فوجی عدالتوں کے قیام پر دوبارہ اتفاق رائے

اداریہ


پارلیمینٹ کے دونوں ایوانوں (قومی اسمبلی+سینیٹ) میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈروں نے آئندہ دو سال کے لئے فوجی عدالتوں کی توسیع کے معاملے پر اتفاق رائے کر لیا ہے اِس مقصد کے لئے آئین اور آرمی ایکٹ میں ترمیم کی خاطر بل پیر کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، اگلے روز بل کو منظوری کے لئے سینیٹ میں پیش کیا جائے گا، دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد صدرِ مملکت کے دستخطوں سے ترمیم نافذ العمل ہو جائے گی اور فوجی عدالتیں دوبارہ مقدمات کی سماعت شروع کر دیں گی جو7 فروری سے ختم ہو گئی تھیں۔ قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق نے کہا کہ جمعیت العلمائے اسلام اور جماعت اسلامی کو بل میں مذہب کے لفظ پر تحفظات ہیں۔ پیپلزپارٹی کے رہنما سینیٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ اُن کی جماعت عدالتی نظرثانی کی شرط سے دستبردار ہو گئی ہے،اتفاق رائے پیپلزپارٹی کی چار شرطیں تسلیم کرنے کے بعد ہوا ہے۔فوجی عدالتوں کے معاملے پر پارلیمانی رہنماؤں کے بہت سے اجلاس ہوئے، سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار بھی اِس معاملے میں بہت متحرک رہے، پس منظر میں بھی سرگرمیاں جاری رہیں اِس کے بعد کہیں جا کر فوجی عدالتوں کے معاملے پر اتفاق رائے ممکن ہوا ہے، کئی سیاسی جماعتوں کے اِن عدالتوں کی توسیع پر تحفظات تھے، حالانکہ انہی سب جماعتوں نے دو برس پہلے فوجی عدالتوں کے قیام کی منظوری دی تھی اور اتفاق رائے سے آئینی ترمیم کے بعد اِن عدالتوں نے کام شروع کیا تھا۔اگرچہ اس وقت منظوری متفقہ تھی تاہم چیئرمین سینیٹ رضا ربانی اِس معاملے پر بہت زیادہ دُکھی تھے اور ایوان میں اُن کے آنسو نکل آئے تھے اب کی بار کچھ ملتی جلتی کیفیت چودھری اعتزاز احسن کی ہے،جنہوں نے کہا ہے کہ بہت دُکھ کے ساتھ فوجی عدالتیں تسلیم کی ہیں۔ فوجی عدالتوں کی کارروائی میں کچھ ضمانتیں شامل کرنے کی کوشش کی ہے، اپنے نو نکات میں سے دو نکات سے مکمل طور پر دستبردار ہوئے ہیں۔
پیپلزپارٹی نے اپنے نو نکات میں بنیادی طور پر یہ شرط ر کھی تھی کہ فوجی عدالت کا پریذائیڈنگ افسر سیشن جج کو ہونا چاہئے اور فوجی افسر کو اُن کی معاونت کرنی چاہئے، پیپلزپارٹی یہ بھی چاہتی تھی کہ فوجی عدالت کے فیصلے پر ہائی کورٹ کو نظرثانی کا اختیار ہونا چاہئے۔ ان عدالتوں کے قیام کی مدت پر بھی پیپلزپارٹی کو اعتراض تھا وہ دو سال کی بجائے ایک سال کی مدت کے حق میں تھی، تاہم ان مطالبات میں سے کوئی بھی مطالبہ نہیں مانا گیا، البتہ جو مطالبات مانے گئے ہیں اور جن کی منظوری کی وجہ سے نئی فوجی عدالتیں2015ء میں قائم ہونے والی عدالتوں سے قدرے مختلف ہو جائیں گی، اُن میں یہ بات شامل ہے کہ ملزم کو چوبیس گھنٹے میں عدالت میں پیش کیا جائے گا،ملزم کو مرضی کا وکیل کرنے کا اختیار بھی ہو گا اور دورانِ سماعت قانونِ شہادت کا اطلاق ہو گا۔ فوجی عدالتوں کے سارے عمل پر پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کے ذریعے نظر رکھی جائے گی۔ یہ کمیٹی تمام پارلیمانی رہنماؤں پر مشتمل ہو گی اور فوجی عدالتوں، نیشنل ایکشن پلان اور دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متعلق ہر معاملے کی نگرانی کرے گی۔
