دودھ کے متبادل کے نام پر زہر کی فروخت

اداریہ


یہ خبر انتہائی تشویشناک ہے کہ دودھ میں ملاوٹ اور جعلی دودھ کے بعد دودھ کے متبادل کے نام پر انتہائی مضر صحت محلول ’’ٹی وائٹز‘‘ مارکیٹ میں وسیع پیمانے پر فروخت ہو رہا ہے۔ دودھ کے متبادل کے طور پر ’’ٹی وائٹز‘‘ ایک نہیں، کئی کمپنیاں تیار کررہی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ اس کے پینے سے انسانی جسم میں کئی بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ جن میں معدے اور منہ کے کینسر اور جگر کے فیل ہوجانے کی بیماریاں سرفہرست ہیں۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی نے ’’ٹی وائٹز‘‘ تیار کرنے والی کمپنیوں کو باقاعدہ وارننگ جاری کردی ہے کیونکہ اس کے استعمال سے بچوں کی نشوونما کے رکنے کی شکایت بھی سامنے آئی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ گائے، بھینس اور بکری کے دودھ کا استعمال صدیوں سے ہو رہا ہے۔ خصوصاً چھوٹے بچوں کو دس بارہ سال کی عمر تک دودھ لازم پلایا جاتا ہے۔ جسمانی کمزوری دور کرنے، مریضوں اور ضعیف العمر لوگوں کے لئے بھی دودھ ایک ٹانک کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔جب سے دودھ میں ملاوٹ کی حد ہوئی ہے اور دودھ کے نام پر جعلی دودھ تیار ہونے لگا ہے، لوگوں کے لئے دودھ کا استعمال ایک بہت بڑا اور سنگین مسئلہ بن گیا ہے، یہ فیصلہ کرنا اپنی جگہ دردِ سر ہے کہ کون سا دودھ استعمال کیا جائے کیونکہ خالص دودھ تونایاب ہو چکا، بازار میں دستیاب دودھ کو انتہائی مضر صحت قرار دیا جارہا ہے۔ ڈاکٹر اور حکیم فروخت ہونے والے دودھ کو ’’زہر‘‘قرار دیتے ہیں۔ اب محلول اور خشک دودھ کے متبادل ’’ٹی وائٹز‘‘ کی فروخت کے بارے میں جو تفصیلات سامنے آرہی ہیں، ان کی وجہ سے لوگوں کو یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ زہرپی کر اپنی عادت پوری کرنے اور خطر ناک بیماریوں کو دعوت دینے سے بہتر ہوگا کہ ایسا مضر صحت ’’دودھ‘‘ہرگز نہ پئیں۔ حکومتی سطح پر اس مسئلہ کا اب تک حل یہی نکالا گیا ہے کہ لاہور اور ایک دو دیگر شہروں میں پنجاب فوڈ اتھارٹی کے افسران اور اہلکار غیر معیاری اور مضر صحت دودھ کو گراکر ضائع کر دیتے ہیں۔ بند ڈبوں میں دودھ فروخت کرنے والی کمپنیوں کو وارننگ دی جارہی ہے اور جرمانے بھی کئے جارہے ہیں۔ یہ اقدامات ناکافی اور برائے نام ہیں حکومتی سطح پر ایسا طریقِ کار اپنایا جائے کہ لوگوں کو ملاوٹ سے پاک دودھ میسر آسکے۔ ملاوٹ شدہ اور جعلی دودھ سے روزانہ لاکھوں کروڑوں کی دیہاڑی بنانے والوں کو قید با مشقت اور جرمانے کی سزا دینے کے لئے فوری طور پر موثر اور جامع قانون بنایا جائے جو لوگ معصوم بچوں اور شہریوں کی صحت اور زندگی سے کھیلتے ہیں، ان سے کوئی رعائت نہیں ہونی چاہئے۔