’مکان کی جگہ نوجوان لڑکی کا گینگ ریپ۔۔۔‘ قصورمیں ایسا خوفناک ترین واقعہ کہ سن کر ہی انسان کی روح کانپ اُٹھے

ڈیلی بائیٹس

قصور(مانیٹرنگ ڈیسک) قصور کے علاقے کوٹ رادھا کشن کے بعد اسی ضلع کے ایک گاﺅں میں ایک اور انسانیت سوز واقعہ پیش آ گیا ہے جہاں ایک زمیندار نے عیسائی خاندان کا گھر نذرآتش کر دیا ہے۔ ڈیلی پاکستان گلوبل کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ 23جنوری کو گاﺅں بہادر پورہ میں پیش آیا۔ ملزم بشارت علی دیگر ساتھیوں کے ہمراہ صبح سویرے رحمت مسیح کے گھر میں گھس گیا اور اسے آگ لگا دی۔ رحمت مسیح کی بیٹی اور نواسی اس وقت کمرے کے اندر سو رہی تھیں ۔ رحمت نے انہیں باہر نکالنے کی کوشش کی۔ وہ انہیں تو بچانے میں کامیاب ہو گیا لیکن اس دوران خود جھلس کر شدید زخمی ہو گیا۔ رحمت علی کی صدر پولیس سٹیشن میں درج کروائی گئی رپورٹ کے مطابق ملزم بشارت نے اپنے 4ساتھیوں کے ہمراہ 4ماہ قبل اس کی بیٹی ساجدہ کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بھی بنایا تھا اور ان کے جانور بھی چوری کروا دیئے تھے۔

وہ شہر جہاں رہنے والی 70 فیصد نوجوان لڑکیاں زندہ رہنے کیلئے جسم فروشی پر مجبور ہیں
رپورٹ میں بشارت علی نے درج کروایا ہے کہ مہینوں سے ملزمان کی طرف سے اسے اور اس کے خاندان کو مکان خالی نہ کرنے کی صورت میں قتل کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں اور اسی پاداش میں اس کی بیٹی کو بھی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ مسیحیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے فلاحی کارکن نپولین قیوم کا کہنا تھا کہ ”پولیس نے قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے لڑکی سے اجتماعی زیادتی کی رپورٹ درج کرنے سے انکار کر دیا تھا تاہم گھر کو آگ لگانے کے اس واقعے کی رپورٹ میں زیادتی کا واقعہ بھی درج کر لیا گیا ہے۔ لیکن اس کی رپورٹ اب بھی پی پی سی کے سیکشنز کے تحت درج نہیں کی گئی۔ پولیس ملزمان کو تحفظ دینے کے لیے ایسے حربے استعمال کر رہی ہے۔ ڈیلی پاکستان گلوبل سے گفتگو کرتے ہوئے متاثرہ لڑکی ساجدہ کا کہنا تھا کہ ”میرے ساتھ کئی ماہ قبل زیادتی کی گئی لیکن مجھ پر اور میرے گھر والوں پر خاموش رہنے کے لیے دباﺅ ڈالا جاتا رہا۔ ملزمان آواز اٹھانے کی صورت میں مجھے قتل کی دھمکیاں دیتے تھے۔ ملزمان بااثر ہیں اس لیے پولیس بھی ان کا ساتھ دے رہی ہے۔ وہ اب بھی ملزمان کے ساتھ مل کر مجھے تلاش کرتی پھر رہی ہے تاکہ معاملہ یہیں دبا دے۔ انہوں نے اب بھی دھمکی دے رکھی ہے کہ اگر میں معاملہ عدالت تک لے کر گئی تو وہ مجھے قتل کر دیں گے۔“