چھٹی مُلک گیر مردم شماری کا آغاز

اداریہ


مُلک بھر میں چھٹی مردم شماری کا آغاز آج(15مارچ)سے ہو رہا ہے، جس کے لئے تمام انتظامات مکمل ہیں،ریہرسل بھی کر لی گئی ہے، ملازمین نے اپنی اپنی ڈیوٹیاں سنبھال لی ہیں یہ عمل دو ماہ میں مکمل ہو گا، پہلے ابتدائی رپورٹ پیش کی جائے گی، پھر حتمی رپورٹ دی جائے گی، چاروں صوبوں، فاٹا، آزاد کشمیر، گلگت و بلتستان اور وفاقی دارالحکومت میں ضلعی آفیسرز چارج سپرنٹنڈنٹ اور سرکل سپر وائزر تعینات کر دیئے گئے ہیں۔ پاک فوج کے دو لاکھ افسر اور اہلکار فرائض انجام دیں گے، مُلک بھر کو مردم شماری کے لئے168170بلاک میں تقسیم کیا گیا ہے، سیکیورٹی اداروں اور پولیس نے مل کر مکمل پلان ترتیب دے دیا ہے، مردم شماری کے لئے جانے والے نمائندگان کے ساتھ رینجرز اور پولیس کے جوان بھی ہوں گے۔
مردم شماری ہر دس سال بعد کرانا آئینی ضرورت ہے،لیکن یہ مردم شماری دس سال کی تاخیر سے ہو رہی ہے،اِس دوران کئی حکومتیں آئیں اور گئیں،لیکن اُن سب کے ادوار میں مردم شماری کی آئینی ضرورت کی تکمیل نہ ہو سکی،نتیجے کے طور پر اِس وقت مردم شماری کے اُنہی اعداد و شمار پر انحصار کیا جا رہا ہے جو18سال پہلے ہوئی تھی،اِس دوران زمانہ قیامت کی چال چل گیا، ٹیکنالوجی نے نئی نئی زقندیں بھر لیں، موبائل فون ’’ٹکے ٹوکری‘‘ ہو گئے۔ اِس وقت پاکستان میں کروڑوں موبائل فون زیر استعمال ہیں اور ان کی تعداد ہر دن کے ساتھ تیزی سے بڑھ رہی ہے، ترقیاتی منصوبوں کاانداز بھی بدل گیا، آبادی کی شہروں کو منتقلی کا رجحان ترقی پذیر ہو گیا ان کی خدمات کا دائرہ بھی وسیع سے وسیع تر ہو رہا ہے اِس دوران ، 2002ء، 2008ء، اور2013ء میں تین ملک گیر انتخابات بھی ہوگئے ،اگر دس سال بعد مردم شماری ہو جاتی تو آخر الذکر دو انتخابات نئی مردم شماری کی بنیاد پر ہوتے، لیکن ہم اِس معاملے میں بطور مجموعی خاصے سست رو واقع ہوئے ہیں، موجودہ مردم شماری بھی سپریم کورٹ کے حکم پر ہو رہی ہے، حکومت نے تو مزید مہلت مانگی تھی، مہلت مل جاتی یا حکومت کے بس میں ہوتا تو شاید یہ کام مزید کچھ عرصے کے لئے لٹک جاتا۔ بہرحال اب مردم شماری کا آغاز ہو رہا ہے تو انشا اللہ دو ماہ میں یہ کام بخیرو خوبی مکمل بھی ہو جائے گا۔
اِس مردم شماری کے اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد مُلک بھر میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں میں اضافہ ہو گا، نئی حلقہ بندیاں ہوں گی، ووٹر لسٹوں میں اُن نئے ووٹروں کا اندراج بھی ہو گا جو18سال کی عمر کو پہنچ جائیں گے، مختلف علاقوں کی ترقیاتی ضروریات بھی اِس مردم شماری سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے ہی سامنے آئیں گی،کس علاقے میں کتنے پرائمری سکول بنانے کی ضرورت ہے، کتنے ہائی سکول اور کالج قائم ہونے چاہئیں، کتنے ہسپتالوں کی ضرورت ہے، کس خطے اور شہر کی آبادی کس رفتار سے بڑھ رہی ہے اور اِس بڑھتی ہوئی اربنائزیشن سے نپٹنے کے لئے کتنے وسائل درکار ہیں اور بجلی، پانی، سیوریج جیسی شہری سہولتوں کا دائرہ کار کس حد تک وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ سب اعداد و شمار مردم شماری سے ہی حاصل ہوتے ہیں اور درست منصوبہ بندی کے لئے ناگزیرہیں اِس دوران اندازوں سے جو اقدامات کئے گئے ان میں ردوبدل بھی ناگزیر ہو جائے گا۔
