جناب چیف جسٹس کے ارشادات

اداریہ

تحریک انصاف کے رہنماؤں جناب عمران خان اور جناب جہانگیر ترین کے خلاف نااہلی کی درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس ثاقب نثار نے ارشاد فرمایا ہے:’’کہنا تو نہیں چاہتے تھے مگر بات نکلی تو بتا دیتے ہیں کہ عدالت کے باہر جو کچھ ہو رہا ہے، اس پر انتہائی صبرو تحمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔داد دیں کہ سب سنتے ہیں، لیکن انصاف سے نہیں ہٹتے۔کمال دیکھیں کہ باتیں ہو رہی ہیں، مگر ہم ٹس سے مس نہیں ہوتے۔دُنیا میں اجر ملے یا نہیں، صبرو تحمل پر آخرت میں مغفرت ضرور ہو گی۔کسی کے کہنے سے ہماری شان اور انصاف میں کمی نہیں آئے گی۔ایسی باتوں اور واقعات کو مقدمات پر اثر انداز نہیں ہونے دیں گے۔کسی کے لیے اپنے کام میں ڈنڈی کیوں ماریں۔ججوں اور عدلیہ کو جو عزت ملی،اِس سے زیادہ کوئی کیا دے سکتا ہے‘‘۔ یہ سب کچھ کہنے کے بعد جناب چیف جسٹس نے سوال فرمایا: ’’عدلیہ، آئین اور قانون کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کیا یہ تنقید حب الوطنی ہے؟‘‘
جنابِ چیف نے جو سوال اٹھایا ہے، اگر اسے موجودہ حالات سے الگ کر کے، اور خالصتاً اصولی انداز میں دیکھا جائے تو اس کا واضح دو ٹوک اور قطعی جواب یہی ہو گا کہ عدلیہ اور آئین کو نشانہ بنانا ہر گز ہر گز حب الوطنی نہیں ہے۔ ہم نے قانون کو اس مثلث سے الگ کر دیا ہے کہ کسی قانون پر تنقید کرنے سے حب الوطنی کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین بدلتے رہتے ہیں،ان کو کوئی آسمانی تقدیس حاصل نہیں ہوتی۔ہاں،یہ ضرور ہے کہ کسی بھی مہذب معاشرے میں توقع کی جاتی ہے کہ ہر شہری قانون کا احترام کرے، اس کی پابندی اور اگر اسے ناپسند ہو تو اس کی تبدیلی کے لیے آئینی ذرائع سے جدوجہد کرے۔کسی بھی قانون پر ایمان لانے کا کوئی ریاست مطالبہ کر سکتی ہے،نہ کبھی کیا گیا ہے۔جہاں تک آئین اور عدلیہ کا تعلق ہے تو ان کا غیر مشروط احترام لازم ہے۔ان کو نشانہ بنانا کسی طور پسندیدہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔آئین کسی بھی مُلک کی اساسی دستاویز ہے،اور عدلیہ اس کے نفاذ، اور اس کی تشریح و تعبیر کرنے کا سب سے آخری مجاز ادارہ ہے۔سپریم کورٹ شہریوں کے آئینی معاملات اور شہریوں اور ریاست کے درمیان پیدا ہونے والے تنازعات کو طے کرتی ہے، اور اس کی رائے کو حرفِ آخرسمجھا جاتا ہے۔حتمی ثالث کے طور پر اس کا وجود ہر جمہوری معاشرے کا لازمی حصہ ہے۔اگر اس کا احترام یا وقار ملحوظ نہ رکھا جائے تو پھر معاشرہ انتشار اور عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔لیکن ہم یہ بات بھی نہیں بھلا سکتے کہ پاکستان کی گزشتہ کئی دہائیوں میں آئین کو کئی بار پامال کیا گیا، اور ہماری عدلیہ اِس کی حفاظت کے لئے سینہ سپر نہیں ہو سکی۔آئین ہر ادارے (حتیٰ کہ عدلیہ سے بھی) بالاتر ہے، اور ہر ادارے کو اس کے تحت اپنے فرائض ادا کرنا ہوتے ہیں۔بدقسمتی سے جب آئین منسوخ یا معطل کیا گیا تو عدلیہ اُس کی حفاظت کے لئے اٹھائے گئے حلف کا پاس نہیں کر سکی۔اس نے بالا تراز آئین اقدامات کو نہ صرف تحفظ دیا،بلکہ آنے والوں کو آئین کی منشا کے خلاف، اس میں ترمیم کرنے کا بھی اختیار دے دیا۔ یہ البتہ درست ہے کہ نومبر2007ء میں کی جانے والی جنرل پرویز مشرف کی کارروائی کے خلاف عدلیہ نے سینہ تان لیا، اور موصوف کے جاری کردہ عبوری، آئینی حکم کو اٹھا کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا۔اس کے نتیجے میں سربلند جج صاحبان کو کڑی آزمائش سے دو چار ہونا پڑا،لیکن ان کے حق میں اُٹھنے والی عظیم الشان تحریک نے انہیں دوبارہ عدالت کے ایوانوں میں پہنچایا، اور تاریخ کا رخ بدل کر رکھ دیا۔
