دہشت گردی کے خلاف مشترکہ عالمی کوششیں

اداریہ


چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ آپریشن ردّالفساد2007-08ء میں دہشت گردی کے خلاف شروع کئے گئے پہلے آپریشن کا تسلسل ہے ان فوجی آپریشنوں کا مقصد مُلک میں امن و استحکام کا قیام اور کامیابیوں کو دیرپا امن میں تبدیل کرنا ہے، معمول کی زندگی بحال کریں گے اور معاشرے میں بگاڑ پیدا کرنے والی قوتوں کا خاتمہ کیا جائے گا۔ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی(اسلام آباد) میں پاک برطانیہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے برطانوی وفد کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل پیٹرک سینڈرز نے کہا کہ انسداد دہشت گردی مہم خطے ہی نہیں عالمی امن کے لئے بھی اہم ہے۔ یہ کوشش دُنیا کو محفوظ بنانے کے لئے اہم کردار کی حامل ہے۔انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان، پاکستانی عوام اور فوج کی کاوشوں کو سراہا۔پاک برطانیہ سیمینار میں دونوں ممالک کے حکام نے امن و استحکام کی کاوشوں کے حوالے سے اپنے تجربات پر ایک دوسرے سے تبادلہ خیالات کیا۔
دُنیا میں دہشت گردی کا دائرہ اتنا پھیل چکا ہے کہ کسی بھی خطے میں کسی بھی وقت دہشت گرد واردات کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں، پھر ان وارداتوں میں بڑا تنوع ہے، ہر مُلک میں دہشت گرد کوئی نہ کوئی نیا حربہ استعمال کر کے واردات کرتے ہیں ۔ابھی حال ہی میں کابل(افغانستان) کے فوجی ہسپتال میں دہشت گرد ڈاکٹروں کی یونیفارم میں ہسپتال میں داخل ہوئے اور کامیاب واردات کر ڈالی، اِسی طرح مغربی ممالک میں دہشت گردی کا انداز مختلف ہے،لیکن اِن ساری وارداتوں میں ایک قدرِ مشترک یہ ہے کہ دہشت گردی کرنے والے دھوکہ دہی کے ذریعے اپنے کسی ہدف میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں یہ طریقِ واردات کوئی نیا نہیں ہے۔
مغربی ممالک میں لوگوں کو اغوا کر کے جرائم پیشہ گروہوں میں شامل کرنے کے جو طریقے استعمال کئے جاتے تھے وہ اب دہشت گردوں نے اپنا لئے ہیں۔ پاکستان میں دہشت گردی کرنے والے بھی اپنے اپنے انداز میں واردات کرتے ہیں، اِس لئے ان کو ناکام بنانے کے لئے دُنیا کے متاثرہ ممالک کو ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرنا چاہئے، جس طرح دہشت گردی ایک عالمگیر روگ بن چکا ہے، اسی طرح اس کامقابلہ بھی دُنیا کو مل کر کرنا پڑے گا، ہمارے خطے میں افغانستان کی دہشت گردی کا ملبہ پاکستان پرگِرا تو پاکستان میں بھی اس کا دائرہ وسیع ہو گیا۔ دونوں ممالک کے درمیان طویل دشوار گزار سرحد ہے جہاں لوگوں کی آمدو رفت بغیر سفری دستاویزات کے بھی ہوتی رہی ہے، اِس لئے مشاہدہ یہ ہے کہ جب بھی پاکستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شروع کیا گیا، جو بچ نکلے انہوں نے افغانستان کا رُخ کر لیا وہاں کمین گاہیں اور پناہ گاہیں بنا کر اپنی کارروائیاں شروع کر دیں اسی طرح جب افغان حکومت کوئی کارروائی کرتی ہے تو بچ نکلنے والے دہشت گرد پاکستان کی جانب رُخ کر لیتے ہیں اِس لئے پاکستان نے بارڈر مینجمنٹ پر زور دیا ہے اور سفری دستاویزات کے بغیر آمدو رفت بند کر دی ہے، چونکہ دونوں ممالک کو مشترکہ مسئلے کا سامنا ہے اِس لئے یہ ضروری ہے کہ دونوں مل کر کارروائی کریں۔ دونوں ممالک کے قریبی اور مربوط تعاون کے بغیر کامیاب کارروائیاں مشکل ہیں اِس لئے دونوں ممالک کو مشترکہ میکنزم بنانا چاہئے۔ اِس بات پر پاکستان پہلے بھی زور دیتا رہا ہے اور افغان حکام کو احساس دِلاتا رہا ہے کہ مشترکہ مسئلے کا مقابلہ مل کر کرنے ہی سے کامیابی حاصل ہو گی۔
برطانیہ سے آنے والے وفد کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل پیٹرک سینڈرز نے سیمینار میں دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے اقدامات کو سراہا اور اعتراف کیا کہ ان کی وجہ سے دُنیا کے لئے دہشت گردی کے خطرات کم ہوئے ہیں۔ پاکستان اُن ممالک میں شامل ہے، جنہوں نے سب سے زیادہ قربانیاں دیں۔ دُنیا میں جس بھی مُلک کو دہشت گردی کے واقعات کا سامنا ہوا اس نے ایک دو وا رداتوں کے بعد ان پر قابو پا لیا اور انہوں نے ایسے اقدامات کر لئے کہ یہ مُلک دہشت گردی کے واقعات سے محفوظ ہو گئے،لیکن پاکستان میں دہشت گردی اب تک ختم ہونے میں نہیں آ رہی، سالہا سال کی کوششوں سے دہشت گردی کی وارداتوں میں کمی ضرور آئی ہے،لیکن اب تک آپریشن کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، جو آپریشن 2007ء میں شروع کیا گیا تھا دس سال بعد بھی ردّالفساد کی شکل میں اس کا تسلسل جاری ہے۔ تاہم اطمینان کی بات یہ ہے کہ فسادیوں کے پاؤں پاکستان میں جم نہیں پائے اور اُن کی قوت کو بھی تتر بّتر کر دیا گیا ہے۔ فاٹا کے93فیصد علاقے کو دہشت گردوں سے بالکل پاک کر دیا گیا ہے، صرف7فیصد علاقے میں اُن کی موجودگی ہے اور آپریشن کے ذریعے ان کا بھی خاتمہ کیا جا رہا ہے۔
پاکستان نے روس کے ساتھ بھی مشترکہ مشقیں کی تھیں جن کا مقصد بھی دہشت گردی کا مقابلہ تھا، دونوں ممالک کے سیکیورٹی اداروں نے اِن عملی مشقوں سے بہت استفادہ کیا اور اب نئے تجربات کی روشنی میں نئی حکمتِ عملی بنائی جا رہی ہے اس طرح اب برطانیہ کے فوجی ماہرین کے ساتھ معلومات کے تبادلے کے بعد بھی ایسا مشترکہ لائحہ عمل بنانے میں مدد ملے گی، جس سے کام لے کر دہشت گردی کا خاتمہ کیا جا سکے گا۔ افغان حکام اگر مشترکہ حکمتِ عملی بنانے پر تیار ہو جائیں تو یہ دونوں ممالک کے مفاد میں ہو گا، اِس لئے بہتر یہ ہے کہ دونوں ممالک کے ماہرین مل بیٹھ کر کوئی ایسا لائحہ عمل بنائیں جو خطے سے دہشت گردی کے خاتمے میں ممد و معاون ثابت ہو سکے۔