سزائے موت پرعائد غیر رسمی پابندی بحال کی جائے

اداریہ


مکرمی!دسمبر 2014 میں سزائے موت پر عائد غیر رسمی پابندی (Moratorium)اٹھائے جانے سے اب تک 423 افراد کو پھانسی دی جا چکی ہے۔ 423 افراد کو پھانسی دینے کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ جواب طلب ہے کہ کیا سزائے موت جیسی سزا پر عملدرآمد کے ذریعے مطلوبہ نتائج حاصل کیے جا سکے ہیں یا نہیں؟سزائے موت پر عملدرآمد کا فیصلہ کرنے کی بنیادی وجہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کو موثر بنانا تھا۔ وزیرِ اعظم پاکستان نواز شریف نے دسمبر 2014 میں آل پارٹیز کانفرنس کے موقع پر دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سزائے موت پرعملدرآمد بحال کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ابتداء میں اس اعلان کا دائرہ کار دہشت گردی کے مقدمات میں سزایافتہ ملزمان تک محدود تھا تاہم بعد ازاں مارچ 2015 میں دیگر جرائم کے مرتکب افراد کو بھی سزائے موت دینے کا عمل شروع کر دیا گیا۔مگر بد قسمتی سے جرائم کی روک تھام کا معاملہ ہو یا دہشت گردی کے انسداد کی کوششیں، سزائے موت کے ذریعے ایسا کیا جاناممکن نظر نہیں آتا۔
حقیقت یہ ہے کہ 423 افراد کو پھانسی دے کر بھی ہم یہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ ان پھانسیوں کے نتیجے میں پاکستان پہلے سے زیادہ محفوظ، پرامن یا جرائم سے پاک ملک بن چکا ہے۔ یہ درست ہے کہ دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے تاہم اس امر کے کوئی شواہد موجود نہیں کہ ایسا پھانسیوں پر عملدرآمد کے نتیجے میں ہوا ہے۔ دہشت گردی کے انسداد کے لیے سزائے موت پر عملدرآمد کی دلیل اس لیے بھی بے وزن ہے کہ اب تک جن 423 افراد کو پھانسی دی جا چکی ہے ان میں سے محض سترہ فیصد ایسے تھے جن پر دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات چلائے گئے۔ کوئٹہ، لاہور اور سیہون میں ہونے والے حالیہ حملے بھی یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں کہ کم از کم سزائے موت دہشت گردوں کو خوف زدہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔
پاکستان میں سزائے موت کی حمایت کرنے والے طبقات کی جانب سے عموماً سزائے موت کو ایک ایسی سزا کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جس کے بغیر، قتل یا ایسے ہی دیگر سنگین جرائم کا تدارک ناممکن ہے۔ اس دلیل کی بنیاد اس نظریہ پر قائم ہے کہ جرائم کی روک تھام کے لیے سخت سزائیں دینا ضروری ہے۔ سزا اور انسدادِ جرم کے مابین تعلق بحث طلب امر ہے تاہم دنیا کے وہ ممالک جہاں سزائے موت پر پابندی عائد ہے، وہاں جرائم کی کم تر شرح اس نظریے کی نفی کرتی ہے کہ سزائے موت کے ذریعے جرائم کی روک تھام ممکن ہے۔ امریکہ کی ایسی ریاستیں جہاں سزائے موت نہیں دی جاتی میں جرائم کی شرح ان ریاستوں سے کہیں کم ہے جہاں سزائے موت دی جاتی ہے۔ سزا کا یہ سخت گیر تصور جرم کو خوف پیدا کر کے روکنے کی ایک کوشش ہے، اور اس کوشش میں جرائم کی وجوہ کے سدباب کی کوئی صورت پیدا نہیں ہوتی اس معاملے کا ایک اور تشویشناک پہلو ایسے جرائم کی تعدادمیں بتدریج اضافہ ہے جن کی پاداش میں سزائے موت دی جاسکتی ہے۔ قیام پاکستان کے وقت صرف دوجرائم ایسے تھے جن کے ارتکاب پرسزائے موت دی جاسکتی تھی، تاہم ابھی تعداد بڑھ کر ستائیس ہوچکی ہے۔ سزائے موت کے حامل جرائم کی تعدادمیں اضافے سے ایسے جرائم میں کمی تو ممکن نہیں، تاہم مزید بے گناہ افراد کے سزائے موت پانے کے امکانات میں اضافہ بہر حال یقینی ہے۔
