اسلام آباد ہائی کورٹ کا تفصیلی فیصلہ ۔۔۔ناموس رسالتﷺ (27)

اداریہ

جن اقدامات کی شکایت کی گئی وہ آسٹریا کے مجموعہ تعزیرات کی دفعہ 188کی بنیاد پرجس میں ایسے رویوں کی روک تھام کی گئی ہے جو مذہبی تقدس کے خلاف اور جن سے اشتعال انگیزی پیداہونے کااحتمال ہو۔اس کا مقصد شہریوں کے حقوق کا تحفظ تھا کہ دوسرے لوگوں کے عوامی سطح پر اظہارِ رائے سے کسی بھی شخص کے مذہبی احساسات و جذبات مجروح نہ ہوں۔ آسٹریائی عدالتوں کے فیصلے جن دلائل کے تحت کئے گئے اِن کی روشنی میں یہ عدالت تسلیم کرتی ہے کہ ایسے اقدامات کا مقصد قانونی طور پر دفعہ10پیرا 2پر عمل درآمد ہے،جس کا عنوان ہے ’’دوسروں کے حقوق کی حفاظت‘‘۔
‘‘In the Kokkinakis judgment the Court held, in the context of (Article 9 art. 9), that a State may legitimately consider it necessary to take measures aimed at repressing certain forms of conduct, including the imparting of information and ideas, judged in compatible with the respect for the freedom of thought, conscience and religion of others (ibid., p. 21, para. 48).The respect for the re ligious feelings of believers as guaranteed in Article (9 art. 9) can legitimately be thought to have been violated by provocative portrayals of objects of religious veneration; and such portrayals can be regarded as malicious violation of the spirit of tolerance, which must also be a feature of democratic society. The Convention is to be read as a whole and therefore the interpretation and application of (Article 10 art. 10) in the present case must be in harmony with the logic of the Convention (see, mutatis mutandis, the Klass and Others v. Germany judgment of 6 September 1978, Series A no. 28, p. 31, para. 68.
48. The measures complained of were based on section 188 of the Austrian Penal Code, which is intended to suppress behaviour directed against objects of religious veneration that is likely to cause "justified indignation". It follows that their purpose was to protect the right of citizens not to be insulted in their religious feelings by the public expression of views of other persons. Considering also the terms in which the decisions of the Austrian courts were phrased, the Court accepts that the impugned measures pursued a legitimate aim under Article 10 para. 2 (art. 10۔2), namely " the protection of the rights of others".’’
اسی طرح یورپی عدالت نے ایک دیگر مقدمہ (Dubowska and Skup Vs. Poland میں اسی اصول کو مزید واضح کرتے ہوئے لکھا:
ترجمہ : البتہ جس طریقہ سے مذہبی عقائدیا تعلیمات کی مخالفت یا نفی کی جاتی ہے ایک توجہ طلب امر ہے جو کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان عقائد و تعلیمات کے حامل افرادکے پرامن طور دفعہ 9 میں دیئے گئے حق کے استعمال کو یقینی بنائے۔لہٰذا مذہبی پیروکاروں کے جذبات کا احترام جو کہ دفعہ 9 میں وضع کیا گیا ہے کی بعض صورتوں میں اشتعال انگیز اقدامات کے ذریعے مذہبی طور پر مقدس چیزوں کی خلاف ورزی بھی ہو سکتی ہے۔دفعہ 9 میں دیئے گئے حقوق کی حفاظت کی غرض سے ریاستوں پر یہ بدیہی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات کریں کہ جن کے ذریعے مذہبی آزادی کے حق کو افراد کے مابین تعلقات کے ضمن میں بھی موثر انداز میں محفوظ کیا جا سکے۔ایسے اقدامات، بعض حالات میں، ایک قانونی راستہ وضع کرتے ہیں کہ فرد اپنی عبادت کے معاملات میں کسی دوسرے کی وجہ سے تنگ نہ ہو۔
‘‘However, the manner in which religious beliefs and doctrines are opposed or denied is a matter which may engage the responsibility of the State to ensure the peaceful enjoyment of the right guaranteed
under Article 9 (Art. 9) of the Convention to the holders of those beliefs and doctrines. Thus, the respect for the religious feelings of believers as guaranteed in Article 9 (Art. 9) may in some cases be violated by provocative portrayals of objects of religious veneration
(see Eur. Court HR, Otto۔Preminger۔Institut v. Austria judgment of 20 September 1994, Series A no. 295۔A, p. 18, para. 47).
As a consequence, there may be certain positive obligations on the part of a State inherent in an effective respect for rights guaranteed under Article 9 (Art. 9) of the Convention, which may involve the adoption of measures designed to secure respect for freedom of religion even in the sphere of the relations of individuals between them selves see, mutatis mutandis, Eur. Court HR, X and Y v. the Netherlands judgment of 26 March 1985, Series A no. 91, p. 11, para. 23 ). Such measures may, in certain circumstances, constitute a legal means of ensuring that an individual will not be disturbed in his worship by the activities of others.’’
(Dubowska and Skup Vs Poland: (Appl. Nos 33490/96 and 34055/96).
