سندھ میں ڈاکٹروں کو دو ماہ میں ترقی دینے کا حکم

اداریہ


پاکستان سپریم کورٹ نے سندھ کے سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی ترقیوں تک نئی بھرتیاں نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ ڈاکٹروں کو دو ماہ کے اندر ترقیاں دی جائیں گی اور اِس سلسلے میں فورتھ ایئرز فارمولا استعمال کیا جائے گا۔ڈاکٹروں کے معاملات کی سماعت کے دوران سیکرٹری صحت فضل اللہ پیچوہو نے عدالت کو بتایا کہ محکمہ صحت میں باصلاحیت اور اہل ملازمین کی کمی ہے، جس کی وجہ سے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے اور قدم قدم پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ پرچی پر جسے کلرک بھرتی کیا گیا تھا، وہ آج محکمہ صحت میں ڈپٹی سیکرٹری کے عہدے پر کام کر رہا ہے۔ وہ عہدے کا اہل نہیں اور کوئی کام نہیں جانتا ہے، مَیں ڈپٹی سیکرٹری کا کام کس سے لوں؟ سندھ حکومت کے سیکرٹری صحت نے جو صورتِ حال بیان کی ہے، وہ انتہائی افسوسناک ہے۔ سفارش اور رشوت کے ذریعے ملازمتیں حاصل کر کے ترقی پانے والے اپنے فرائض اِس لئے بہتر طور پر ادا نہیں کر سکتے کہ اُن میں مطلوبہ اہلیت نہیں ہوتی، سسٹم کو چلانے کے لئے ایسے ملازمین ہی رکاوٹ ثابت ہوتے ہیں۔ ڈاکٹروں کی ترقیوں کا مسئلہ حل کرنے کے لئے سپریم کورٹ کی طرف سے دو ماہ کے اندر کام نمٹانے کا حکم دیا گیا ہے۔ سندھ میں گریڈ17کے ڈاکٹروں کی کل آسامیوں کی تعداد 6ہزار 768 ہے، جبکہ3075ڈاکٹر کام کر رہے ہیں۔ بقیہ3693آسامیاں بوجوہ خالی چلی آ رہی ہیں۔ سپریم کورٹ کو یہ بھی بتایا گیا کہ ڈاکٹروں کی جو آسامیاں خالی ہیں، ان میں بیشتر وہ ہیں جن پر بھرتی ہونے کے بعد یہ جونیئر ڈاکٹر بیرون مُلک جا چکے ہیں اور ریکارڈ میں ’’ایکس پاکستان لیو‘‘ کے تحت چھٹیاں منا رہے ہیں۔ سپریم کورٹ نے اس پر ہدایت کی کہ جو ڈاکٹر مستقل چھٹی پر گئے ہوئے ہیں، اُنہیں ترقی نہ دی جائے۔ یہ امر باعثِ اطمینان ہے کہ جونیئر ڈاکٹروں کی ترقی کا مسئلہ دو ماہ میں حل ہو جائے گا اور جو ڈاکٹر سیر سپاٹے اور تفریح کے لئے چھٹیوں پر بیرون مُلک گئے ہیں اور مستقل چھٹی پر ہیں، اُنہیں ترقی کے لئے وطن واپس آ کر ڈیوٹی جوائن کرنا ہو گی۔ یوں چھٹیاں منا کر ترقی حاصل نہیں کی جا سکے گی۔