ضرورت رشتہ کی ویب سائٹ کا شرمناک ترین استعمال کرنے والا نوجوان، شوہر کی تلاش کرنے والی مسلمان لڑکیوں کے ساتھ کیا انتہائی شرمناک کام کرتا تھا؟ ایسا انوکھا ترین طریقہ کہ انسانی عقل دنگ رہ جائے

ڈیلی بائیٹس

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ میں ایک نوجوان نے ضرورت رشتہ کی ویب سائٹ کا انتہائی شرمناک استعمال کرتے ہوئے تین مسلمان لڑکیوں کی زندگیاں برباد کر ڈالی ہیں۔ برطانوی اخبار دی مرر کی رپورٹ کے مطابق 38سالہ فرحان مرزا نامی یہ شخص خود کو ڈاکٹر ظاہر کرکے ویب سائٹ پر شادی کی خواہش مند لڑکیوں کو اپنے جال میں پھانستا۔ اس نے خواتین کو اپنے ڈاکٹر ہونے کا یقین دلانے کے لیے اپنے گھر میں ڈاکٹروں کے مخصوص ملبوسات رکھے ہوئے تھے اور گاڑی میں ہمیشہ ایک سٹیتھوسکوپ بھی رکھتا تھا، درحقیقت وہ ایک ٹیکسی ڈرائیور تھا اور ساﺅتھ ویلز کے شہر ابرٹیلری میں اپنے والدہ کے ساتھ رہائش پذیر تھا۔


رپورٹ کے مطابق ملزم خواتین کو پھانس کر ان سے جنسی تعلق استوار کرتا اور خفیہ طور پر اس عمل کی ویڈیوبنا لیتا، جس کے بل پر وہ بعدازاں خواتین کو بلیک میل کرکے ان سے رقم ہتھیاتاتھا۔ وہ انہیں ویڈیو انٹرنیٹ پر پوسٹ کرنے اور ان کے دوستوں اور ساتھی ورکرزکو دینے کی دھمکی دیتا جس پر لڑکیاں اور ان کے گھر والے اسے رقم دینے پر مجبور ہو جاتے۔ اس نے اپنے اس مکروہ دھندے کے لیے ویب سائٹ Shaadi.comکے ذریعے لڑکیوں کو پھنسایا۔ رپورٹ کے مطابق اس کا شکار ہونے والی تیسری لڑکی اعلیٰ تعلیم یافتہ اور بہت اچھے عہدے پر تھی۔ اس نے پولیس کو اس کی رپورٹ کر دی۔ جب پولیس نے تفتیش کی تو دیگر دو لڑکیوں کا بھی انکشاف ہوا جنہیں یہ برباد کر چکا تھا۔ اس لڑکی کا کہنا تھا کہ ”اس شخص نے مجھے بتایا تھا کہ وہ ڈاکٹر ہے، اس کا ایک بھائی ہیتھروایئرپورٹ پر سکیورٹی کا سربراہ اور اس کا باپ پاکستان میں ایک یوٹیلٹی کمپنی کا ڈائریکٹر ہے۔ یہ سب جھوٹ تھا۔“
لڑکی نے تفتیش کاروں کو مزید بتایا کہ ”ایک روز میں نے اس کے کمپیوٹر تک رسائی حاصل کر لی اور یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ اس میں سینکڑوں فحش فلمیں موجود تھیں۔ ان فلموں میں کوئی اور نہیں بلکہ وہ خود کئی لڑکیوں کے ساتھ جنسی عمل میں مشغول ہوتا۔ یہاں کئی میری ویڈیوز بھی موجود تھیں۔ تب مجھے احساس ہوا کہ اس نے کمرے میں خفیہ کیمرے نصب کر رکھے تھے۔“ملزم کے خلاف بلیک میلنگ، خواتین کی فحش فلمیں بنانے، ان پر جنسی حملہ کرنے اور دھوکہ دہی کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جس کی سماعت جاری ہے۔