’یہ ایک کام فوری بند کردو‘ پاکستان کا سب سے طاقتور خواجہ سرا اُٹھ کھڑا ہوا، ایسا تہلکہ خیز مطالبہ کردیا کہ تمام خواجہ سرا بھی دنگ رہ گئے

ڈیلی بائیٹس

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)خواجہ سراﺅں میں ان کے ’گرو‘ کا مقام والدین سے بھی کچھ بڑھ کر سمجھا جاتا ہے جو معاشرے کے ٹھکرائے (خواجہ سرا)بچوں کو لے کر پالتا ہے اور ان کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ اب خواجہ سراﺅں ہی کے ایک طاقتور فرد نے ان گروﺅں کے خلاف آواز بلند کر دی ہے اور اپنی کمیونٹی کو نصیحت کی ہے کہ انہیں گروﺅں کا یہ نظام ختم کر دینا چاہیے۔برطانوی اخبار دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق خواجہ سراﺅں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی تنظیم کے صدر ندیم کشش کا کہنا ہے کہ ”یہ گرو خواجہ سراﺅں کی دیکھ بھال کرنے کی بجائے انہیں جسم فروشی کے دھندے پر لگاتے ہیں اور ان سے گلیوں میں گداگری کرواتے ہیں۔ گروﺅں کے اس کلچر کو ختم کرنے کے لیے ہمیں خواجہ سراءبچوں کو ان کے ہاتھوںمیں جانے سے بچانا ہو گا۔“ اس کا مزید کہنا تھا کہ ”پاکستان میں خواجہ سراﺅں کی زندگی بہت کٹھن ہے۔ ہمارا مالی و جسمانی استحصال کیا جاتا ہے اور ہم سب کو ہی جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ بچوں کو گروﺅں سے بچانے کے لیے ہمارے معاشرے کو بھی اپنی اصلاح کرنی ہو گی۔

3 خواتین ایک ایسی شرمناک چیز اٹھا کر شہر کی سڑکوں پر نکل آئیں کہ ملک میں ہنگامہ ہوگیا، غیر مسلموں کا بھی صبر جواب دے گیا
ندیم کشش کے اس بیان پر خواجہ سراﺅں کے گروﺅں کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ راولپنڈی کی ایک شیزا نامی گرو کا کہنا تھا کہ ”یہ چھوٹے چھوٹے تھے جب میرے گھر آئے تھے۔ میں نے انہیں کھلایا پلایا اور بڑا کیا۔ انہیں تحفظ دیا۔ اب یہ بڑے ہو گئے ہیں تو میں نے انہیں کہہ دیا ہے کہ اب خود کمائیں۔“شیزا کے گروپ میں شامل 30سالہ خواجہ سراءبجلی کا کہنا تھا کہ ”جب مجھے میرے گھروالوں نے گھر سے نکال دیا تھا تو میں بالکل بے آسرا تھی۔ میرے گرو نے مجھے بہت پیار دیا اور میرے والدین سے بڑھ کر میری دیکھ بھال کی۔ اب وہ بوڑھا ہو گیا ہے تو میں سمجھتی ہوں کہ مجھے بھی اس کی مدد کرنی چاہیے۔“
رپورٹ کے مطابق اس وقت ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں خواجہ سراﺅں کی تعداد 5لاکھ کے لگ بھگ ہے جن کی اکثریت شادیوں اور میلوں میں رقص کرکے اور گلیوں میں بھیک مانگ کر گزارہ کرتی ہے۔ قدامت پسند پاکستانی معاشرے میں ان کے ساتھ صنفی امتیاز کا برتاﺅ عام بات ہے اور ہر جگہ انہیں حقیر سمجھا جاتا ہے۔گزشتہ ماہ انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو بہت وائرل ہوئی تھی جس میں کچھ غنڈے ایک خواجہ سراءکو برہنہ کرکے اس پر تشدد کر رہے ہوتے ہیں۔ رواں سال مئی میں پشاور میں ایک خواجہ سراءکو گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ اس کے ساتھی خواجہ سراءنے بعدازاں کہا تھا کہ اسے ہسپتال میں مناسب طبی امداد بھی نہیں دی گئی تھی۔ جہاں ڈاکٹروں نے اس کا علاج زنانہ وارڈ میں کرنے سے انکار کر دیا تھا۔