مظاہرے، دھرنے اور ٹریفک کا حال!

اداریہ


گزشتہ چند روز سے نہ صرف لاہور بلکہ راولپنڈی اور اسلام آباد کے جڑواں شہروں کے مکین اور ملازم ٹریفک جام کے ہاتھوں بہت زیادہ پریشان اور حکومت کی بے عملی پر احتجاج کررہے ہیں، لاہور میں یوں تو مجموعی طور پر ٹریفک پولیس کو ناکامی کاسامنا ہے اور ’’مصروف اوقات‘‘ کے دوران عام اور بڑی سڑکوں پر بھی ٹریفک کی بدنظمی ہوتی ہے اور جگہ جگہ رکی اور پھنسی نظر آئی ہے، تاہم شملہ پہاڑی کے ارد گرد اور کبھی کبھار شاہراہ قائد اعظم پر رکاوٹ کے باعث جو ٹریفک جام ہوتا ہے اس سے پورا شہر بری طرح متاثر ہوتا ہے، عام طور پر لاہور پریس کلب کے باہر مظاہرے اور دھرنے ہوجاتے ہیں، یہ ایک مرکزی گول دائرہ ہے جو چار سے چھہ سڑکوں کو ملاتا ہے چنانچہ جونہی مظاہرہ یا دھرنا والے ایک رخ پر ٹریفک روکتے ہیں تو تمام ملحقہ سڑکوں پر بھی رکاوٹ آجاتی ہے، اس سے کاروبار اور دفاتر جانے آنے والے حضرات پریشان ہوتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلباء و طالبات اور والدین کی بھی شامت آجاتی ہے حالانکہ خود ان تعلیمی اداروں میں چھٹی کے وقت گاڑیوں کے باعث ٹریفک بدنظمی کا شکار ہوتی ہے، عام شہری پریشان ہوتے ہیں۔ اسی طرح شاہراہ قائد اعظم پر فیصل چوک (چیئرنگ کراس) محبوب مقام ہے، دھرنا والے یہاں زبردستی دھرنا دے دیتے ہیں، شاہراہ شہر کی مرکزی سڑک ہے جو شمال اور جنوب کے علاوہ مشرق اور مغرب کے علاقوں کو بھی ملاتی ہے، یہاں سڑک بلاک ہوتو ذیلی سڑکیں بھی متاثر ہوتی ہیں اور قریباً پورا شہر ہی گاڑیوں کے اژدھام کا منظر پیش کرتا ہے، پولیس نے اس چوک کو محفوظ بنانے کے لئے پریس کلب کا راستہ دکھایا اور اب ہر دومقام متاثرہ ہیں۔
لاہور کی طرح اسلام آباد اور راولپنڈی والے بھی دھرنوں کی زد میں رہتے ہیں اور جب بھی یہاں دھرنا دیا جائے اثرات جڑواں شہروں پر مرتب ہوتے ہیں، گزشتہ عشرہ کے دوران یہاں دوسری بار دھرنا دیا گیا، ایک ہی تنظیم ایک ہی مطالبے پر آپس میں اختلاف کے باعث دو حصہں میں بٹی اور ہر ایک نے اپنے اپنے طور پر دھرنا دیا اور فیض آباد چوک کا انتخاب کرکے دونوں شہروں کی ٹریفک کو بہت بری طرح متاثر کیا، اب دوسرا دھرنا جاری ہے، ایکسپریس وے، اسلام آباد کو ملانے والی اور خود وفاقی دارالحکومت کی سڑکیں، پنڈی کی مری روڈ اور ملحقہ سڑکیں متاثر ہیں، دھرنا طویل ہورہا ہے اور سرکار والا تبار ان حضرات کو دھرنا ختم کرنے پر آمادہ نہیں کرپائی، شہری حتیٰ کہ سرکاری ملازم اور طلباء و طالبات بہت پریشان ہیں کاروباری حضرات کو بھی اتنی ہی تکلیف ہے۔اس صورت حال نے شہریوں کو حکومتی رویے اور بے بسی کے حوالے سے افسوس کرنا شروع کردیا ہے اور اب تو یہ سوچا جارہا ہے کہ یہ دھرنے جو فیشن کی شکل اختیار کرگئے ہیں، شہروں کے باسی، تاجر اور ملازم بہت دکھی ہوگئے اور اب وہ ہر نوع اور ہر قسم کے مظاہرے، جلوس اور دھرنے کے خلاف جذبات کا اظہار بھی کرنے لگے اور وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کررہے ہیں کہ اس صورت حال کا مجموعی طور پر جائزہ لے کر حتمی لائحہ عمل اختیار کیا جائے کہ جس کا جب جی چاہتا ہے، ہزار دو ہزار افراد سے پورے پورے شہرکو ہی یرغمال بنالینا ہے، شہریوں میں انتظامیہ اور حکمرانوں کے خلاف رد عمل پیدا ہورہا ہے، جبکہ مظاہرین اور دھرنے والوں سے خفگی اور نفرت کا اظہار کیا جارہا ہے حکمرانوں کو اب ان معاملات پر تسلی بخش طور پر غور کرکے مستقل لائحہ عمل اختیار کرنا ہوگا کہ عدالت عالیہ بھی ہدائت کرچکی ہوئی ہے۔