اکیسویں آئینی ترمیم کے تحت جو متفقہ طور پرمنظورہوئی تھی جنوری2015ء میں دو سال کے لئے فوجی عدالتیں قائم کی گئی تھیں۔ اس ترمیم کے تحت صرف ان دہشت گردوں کو فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے لئے بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا تھا جو مذہب یا فرقے کا نام استعمال کر کے دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث تھے اب حکومت نے جو ابتدائی مسودہ تیار کیا تھا اس میں مذہب یا فرقے کا نام استعمال کرنے کی بجائے ایسے دہشت گردوں کے مقدمات بھی فوجی عدالتوں میں بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا تھا جو ہمہ قسم کی دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث تھے اس طرح وہ لوگ بھی اس کی زد میں آ سکتے تھے، جو دہشت گردی میں تو ملوث ہیں،لیکن یہ مذہبی نہیں،عمومی دہشت گردی ہے اس مسودے میں کسی قسم کی تفریق کے بغیر ہر قسم کی دہشت گردی شامل کر دی گئی تھی۔پاکستان کو صرف مذہبی دہشت گردی ہی کا سامنا نہیں ہے، بلکہ بہت سے واقعات ایسے ہوتے ہیں جن میں ملوث ملزم دہشت گردی تو کرتے ہیں،لیکن اُن کے مقاصد مذہبی نہیں ہوتے،مثال کے طور پر کراچی کے بلدیہ ٹاؤن میں لگنے والی آگ کا واقعہ پیش کیا جا سکتا ہے،جس میں پوری فیکٹری جل کر خاکستر ہو گئی تھی اور ان میں کام کرنے والے مزدور بھی زندہ جل گئے تھے، شروع شروع میں تو یہ تاثر قائم ہوا (یا قائم کیا گیا) کہ آتشزدگی کا یہ واقعہ کسی حادثے کا نتیجہ ہے، لیکن بعد میں یہ بات کھلی کہ ایسا نہیں تھا یہ سنگدلانہ واردات بھتے کی طلبی کا نتیجہ تھی، جب مطالبہ پورا نہ ہوا تو انتہائی شقاوتِ قلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پوری فیکٹری جلا دی گئی اور بعد میں مالکان سے مزدوروں کے لواحقین کو دینے کے لئے معاوضے کے نام پر کروڑوں روپے بھی طلب کئے گئے۔
اب اس طرح کے واقعات دہشت گردی کی تعریف میں تو آتے ہیں، لیکن اِن میں ملوث لوگ نہ تو مذہبی حوالے سے کوئی کردار ادا کر رہے تھے، نہ مذہب کا نام استعمال ہو رہا تھا یہ سیدھا سادہ بھتے کا معاملہ تھا اور اپنی سنگدلی کے لحاظ سے اِس قابل تھا کہ ملزموں کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں ہو اور وہ جلد از جلد اپنے انجام کو پہنچیں، اب معلوم نہیں کہ نئی قانون سازی کے بعد اِس نوعیت کے واقعات کی دہشت گردی کس شمار و قطار میں ہو گی اور ان میں ملوث ملزم کون سی عدالتوں میں پیش ہوں گے،لیکن اگر مُلک کو ہمہ قسم کی دہشت گردی سے پاک کرنا ہے تو پھر سخت قانون بنانا ہوں گے ورنہ مذہبی دہشت گردی تو شاید کنٹرول ہو جائے بھتہ خوری سے جنم لینے والی دہشت گردی پر قابو پانا مشکل ہو گا، جس نوعیت کی وارداتیں ہوتی رہی ہیں اور کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ آئندہ کب تک ہوتی رہیں اُن سے بہرحال آہنی ہاتھ سے نپٹنا ضروری ہے، ذرا سی رو رعایت غفلت یا انسانی حقوق کے نام پر بے جا قانونی رعایت سے اس مسئلے سے نپٹنا مشکل ہو جائے گا۔ فوجی عدالتیں دوبارہ بنائی جا رہی ہیں تو اِن میں ہر قسم کے اُن مقدمات کی سماعت ہونی چاہئے جن کا تعلق دہشت گردی سے ہے۔