حسین حقانی کے انکشافات پر پارلیمانی کمیشن کی افادیت؟

اداریہ

حکومت اور قومی اسمبلی میں تمام اپوزیشن جماعتیں امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کے بعض انکشافات کی تحقیقات کے لئے پارلیمانی تحقیقاتی کمیشن بنانے پر متفق ہو گئی ہیں۔ ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی مرتضیٰ جاوید عباسی نے جو اس وقت اجلاس کی صدارت کر رہے تھے کہا کہ تمام جماعتیں مل کر ٹرمز آف ریفرنس (ٹی او آر) طے کر لیں، پارلیمانی کمیشن بنا دیا جائے گا۔ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے اسمبلی میں کہا کہ سابق سفیر نے قومی سلامتی کو نقصان پہنچایا اور پاکستانی سفیر ہونے کے باوجود غیر ملکی مفادات کے لئے کام کیا اس پر تحقیقاتی کمیشن قائم کرنا چاہئے، جس کے جواب میں لیڈر آف دی اپوزیشن سید خورشید شاہ نے جن کی جماعت اُس وقت برسر اقتدار تھی جب حسین حقانی امریکہ میں سفارتی فرائض انجام دے رہے تھے، کہا کہ تحقیقات پر اعتراض نہیں، پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے جو بن لادن کے ساتھ تعلقات سمیت تمام ایشوز سامنے لائے،تحریک انصاف، ایم کیو ایم اور دوسری جماعتوں نے بھی کمیشن کی تشکیل کی حمایت کی۔
حسین حقانی نے، جو اِس وقت امریکہ ہی میں مقیم ہیں اور میمو گیٹ معاملے کی تحقیقات کے دوران سپریم کورٹ میں یہ یقین دہانی کرانے کے باوجود کہ اگر اُن کی ضرورت محسوس ہوئی تو وہ فوراً واپس آ جائیں گے آج تک واپس نہیں آئے،امریکی اخبار ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ میں ایک مضمون لکھا ہے، جس میں انکشاف کیا ہے کہ منتخب سویلین قیادت(اُس وقت صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی تھے) کی اجازت سے انہوں نے پاکستانی سفیر کی حیثیت سے اسامہ بن لادن کی تلاش کے لئے سی آئی اے کے اہلکاروں کی پاکستان میں بڑی تعداد میں موجودگی میں مدد فراہم کی،یعنی انہیں پاکستان آنے کے لئے ویزے دیئے گئے۔ مضمون میں کہا گیا ہے کہ2007ء میں اس وقت کے امریکی صدر بش کو اندازہ ہو چکا تھا کہ پاکستانی صدر پرویز مشرف دہشت گردی کے خلاف وعدے پورے نہیں کر سکتے یا نہیں کرنا چاہتے، اس کے بعد پاکستان میں جمہوریت کا خیر مقدم کیا گیا۔ حسین حقانی کے اس مضمون کی اشاعت کے بعد اُن کی پارٹی کے بعض رہنماؤں نے اُنہیں ہدفِ تنقید و ملامت بنایا، جس کے بعد وہ خود بھی میڈیا کے ذریعے بحث و مباحثے میں اُلجھ گئے اور انہوں نے اپنے مضمون کے بارے میں وضاحتیں کیں کہ جو کچھ انہوں نے کہا وہ اِس سے پہلے بھی اخبارات اور میڈیا میں آتا رہا ہے۔
ایبٹ آباد کے معاملے پر سپریم کورٹ کے جج جسٹس(ر) جاوید اقبال کی سربراہی میں جو کمیشن بنا تھا اُس کی رپورٹ تو بہت پہلے حکومت کو دے دی گئی تھی،لیکن آج تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس رپورٹ میں کہا کیا گیا تھا۔اگرچہ بعض حلقے وقتاً فوقتاً اِس کمیشن کی رپورٹ کو پبلک کرنے کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں تاہم اس مطالبے کی ابھی تک پذیرائی نہیں ہو سکی اور یہ صرف ایبٹ آباد کمیشن تک محدود نہیں ہے، پاکستان میں جتنے بھی کمیشن بنتے رہے ہیں اُن کی رپورٹیں عموماً پبلک نہیں کی جاتیں، سقوطِ ڈھاکہ کے اسباب جاننے کے لئے حمود الرحمن کمیشن بنایا گیا تھا، جس نے بڑی عرق ریزی سے اپنی رپورٹ تیار کر کے حکومت کو پیش کر دی،لیکن کئی سال تک تو اِس رپورٹ کو ہوا تک نہ لگنے دی گئی اور خصوصی اہتمام کے ساتھ اسے سات پردوں میں چھپا کر رکھا گیا تاہم اس کے مندرجات کے بارے میں کوئی چھوٹی موٹی رپورٹ ضرور کسی نہ کسی طرح منظرِ عام پر آ گئی، یہاں تک کہ جنرل(ر) پرویز مشرف کے دور میں ایک بھارتی اخبار میں نہ جانے کس طرح یہ رپورٹ شائع ہو گئی تو پاکستان میں بھی اس کے کچھ حصے منظرِ عام پر لائے گئے، پوری رپورٹ پھر بھی سامنے نہیں لائی گئی اور یہاں جو کچھ چھپتا رہا بھارتی اخبار کی رپورٹ کے حوالے سے ہی چھپتا رہا۔
