’میں 9 دن کے لئے جنگل میں گم ہوگیا، کچھ بھی کھانے پینے کو نہ تھا لیکن ایک دن اچانک ایک بندر نمودار ہوا اور مجھے ایسی جگہ لے گیا کہ۔۔۔‘ جنگل میں لاپتہ ہونے والے شہری نے واپسی پر بندروں کا ایسا کارنامہ سنادیا کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا

ڈیلی بائیٹس

سکرے(مانیٹرنگ ڈیسک) ایمازون کے جنگلات دنیا کے بڑے قدرتی جنگلوں میں شمار ہوتے ہیں جن میں اگر کوئی کھو جائے تو اس کا زندہ باہر نکلنا محال ہوتا ہے۔9روز قبل ایک سیاح بولیویا میں ایمازون کے ان جنگلات میں کھو گیاتھا، جسے گزشتہ روز تلاش کر لیا گیا ہے۔ ان 9دنوں کے دوران وہ کس طرح زندہ رہا، کیا کھاتا پیتا رہا؟ اس حوالے سے اس نے ایسے حیران کن انکشافات کیے ہیں کہ ہر سننے والے کی آنکھیں حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ جائیں۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق 25سالہ میکول کوروسیو اکونا نامی اس نوجوان نے تلاش کیے جانے کے بعد بتایا ہے کہ ”جنگل میں بندروں نے اس کی رہنمائی کی اور اسے پھلوں اور پانی کے ذخیرے تک پہنچایا جس کی وجہ سے وہ زندہ رہا۔“

دنیا کے معروف ترین جنگل میں مقیم قبیلے پر تحقیق، ڈاکٹروں نے ان کے دلوں کا معائنہ کیا تو ایسی چیز مل گئی کہ ہر کوئی دنگ رہ گیا، وہ چیز جو دنیا میں مقیم اور کسی کے دل میں نہیں
میکول نے بتایا کہ ”میں دو دن تک بھوکا پیاسا رہا۔ میں نے بہت تلاش کی مگر مجھے کھانے کی کوئی چیز ملی نہ پینے کو پانی۔ تیسرے روز اچانک وہاں کچھ بندر نمودار ہوئے اور ایک طرف کو چلنا شروع کر دیا۔ میں ان کے پیچھے چلنے لگا۔ کافی دور جا کر میں نے دیکھا کہ وہاں کچھ جنگلی پھلوں کے درخت موجود تھے اور پانی کا ایک ذخیرہ بھی تھا۔ وہاں بندر درختوں پر چڑھ گئے اور پھل توڑ توڑ کر نیچے گرانے لگے جو میں اٹھا کر کھانے لگا۔ اگر میں اس روز بندروں کے پیچھے نہ چلتا تو آج میں زندہ نہ ہوتا۔“ واضح رہے کہ میکول میکسیکو سے آنے والے سیاحوں کے ایک گروپ کے ساتھ یہاں آیا تھا اور پھر ایک رات اچانک لاپتہ ہو گیا۔ ریسکیو ٹیموں نے 9روز کی تگ و دو کے بعد اسے تلاش کیا ہے۔