مردم شماری۔۔۔ معذوروں کا خانہ؟

اداریہ


مردم اور خانہ شماری کا پہلا مرحلہ آج(بدھ) سے شروع ہو گیا ہے۔ بعض اضلاع میں تاخیر کی شکایات ضرور موصول ہوئیں،لیکن کام میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوئی۔ اگرچہ بعض اطراف سے کچھ اعتراضات بھی آئے، سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے اس کے لئے شناختی کارڈ کی لازمی شرط سے استثنیٰ کا مطالبہ کیا تو وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے منگل ہی کو یہ رکاوٹ بھی دور کر دی اور بتایا کہ شناختی کارڈ رکاوٹ نہیں ہو گا، کوئی بھی دستاویز جو شناخت کے زمرے میں آئے وہ بتایا دکھا دی جائے۔ یوں یہ بڑی رکاوٹ دور کر دی گئی۔ویسے بھی مردم اور خانہ شماری کے ذریعے مُلک کی آبادی اور مُلک میں موجود مکانیت کی گنتی مقصود ہے، اس سے یہ علم ہو گا کہ مُلک میں کتنے افراد بستے ہیں، ان میں کتنے پناہ لینے والے غیر ملکی ہیں اور کتنے لوگ اپنے گھروں سے باہر ہیں۔اگرچہ وزیرستان کے متاثرین کے حوالے سے مقامی سطح پر کوشش کی گئی کہ جو متاثرین بے گھر ہوئے اور ابھی واپس آکر آباد نہیں ہوئے انہیں اُن کے آبائی گھروں میں بھجوا دیا جائے تاکہ مردم اور خانہ شماری کے وقت موجود ہوں۔ یہ بھی ایک مستحسن کوشش ہی کہی جائے گی۔
اب گزشتہ روز ایک اور ہدایت سامنے آ گئی ہے اور یہ لاہور ہائی کورٹ کا ایک حکم ہے، جس کے تحت ہدایت کی گئی ہے کہ مردم شماری کے فارم میں معذوروں کے لئے بھی خانہ بنایا جائے، بصد ادب گزارش ہے کہ یہ حکم اُس وقت صادر کیا گیا جب شمار کے لئے تمام تر انتظامات مکمل ہو گئے، کروڑوں فارم چھپ اور شمار کرنے والی ٹیموں میں تقسیم کئے جا چکے ہیں،ایسے میں نیا فارم بنانا کس قدر مشکل ہو گا اس کا اندازہ ہو سکتاہے کہ یہ کام کیسے ممکن ہے؟خواجہ سرا کے بارے میں بروقت ہدایت کی گئی تو خانہ بن بھی گیا، اب معذوروں کے لئے نیا خانہ بنانے کے لئے مردم اور خانہ شماری کو نئے فارم کی اشاعت تک ملتوی کرنا ہو گا، پہلے ہی یہ سلسلہ سپریم کورٹ کے حکم پر شروع ہوا ہے، اب تو یہی ہو سکتا ہے کہ کیفیت کے خانے میں معذور کے لئے اس کی یہ تعریف درج کر دی جائے، اسے تنقید نہ سمجھا جائے یہ مخلصانہ مشورہ ہے اور اس طرح بہتر انداز میں تعمیل ہو گی اور رکاوٹ بھی نہیں پڑے گی۔