جاری کردی ہیں جن میں وہ متعدد جسم فروش خواتین کے ساتھ اپنے گھر پر وقت گزارتے نظر آتے ہیں۔ نیوز تاپا کا کہنا ہے کہ ویڈیو میں نظر آنے والا گھر سام سنگ کے سربراہ کی جنوبی سیول میں واقع رہائش گاہ ہے۔
ان ویڈیوز میں لی کن ہی کو خواتین کے ساتھ معاملات طے کرتے اور رقم کی ادائیگی کرتے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ ایک ویڈیو میں کچھ خواتین رقم سے بھرے لفافے قبول کرتی نظر آتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان میں سے ہر لفافے میں 4400 ڈالر (تقریباً ساڑھے چار لاکھ پاکستانی روپے) تھے۔

’دنیا کا وہ علاقہ جہاں بالغ ہوتے ہی لڑکی کا ایڈز زدہ شخص سے ریپ کروایا جاتا ہے کیونکہ۔۔۔‘
ویڈیو شائع کرنے والے ادارے کا کہنا ہے کہ سام سنگ کے سربراہ کی یہ سرگرمیاں کئی سال سے جاری تھیں اور کمپنی اپنے سربراہ کے کرتوتوں پر پردہ ڈالنے کے لئے ان کے لئے جنسی خدمات حاصل کرتے ہوئے دیگر اہم شخصیات کے نام استعمال کرتی رہی۔
سام سنگ گروپ کی جانب سے گزشتہ روز جاری کئے گئے ایک بیان میں کہا گیا کہ کمپنی اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتی کیونکہ یہ ایک ذاتی معاملہ ہے ۔ دوسری جانب تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں پھیلی ہوئی سام سنگ کمپنی کے سربراہ پر لگنے والے شرمناک الزامات نے اس ادارے کی شہرت کو بہت بڑا دھچکا پہنچایا ہے، جس کے اثرات اس کی کاروباری ساکھ پر بھی پڑیں گے۔