کھدائی کے دوران ماہرین کو اسرائیل میں 2700 سال پرانا ڈیم مل گیا لیکن اس کی دیواروں پر کیا لکھا تھا؟ دیکھ کر ہر کسی کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا

ڈیلی بائیٹس

تل ابیب(مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیل میں وزارت تعمیرات کے زیرانتظام ایک رہائشی علاقے میں کھدائی کا کام جاری تھا کہ نیچے سے ایسی چیز برآمد ہو گئی جسے دیکھ کر ماہرین آثار قدیمہ بھی ششدر رہ گئے۔ بزنس انسائیڈر کی رپورٹ کے مطابق ’روش حاعین‘ کے علاقے میں کھدائی کے دوران نیچے سے 2700سال قدیم پانی کا وسیع و عریض ذخیرہ برآمد ہواجس کا تعلق قدیم ’اسیرین سلطنت‘ کے زمانے سے ہے۔وزارت تعمیرات نے قدیم ڈیم کو دیکھ کر محکمہ آثار قدیمہ کو اطلاع دی جس کے ماہرین نے آ کر اس کی قدامت اور تاریخی اہمیت کا انکشاف کیا۔

9 سالہ بچہ چلتے چلتے اچانک گرگیا اور پھر جب اُٹھا تو کروڑوں کی چیز ہاتھ میں پکڑرکھی تھی، کیا تھا؟ جان کر آپ بھی کہیں گے قسمت ہو تو ایسی۔۔۔
محکمہ آثار قدیمہ کے عہدیدار گیلاڈ اتاش کا کہنا تھا کہ ”پانی کا یہ ذخیرہ پتھروں کو توڑ کر بنایا گیا ہے اور اس کی دیواروں پر اس زمانے کے نقش و نگار بنے ہوئے ہیں، جن میں انسانی جسموں کے خاکے بھی شامل ہیں۔ تاحال اس ذخیرے میں پانی کی کافی مقدار موجود تھی جو اب ناقابل استعمال ہو چکی ہے۔ اس علاقے میں بارشیں بہت کم ہوتی ہیں۔ ماہرین نے بتایا ہے کہ قدیم زمانے کے لوگ بارش کا پانی اس ذخیرے میں جمع کر کے خشک سالی میں استعمال کرتے تھے۔غالب امکان ہے کہ یہ ذخیرہ لوہے کے دور کے اختتام پر 7ویں صدی قبل مسیح سے 8ویں صدی قبل مسیح کے دوران بنایا گیا تھا، تاہم یہ دورجدید تک استعمال ہوتا رہا ہے۔“