سزائے موت پر عملدرآمد کے لیے دیا جانے والا مذہبی جواز بھی موثر نہیں کیوں کہ اسلام صرف دو جرائم یعنی قتلِ عمد اور ’فساد فی الارض‘ کی صورت میں سزائے موت تجویز کرتا ہے جبکہ پاکستان میں اس وقت ستائیس جرائم کے لیے موت کی سزا تفویض کی جا سکتی ہے۔ یہ جاننا بھی اہم ہے کہ اگرچہ اسلام میں سزائے موت کو سنگین ترین سزا کے طور پر جائز قرار دیا گیا ہے تاہم اسلام بہرطور معاف کر دینے کو انتقام لینے سے افضل قرار دیتا ہے، قصاص اور دیت کی گنجائش اسی لیے مذہباً جائز ہے۔ ایسی صورت میں سزائے موت کو ایک ایسی لازمی سزا کے طور پر پیش کرنا کہ جس پر عملدرامد نہ کرنا خدا کی نافرمانی کے مترادف ہے،نامناسب ہے ۔۔۔۔۔۔ خصوصاً ایک ایسے نظامِ انصاف کی موجودگی میں جو کسی بھی طرح انصاف،ایمانداری، فرض شناسی اور غیر جانبداری کے ان معیارات پر پورا نہیں اترتا جو اسلام کے تصورِ جرم و سزا کی بنیاد ہیں۔
مقدمات کے اندراج،تفتیش،سماعت اورفیصلے تک ہرمرحلے پرپاکستانی نظام انصاف فرسودہ اورناقص ہے۔پولیس کا محکمہ نہ صرف بدعنوان ہے بلکہ سیاسی دباؤ کے تحت باعث مقدمات درج کرنے یا تفتیش کا رخ موڑنے پر مجبور بھی، عدلیہ کو بھی ان الزامات سے مبرا قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ کے مطابق ستر فیصد پاکستانی پولیس اورعدلیہ سے واسطہ پڑنے پررشوت دیتے ہیں۔ رشوت،سیاسی دباؤاورانتظامی کوتاہی کے باعث یہ امکان بہر طو ر مسترد نہیں کیاجاسکتاکہ سزائے موت لامحالہ ایسے افرادکوموت کی نیندسلانے کاباعث بن رہی ہے جوبیگناہ تھے یاان کیخلاف شواہداتنے مضبوط نہیں تھے کہ انہیں پھانسی جیسی سنگین سزا سنائی جاتی۔
ایک ناقص اوربدعنوان نظام انصاف کے ہوتے سزائے موت جیسی سنگین سزاپرعملدرآمد ناانصافی ہے۔سزائے موت پر عملدرآمد کے ضمن میں یہ بھی ذہن میں رکھا جانا چاہیئے کہ اس طرح ایسے بہت سے قیدیوں کو بھی سزائے موت دیئے جانے کا خدشہ ہے جوجرم کے وقت کم عمر تھے۔ کال کوٹھڑیوں میں قید سزائے موت کے بہت سے قیدی ایسے ہیں جو کئی برس جیل میں گزار چکے ہیں، ایسے افراد کی سزائے موت پر عملدرآمد انہیں دہری سزا دینے کے مترادف ہو گا۔ ایسے میں یہ ضروری ہے کہ سزائے موت پر غیر رسمی پابندی بحال کی جائے۔ یہ غیر رسمی پابندی پاکستانی قانون سازوں، عدلیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک موقع ہو گی کہ وہ سزائے موت کے حوالے سے ریاستی نقطہ نظر تبدیل کر سکیں۔ ریاستی اداروں اور پالیسی سازوں کو یہ سمجھنا چاہیئے کہ سزائے موت کسی بھی طرح سے ایک ایسی سزا قرار نہیں دی جا سکتی جو جرائم یا دہشت گردی میں کمی کا باعث ہو۔ پاکستان کا ناقص نظام انصاف ایسے افراد کو سزائے موت دینے کا مرتکب ہے جو بے گناہ تھے، جرم کے وقت نابالغ تھے یا پہلے ہی عمر قید کے برابر قید کاٹ چکے ہیں ایسے میں پھانسیوں پر عملدرآمد انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست اور اس کے اداروں کو سزائے موت سے متعلق ایک زیادہ انسانی نقطہ نظر اور طرز عمل اپنانے کی ضرورت ہے اور اس ضمن میں پھانسیوں پر عملدرامد روک کر مثبت شروعات کی جا سکتی ہے۔محمد شعیب (269-A-II ، بلاک سی ٹاؤن شپ ،لاہور)