19۔ مغرب میں پائے جانے والے توہین رسالت کاتصور اسلام کے قانون توہین رسالت سے یکسرمختلف ہے۔مغرب کی اپنی ایک تاریخ ہے، جس میں خدا یا مقدس ہستیوں کی تضحیک و توہین (Blasphemy) کے قانون کا کلیسا نے اپنے مقاصد کے تحت استعمال کیا اور حتیٰ کہ اہل کلیسا کی رائے کی مخالفت کوبھی توہین کے ہم پلہ (Blasphemy) شمار کرتے ہوئے معصوم لوگوں کو سخت سے سخت سزائیں دی گئیں۔ اس موضوع پرمغرب میں متعددکتب تصنیف کی گئیں۔مغرب اور کلیسا کی اس حوالے سے ظلم بھری تاریخ کے لئے ڈیوڈناش کی کتاب Blasphemy اور لیونارڈ لیوی کی کتاب Blasphemyچشم کشائی کے لئے کافی ہیں۔ اس موضوع پر ڈاکٹر محمود احمد غازی کی کتاب " قانون توہین رسالت " کا ایک اہم اقتباس نقل کرنا ضروری ہے جس میں وہ لکھتے ہیں :
" توہین رسالت کی تاریخ کو ذہن نشین رکھنا ضروری ہے ، خصوصاً اس وقت جب دفعہ 295 سی کے متعلق ذہنی تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہو۔ مسلمان جو مختلف سیاسی آرا ، مذہبی تقسیم ، جغرافیائی ، علاقائی تفریق اور گروہی و نسلی پس منظر کے حامل ہوں۔ اس موضوع پر گہری جذباتیت رکھتے ہیں اور آنحضرتؐ کی شخصیت کی حرمت اور آپؐ کے مقدس مشن کی توقیر پر بھی مصالحت نہیں کرتے،حالانکہ توہین رسالت کے قانون کے اصول اور نظریات کی بنیاد مغربی ممالک میں توہین رسالت کے نظریہ کے تصور سے مختلف ہے اور اس لئے مختلف ادوار میں قوانین توہین رسالت کی تاریخ کے ساتھ کسی طرح کا موازنہ کرنے کا جواز پیش نہیں کرتے۔
پھر بھی یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مغرب میں توہین رسالت کے تصور کی مختصر تاریخ کو تلاش کیا جائے۔ یہ تجزیہ ضروری ہے کیو نکہ پاکستان میں اس قانون کے بہت سے نقاد ایسے لوگوں کی اکثریت کے جذبات اور اُمنگوں کی روشنی میں سمجھنا چاہیے اور اسی حوالے سے اس کی تشریح بھی ہونی چاہیے۔
کچھ لوگ قانون توہین رسالت کے بارے میں بڑے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں آئین کی رو سے جن انسانی حقوق کی ضمانت فراہم کی جاتی ہے یہ اس سے ہم آہنگ نہیں۔ اس بنیاد پر اس احساس کی بمشکل توثیق ہوتی ہے اس لئے کہ آئین نے خود کچھ حدود و قیود مقرر کر رکھی ہیں۔ سیاسی طور پر بھی پاکستان میں بسنے والی اقلیتوں کو ہم یہ مشورہ دیں گے کہ وہ اس قانون پر معترض نہ ہو ں۔ وہ یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں اور اگر نہ جانتے ہوں تو انہیں یہ جان لینا چاہیے کہ پاکستان کے مسلمان کسی کا بھی، جن میں اقلیتیں شامل ہیں ، یہ حق نہیں تسلیم کرتے کہ وہ کسی بھی بنیادپر یہ دعویٰ کریں کہ انہیں اپنے ہمسائے کے مذہب کی توہین کرنے یا آنحضرتؐ کی شان میں گستاخی کرنے کا کوئی حق حاصل ہے۔پاکستانی مسلمان تو درحقیقت اس منطق کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ کوئی پوری تاریخ بنی نوع انسان کی سب سے زیادہ قابل احترام اور محبوب شخصیت کی توہین کرنے کی آزادی کا حق کس طرح مانگ رہا ہے۔"

اسے مغرب کی تاریخ توہین رسالت کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس قانون کا سہارا لے کر کلیسا اور ریاست نے بے اعتدالیاں کیں جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ رفتہ رفتہ اس کے خلاف ردِ عمل بڑھتا گیا اور بالآخر کچھ ممالک میں اسے کالعدم کر دیا گیا اور کچھ ممالک میں اس کا وجود برائے نام رہ گیا تھا ، کلیسا نے اپنے آپ کو نہ صرف یسوع مسیح کا جانشین ثابت کرنے کی کو شش کی بلکہ اس کا ترجمان بن کر خود خدا کی نمائندگی کی۔