ایبٹ آباد کمیشن کے سربراہ جسٹس(ر) جاوید اقبال نے حسین حقانی کا مضمون سامنے آنے کے بعد کہا ہے کہ وہ اِس بارے میں بہت زیادہ جانتے ہیں،لیکن حلف کی وجہ سے اس کا انکشاف نہیں کر سکتے، اس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اس معاملے پر بہت سی معلومات اپنی رپورٹ میں ضرور دے دی ہوں گی اِس لئے اگر ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر آتی ہے تو شاید مزید کسی پارلیمانی کمیٹی یا کمیشن کی ضرورت ہی نہ رہے اور جو معلومات پہلے سے حکومت کے پاس ہیں اُنہی کی بنیاد پر کوئی رائے قائم کر لی جائے۔اگر حکومت اور اپوزیشن جماعتیں پارلیمانی کمیشن بنانے پر متفق ہیں اور کسی تحقیقات کی ضرورت بھی محسوس کی جاتی ہے تو پھر پارلیمانی کمیشن بنانے میں مضائقہ نہیں،لیکن اگر اس کی رپورٹ کو بھی پہلی رپورٹوں کی طرح فائلوں کے اندر دبا کر ہی رکھنا ہے، تو پھر ایسے کمیشن پر وقت اور محنت لگانے سے کیا حاصل ہو گا، جس طرح پہلے والی رپورٹیں گردو غبار میں دبی ہوئی ہیں ایک اور رپورٹ تیار ہو کر فائلوں کا بوجھ بڑھا دے گی تو اس سے حاصل کیا ہو گا؟
حسین حقانی نے اپنے مضمون میں جو باتیں تحریر کی ہیں اُن سے وہ پارٹی اور اس کے لیڈر ناراض ہیں، جس کی حکومت میں وہ سفارتی ذمے داریاں ادا کر رہے تھے۔ اُسامہ بن لادن کے واقعہ کے اگلے ہی روز آصف علی زرداری نے اپنے نام سے بطور صدر مملکت امریکی اخبار میں مضمون لکھ دیا تھا۔ اس مضمون کے مندرجات کا موازنہ بھی حسین حقانی کے مضمون سے کر کے دیکھ لینا چاہئے۔حسین حقانی نے جو مضمون لکھا اپنی مرضی سے لکھا، اِس موقع پر اس مضمون کی اشاعت کی حکمت کیا تھی یہ بھی وہ خود ہی بہتر جانتے ہوں گے،لیکن انہوں نے گزشتہ روز میڈیا پر کہا کہ پانامہ لیکس سے توجہ ہٹانے کے لئے اِس معاملے کو اُچھالا جا رہا ہے۔ بظاہر اُن کی یہ بات عجیب و غریب لگتی ہے، کیونکہ یہ معاملہ اچھالنے میں اگر کسی نے پہل کی ہے تو وہ خود حسین حقانی ہیں کیا اُنہیں پانامہ لیکس میں ملوث کسی شخص نے کہا تھا کہ وہ یہ مضمون لکھیں اور ایک نئی بحث کے آغاز کا موجب بن جائیں۔ اس وقت جو بھی بحث ہو رہی ہے اور انہیں غدار تک کہنے کی نوبت آ گئی ہے اِس میں پہل حکومت نے کی ہوتی تو حسین حقانی کے خدشے کا کوئی جواز بنتا تھا، نہ حقانی صاحب مضمون لکھتے اور نہ یہ بحث چھڑتی، وہ واشنگٹن جیسے عالمی دارالحکومت میں سفارتی ذمے داریاں نبھا چکے ہیں اور امریکی یونیورسٹیوں میں سیاست پڑھا بھی رہے ہیں اِس لئے اُنہیں خوب اندازہ ہو گا کہ وہ جو کچھ اپنے مضمون میں لکھ رہے ہیں اس کی وجہ سے ایک پنڈورا باکس تو ضرور کھلے گا، خصوصاً وہ اگر ’’سویلین قیادت‘‘ کا ذکر اس انداز میں کریں گے جس طرح انہوں نے کیا تو ’’سویلین قیادت‘‘ کے حالی موالی خاموش تو نہیں بیٹھیں گے، خصوصاً اُن کے بعد سفیر بننے والی محترمہ شیری رحمن نے تو اِس معاملے میں اپنا حصہ ڈالنا ہی تھا اِس طرح پیپلزپارٹی کے رہنما بھی تو خاموش نہیں بیٹھ سکتے تھے۔ تاہم حسین حقانی نے اگر اِس موقع پر مضمون لکھ کر ایک بحث چھیڑ دی ہے تو بہتر ہے وہ خود ہی اس کو تکمیل تک بھی پہنچا دیں۔ جہاں تک پارلیمانی کمیشن کی تشکیل کا معاملہ ہے اس کی تحقیقات کا دائرہ کار کیا ہو گا اور وہ کِس کِس پہلو کی تحقیق کرے گا اس کا اندازہ تو اسی وقت ہو گا جب ٹی او آر بن جائیں گے۔ ڈپٹی سپیکر نے اِسی لئے کہا کہ پہلے ٹی او آر بنا لیں پھر کمیشن کی تشکیل بھی کر دی جائے گی۔ سید خورشید شاہ کو بھی کمیشن بنانے پر اعتراض نہیں،لیکن اِس سے پہلے کہ کمیشن تشکیل ہو، کیا کوئی ایسی صورت ہے کہ عوام کو بھی یہ یقین دلایا جا سکے کہ کمیشن جس نتیجے پر پہنچے گا اس سے عوام کو بھی باخبر کیا جائے گا۔