پاکستان میں مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں۔اگرچہ یہ زبانیں بولنے والوں کے اپنے اپنے علاقے اور صوبے ہیں،لیکن معاشی اور دوسری ضروریات کے تحت ایک خطے کے لوگ دوسرے خطوں کی جانب نقل مکانی بھی کرتے رہتے ہیں۔ یہ نقل مکانی بعض اوقات عارضی اور کئی صورتوں میں مستقل ہوتی ہے، جس طرح کراچی میں لاکھوں لوگ دوسرے صوبوں سے جا کر مستقل بس گئے ہیں اور وہ اپنے آبائی علاقوں کا رُخ کبھی کبھار ہی کرتے ہیں، باہر سے جانے والوں نے کراچی کی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا اور وہیں کے ہو کر رہ گئے، لاہور کی جانب بھی نقل مکانی کا رجحان بہت زیادہ ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق لاہور میں پورے ایشیا میں سب سے زیادہ اربنائزیشن ہو رہی ہے،صرف پنجاب کے دیہات سے اُٹھ کر لوگ لاہور کا رُخ نہیں کر رہے دوسرے صوبوں سے بھی آ رہے ہیں۔
افغانستان پر سوویت یونین کے حملے کے بعد بڑی تعداد میں افغانوں نے پاکستان کا رُخ کیا اور نہ صرف صوبہ خیبرپختونخوا کے کئی شہروں میں بس گئے، بلکہ صوبے سے باہر بھی آباد ہو گئے، کیمپوں میں صرف وہ لوگ محدود ہو گئے جن کے پاس وسائل کی کمی تھی، باوسیلہ لوگوں نے وفاقی دارالحکومت میں رہائش اختیار کر لی، بلکہ اسلام آباد کے تو بہت سے پوش علاقے ایسے ہیں جہاں افغان مہاجر رہ رہے ہیں اُن کے کاروبار بھی مُلک بھر میں پھیل چکے ہیں۔ لاکھوں افغان مہاجرین تو ایسے ہیں جنہوں نے پاکستانی شناختی کارڈ بنوا لئے اور بطور پاکستانی ہر سہولت سے مستفید ہونے لگے، بیرونِ مُلک جانے کے لئے ہزاروں لوگوں نے پاکستانی پاسپورٹ بھی بنوا لئے۔ سابق افغان صدر حامد کرزئی کی کابینہ میں ایسے وزیر شامل تھے جن کی پوری تعلیم پاکستان میں ہوئی اور وہ حالات ساز گار ہونے پر واپس گئے،لیکن جانے والوں کی تعداد بہت کم تھی، اب بھی لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین پاکستان میں رہ رہے ہیں۔ موجودہ مردم شماری میں اُن کی گنتی بھی ہو گی اور یہ معلوم ہو سکے گا کہ اس وقت کتنے افغان مہاجرین پاکستان میں موجود ہیں۔
بلوچستان کے بعض سیاسی رہنماؤں نے مطالبہ کیا تھا کہ مردم شماری کو اُس وقت تک ملتوی کر دیا جائے جب تک افغان مہاجرین واپس نہیں چلے جاتے، بظاہر تو اِس مطالبے سے یوں لگتا تھا کہ یہ مطالبہ کرنے والے سرے سے مردم شماری چاہتے ہی نہیں، کیونکہ جو افغان مہاجرین کے بعد سے یہاں رہ رہے ہیں اور37برسوں میں واپس نہیں گئے وہ اب واپس جانے کے لئے بے تاب تو نہیں ہیں کہ دو چار ماہ میں چلے جائیں گے تو مردم شماری ہو جائے گی۔ پشاور میں ٹرانسپورٹ کا سارا کاروبار افغان مہاجرین کے پاس ہے، اِسی طرح انہوں نے بیوٹی پارلر کا کاروبار بھی شروع کر رکھا ہے جن سے افغان خواتین کے ساتھ ساتھ مقامی خواتین بھی مستفید ہوتی ہیں، قالین بافی کے کاروبار میں بھی بڑی تعداد میں افغان شریک ہیں۔ اگر یہ تفصیلات بھی جمع کر لی جائیں تو بہت مفید معلومات سامنے آ جائیں گی۔ مردم شماری میں غلط معلومات دینے والوں کیلئے جرمانے کی سزاؤں کا اعلان کیا گیا ہے اِس لئے امید تو یہی کرنی چاہئے کہ لوگ غلط معلومات دینے سے گریز کریں گے تاہم بعض گروہ منظم طور پر اپنی آبادی زیادہ ظاہر کرنے کے لئے بھی سرگرم ہوں گے اُن پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ لوگ مردم شماری کے لئے متعین عملے کے ذریعے مقصد براری کرتے ہیں اِن کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ اپنی آبادی زیادہ ظاہر کر کے خود کو زیادہ سیاسی اثر ورسوخ اور زیادہ سہولتوں کا حق دار ثابت کیا جائے۔ اِن تمام کوششوں کو ناکام بنانے کی ضرورت ہے، آبادی کے وہی اعداد و شمار سامنے آنے چاہئیں جو حقیقی ہوں، جعلی اور فرضی اعداد و شمار کی بنیاد پر اپنے حق سے زیادہ کے حصول کی کوششیں لائق تحسین نہیں ہیں۔