کلیسا نے غور کیا کہ اس کے اپنے نظریات میں جو تضاد تھا وہ توہین رسالت کے مترادف تھا اور سخت سزا کا مستوجب تھا۔ ایک مشہور محاورہ ہے " جو میں چاہتا ہوں تم وہ مت کرو" اس معاملے میں کلیسا کے رویے کی عکاسی ہوتی ہے۔ اس طرح کا رویہ آزاد علم اور بامعنی چھان بین یا تحقیق کے تما م دروازے بند کر دیتا ہے۔ پادریوں نے اپنے علم و فضل کی گرتی ہوئی سطح اور اپنی سیاسی طاقت کی بڑھتی ہوئی دھاک کی وجہ سے ہر اس رائے یا نقطہ نظر کو جو ان کی پالیسیوں اور دعوؤں سے ہم آہنگ نہیں تھے توہین رسالت اور کفر و الحاد کہا۔ ریاست نے کلیسا کے اثر و رسوخ کو ترقی دینے اور یکجا کرنے کے لئے اپنی ہدایات کے نفاذ کے ذریعے معاونت کی۔
1553ء میں برطانیہ کی ملکہ الزبتھ نے کچھ لوگوں کو محض اس لئے زندہ جلا دیا کیونکہ ان کا عقیدہ یہ تھا کہ یسوع مسیح خدا نہیں تھے اور یہ کہ معصوم بچوں کوبپتسمہ نہیں دینا چاہئے۔
20۔ عدالت عالیہ لاہور نے اپنے فیصلہ اسلامک لائرز موومنٹ بنام فیڈریشن آف پاکستان(2012ء سی ایل سی صفحہ1300)میں اسی نوعیّت کے معاملہ میں درج ذیل ہدایات جاری کیں، لیکن بد قسمتی سے اِن پر عملدر آمد نہ ہوا۔ نتیجتاً پراگندہ سوچ کے حامل افراد کو مزید شہ ملی اور انہوں نے اپنے مکروہ عزا ئم کی تکمیل کی خاطر کا ئنات کی سب سے مقدس اور معتبر ہستی نبیؐ آخر الزمان کی شان میں ناقابلِ تحریر و بیان گستاخی کے انداز اپنائے اور ایسا مواد پھیلایا جس کو دیکھنے کی کسی میں سکت ہے اور نہ سننے کا یارا۔ عدالت عالیہ لاہور نے مذکورہ بالا مقدمہ میں حکومت اور متعلقہ اداروں کو درج ذیل ہدایات جاری کیں:
(ترجمہ ) گزشتہ فقرات میں کی گئی بحث سے اخذ کردہ نتائج کی رو سے درج ذیل ہدایات فوری اورسختی سے عملدرآمد کیلئے مسؤل علیہ کو جاری کی جاتی ہیں:۔
1۔ یہ کہ بین الوزارت کمیٹی جوکہ سال 2010ء میں اس وقت کے وزیراعظم نے تشکیل دی تھی، ویب سائٹس پر چوکس نظررکھے گی اور کسی بھی گروہ کے مذہبی عقائد کے حوالے سے متنازعہ/قابل اعتراض مواد کے فتنہ شہود پر آنے کی صورت میں فوری ایکشن لے گی۔ قبل اس کے کہ ایسا مواد عام الناس تک پہنچ سکے اور کسی کوتاہی کی صورت میں متعلقہ افراد/افسران کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور حکومت ایسی کمیٹی میں نجی طبقہ سے بھی افراد کو نمائندگی دے گی۔
2۔ یہ کہ سروسز ڈویڑن، اسلام آباد کے تحت کام کرنے والے کرائسز سیل کو ایسے میٹریل/مواد کے سراغ اور متعلقہ ویب سائٹ/ URL کی بلاتاخیر بندش کی جانے اور کسی کوتاہی کی صورت میں غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف سخت قانونی اقدام کیا جائے۔
3۔ حکومت اپنے مستقل مندوب کے توسط سے اس مسئلہ کو اقوام متحدہ میں اُجاگر کرے گی۔تاکہ بین الاقوامی سطح پرایسے افعال کے اداروں کے لئے قانون سازی ہو سکے اور عالمی برادری کو امت مسلمہ کے تحفظات سے بالعموم جبکہ پاکستان کے تحفظات سے بالخصوص آگاہ کریں جوکہ ایسے قابل اعتراض مواد کی اشاعت سے متعلق ہیں۔
4۔ حکومت دیگررکن ممالک سے مشاورت سے اس مسئلے کواسلامی ممالک کی تنظیم او۔آئی۔سی میں اْجاگر کرے گی اور آئندہ ایسے اقدامات کے تدارک کے لئے واضح لائحہ عمل اختیار کرے گی۔ (جاری ہے)
5۔ حکومت ایسے اقدامات پر بھی غور کرے گی کہ جن کے ذریعے غیراخلاقی اور غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ویب سائٹس کومستقل طور پربند کیا جاسکے۔
6۔ حکومت اس مسئلے پر دیگر اسلامی ممالک اور چین کی طرز پرقانون سازی کے لیے تحرک کرے گی۔
7۔ حکومت پرنٹ والیکٹرانک میڈیا کے توسط سے ایسی ویب سائٹس کے استعمالات و مضمرات سے عوامی آگاہی کا انتظام کرے گی اور
8۔ آئندہ ایسے جرائم کے اقدام کی صورت میں حکومت متعلقہ ذمہ دارمحکموں کے خلاف متعلقہ فورمز پر قانونی کارروائی کرے گی۔