ہنی مون پر جانے والا نوبیاہتاجوڑا فلائٹ کیلئے ایئرپورٹ پہنچا تو ائیرلائن نے ایسا بے مثال تحفہ دے دیا کہ زندگی کی سب سے بڑی خوشی مل گئی، ایسا کیا تھا؟ جان کر ہر شادی شدہ شخص کا دل کرے گا ابھی ٹکٹ کٹا لیں

ڈیلی بائیٹس

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) لندن سے ایک نوبیاہتا جوڑا ہنی مون منانے کے لیے ہیتھرو ایئرپورٹ پر پہنچا، انہوں نے برٹش ایئرویز کی ایک پرواز میں اکانومی کلاس کے ٹکٹ بک کروا رکھے تھے مگر جب وہ ایئرپورٹ پر پہنچنے تو ایئرلائنز کی طرف سے انہیں ایسا سرپرائز مل گیا کہ انہوں نے زندگی میں ایسی خوشی نہ سوچی ہو گی۔

نوجوان لڑکی نے سوشل میڈیا پر تصویر لگاتے ہوئے اپنی ماں کو اس میں سے ’کاٹ‘ دیا، اس پر والدہ نے آگے سے ایک بات ایسی کہہ دی کہ پوری دنیا بے اختیار داد دینے پر مجبور ہوگئی، لڑکی شرم سے پانی پانی ہوگئی
میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق برٹش ایئرویز کی طرف سے ٹام بورین اور اس کی اہلیہ ہینا بورین کی سیٹیں اکانومی سے اپ گریڈ کرکے انہیں فرسٹ کلاس میں جگہ دی گئی۔ یہی نہیں، بلکہ نیویارک، جہاں وہ ہنی مون منانے جا رہے تھے، میں ان کے لیے بارکلے ہوٹل میں ایک لگژری ”پریزیڈنشل سوٹ“ بھی بک کروا دیا جس کا ایک رات کا کرایہ 30ہزار ڈالر (تقریباً 30لاکھ روپے) تھا۔ 3400مربع فٹ کے اس سوٹ میں جم، لائبریری آفس اور گرانڈ پیانو سمیت ایسی سہولیات موجود تھیں۔ اپنے ہنی مون پر ایسی لگژری رہائش کا ٹام اور ہینا نے زندگی میں نہیں سوچا تھا۔


رپورٹ کے مطابق برٹش ایئرویز کی طرف سے ٹام اور ہینا کو یہ سرپرائز اس لیے دیا گیا کہ شادی کے بعد ان کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی جو ایک مہلک مرض میں مبتلا تھی اور اسے ہسپتال میں داخل کروانا ناگزیر تھا۔ بیٹی کے علاج کی وجہ سے وہ دونوں ہنی مون پر نہ جا سکے۔ علاج کے بعد جب ان کی بیٹی صحت مند ہو کر گھر واپس آ گئی تو انہوں نے ہنی مون پر نیویارک جانے کا پروگرام بنالیا۔ ان کی اس کہانی سے متاثرہو کر برٹش ایئرویز کی طرف سے انہیں ہنی مون کا یہ تحفہ دیا گیا۔

برٹش ایئرویز نے 2017ءمیں ایئرلائنز کے ساتھ سفر کرنے کے خواہش مندوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی ایسی ہی کہانیاں بھیجیں، جن میں سے کچھ منتخب خوش نصیبوں کو یہی تحفہ دیا جائے گا۔ اس تجربے کے متعلق ہینا بورین کا کہنا تھا کہ ”ایئرلائنز نے ہمارے لیے جو سوٹ بک کروایا وہ ہمارے گھر سے بھی بڑا تھا۔ ہم پہلی بار اپنی بیٹی کو گھر چھوڑ کر کچھ وقت ایک ساتھ گزارنے نکلے تھے۔ برٹش ایئرویز نے ہمارے اس سفر کو یادگار بنا دیاہے۔“