آؤٹ آف ٹرن پروموشن پانے والوں کا مسئلہ

اداریہ

سپریم کورٹ کے مِسٹر جسٹس امیر ہانی مسلم کی سربراہی میں دورکنی بنچ نے واضح کیا ہے کہ سرکاری ملازمتوں کے قانون میں صرف ایک آؤٹ آف ٹرن پروموشن کی اجازت ہے لیکن حالت یہ ہے کہ محکمہ پولیس میں کئی افسران ایسے بھی ہیں،جنہوں نے کئی بار آؤٹ آف ٹرن پروموشن حاصل کر رکھی ہے۔سپریم کورٹ نے اس حوالے سے ایک سے زیادہ پروموشن حاصل کرنے کے خلاف جو احکامات جاری کر رکھے ہیں، اُن پر عملدرآمد نہیں کیا جارہا ہے۔ دوران سماعت سپریم کورٹ کے دورکنی بینچ نے ہدایت کی ہے کہ جو افسران ریٹائرمنٹ کے قریب ہیں، اُنہیں تو معمول کے مطابق ریٹائرمنٹ حاصل کرنے دی جائے،باقی افسران کے معاملات پر سپریم کورٹ کے جاری شدہ احکامات پر عملدرآمد کو یقینی بنا کر رپورٹ پیش کی جائے۔سرکاری ملازمتوں کے دوران اعلیٰ سطح پر بعض افسران کو اُن کی غیر معمولی کارکردگی اور بہادری کا مظاہرہ کرنے پر آؤٹ آف ٹرن پروموشن کی سفارش کو رد نہیں کیا جاتا اور انہیں اگلے درجے میں ترقی دے دی جاتی ہے۔ چاہے یہ کام سیاسی اور انتظامی دباؤ کی وجہ سے ہو، لیکن بعض افسران کو ایک سے زیادہ مرتبہ ترقی سے دیگر ملازمین کو حق تلفی کی شکایت ہوتی ہے، جب آؤٹ آف ٹرن پروموشن کیسز کے خلاف سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی تو محکمہ پولیس میں آؤٹ آف ٹرن پروموشن کو کالعدم قرار دیتے ہوئے احکامات پر جلد عملدرآمد کی ہدایت کی گئی لیکن ان ہدایات کی روشنی میں تمام کیسز کو نپٹایا نہیں جا سکا۔
سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے کے بارے میں تاخیر کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ ڈی آئی جی لیگل پنجاب کے بقول،بعض افسران نے تین تین بار آؤٹ آف ٹرن پروموشن حاصل کر رکھی ہے،عملدر آمد میں قانونی پیچیدگیوں کے باعث تاخیر ہو رہی ہے اس حوالے سے سپریم کورٹ نے واضح کر دیا ہے کہ قانون کے تحت کسی افسر کو صرف ایک ہی بار آؤٹ آف ٹرن پروموشن دی جاسکتی ہے۔ پنجاب پولیس کے 2400اہلکار اور افسران آؤٹ آف ٹرن پروموشن حاصل کرنے والوں میں شامل ہیں۔ بعض افسران کو سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں آؤٹ آف ٹرن پروموشن کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو ایسے افسران کی طرف سے مایوسی کا اظہار کیاگیا اور بعض افسران نے اعلیٰ عدلیہ سے رجوع بھی کیا کہ دی گئی پروموشن کو وہ اپنا استحقاق قرار دیتے ہیں اور پچھلے گریڈ میں کام کرنے کے لئے تیار نہیں۔یہ سوال اہمیت رکھتا ہے کہ آخر کئی بار پروموشن دی ہی کیوں گئی تھی اور اس سلسلے میں قانون کو ملحوظ خاطر کیوں نہیں رکھا گیا تھا؟

Back