آج جبکہ جناب چیف جسٹس نے مذکورہ بالا ریمارکس دیے ہیں، تو عدالت سے باہر کا ماحول کسی بھی شخص کی نگاہ سے اوجھل نہیں ہے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف پر چلنے والے مقدمے کی کارروائی، اور ان کے خلاف صادر کیے جانے والے فیصلے نے ماحول کو گرما رکھا ہے۔عدالتی کارروائیوں کے دوران دیے جانے والے بعض ریمارکس اور فیصلے میں استعمال کیے جانے والے الفاظ نے نشانہ بننے والوں کے جذبات کو بھڑکا رکھا ہے۔ وہ ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں، اور یہ کہنا مشکل ہے کہ اس میں احتیاط کے تقاضے ملحوظ رکھے جا رہے ہیں۔نواز شریف کی طرف سے دائر کی جانے والی نظرثانی اپیل مسترد کرنے کے بعد جو تفصیلی حکم جاری کیا گیا ہے، اس کے لہجے اور بعض الفاظ نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔اس پر جو کچھ کہا جا رہا ہے اُسی پر جناب چیف جسٹس نے اپنے جذبات کو زبان دی ہے، ہم ان کے الفاظ کی قدر کرتے ہیں،لیکن ان سے مودبانہ گزارش کریں گے کہ وہ اس ماحول کو نظرانداز نہ کریں جس میں سب کچھ ہو رہا ہے۔یہ درست ہے کہ قانون سے کوئی بھی بالاتر نہیں۔وزیراعظم ہو یا کوئی اور، سب کو قانون کی پابندی کرنی چاہیے۔ اسے باندی بنانے کا حق کسی کو نہیں دیا جا سکتا۔۔۔لیکن اس بات پر بھی غور کرنا ہو گا کہ آئین کی ایسی تشریح و تعبیر جس سے کسی بھی شخص کے بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہوں،اور جسے اپیل کا کوئی حق بھی حاصل نہ ہو، کس حد تک مفید ہو سکتی ہے۔
جناب چیف جسٹس کے ریمارکس کی گونج ابھی فضا میں موجود ہی تھی کہ یہ خبر آ گئی کہ انہوں نے حدیبیہ پیپر ملز کے معاملے میں دائر کی جانے والی نیب کی درخواست کی سماعت کے لیے تین رکنی بنچ مقرر کر دیا ہے۔ اس کی سربراہی سپریم کورٹ کے وہ فاضل جج کریں گے جو اپنے فیصلے میں ’’گاڈ فادر‘‘ اور ’’مافیا‘‘ کے الفاظ استعمال کر چکے ہیں، اور جن کے زیر قیادت ایک فل بنچ کے اشارے ہی کی وجہ سے نیب نے مذکورہ درخواست دائر کی ہے۔ہم سپریم کورٹ کے ہر فاضل جج کا احترام کرتے ہیں،وہ یقیناًانصاف کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن یہ بھی تو کہتے ہیں کہ انصاف صرف ہونا ہی نہیں چاہیے،ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہئے۔فاضل چیف جسٹس اپنے دِل پر ہاتھ رکھ کر فیصلہ کریں کہ کیا اس حوالے سے احتیاط کے تقاضے ملحوظ خاطر رکھے جا رہے ہیں؟ اللہ کے حضور ہم سب کو پیش ہونا ہے، اور ہر شخص کو اپنے(نیک) اعمال کے لیے جزا کی امید رکھنی چاہیے۔ لیکن ٹس سے مس نہ ہونا بجائے خود کوئی نیکی نہیں ہے۔
ہم یہاں یہ بھی عرض کر دیں تو بے جا نہیں ہو گا کہ ہم نے بار بار اس طرف توجہ مبذول کرائی تھی کہ جب کوئی معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہو، تو پھر اہلِ سیاست اور اہلِ صحافت کو اس پر بحث و تمحیص بند کر دینی چاہیے لیکن اس آواز پر کسی نے کان نہ دھرے، اور خود سپریم کورٹ بھی اِس حوالے سے کوئی موثر حکم جاری نہیں کر سکی۔ نتیجتاً عدالتی کارروائی کو بھی جذبات بھڑکانے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا، اور اہلِ سیاست نے ایک دوسرے پر عدالت کے نام پر حملے جاری رکھے۔ عدالتی ریمارکس کو بھی اپنی اپنی آگ کا ایندھن بنا لیا گیا۔اس کے نتیجے میں ایسی فضا پیدا ہوئی،جس میں بہت کچھ پسندیدہ نہیں ہے۔جناب چیف جسٹس کے تاثرات اپنی جگہ قابلِ قدر ہیں، لیکن ہم مودبانہ ان کی خدمت میں عرض کریں گے کہ عدالت کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اس ماحول کو بدلنے میں موثر حصہ ڈالے۔اختیار کے استعمال کے ساتھ ساتھ احتیاط کے تفاضے بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہیں۔انصاف اندھا ہوتا ہے، لیکن منصف کو تو اللہ تعالیٰ نے آنکھیں عطا کر رکھی ہوتی ہیں۔
سپریم کورٹ کی روایت رہی ہے کہ انتہائی عوامی اہمیت کے معاملات کی سماعت فل کورٹ کرتی ہے۔اس کی خلاف ورزی کی مثالیں موجود ہیں،لیکن ان کے کوئی اچھے اثرات مرتب نہیں ہوئے۔ کیا مناسب نہیں ہو گا کہ وزیراعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے معاملات کی سماعت فل کورٹ کرے۔ اگر نااہلی کیس کی سماعت بھی اس طرح ہوتی تو(شاید) حالات مختلف ہوتے۔۔۔ جناب چیف جسٹس اب بھی معاملات کا جائزہ اس نقطہ نظر سے لے سکتے ہیں۔۔۔فیصلہ تو ان ہی نے کرنا ہے،لیکن اس کے اثرات محض ایک فرد یا ایک ادارے تک محدود نہیں ہوں گے۔