سندھ طاس۔۔۔ مذاکرات شروع!

اداریہ


سندھ طاس معاہدہ کے تحت بھارت اور پاکستان کے کمشنروں کے درمیان مذاکرات اسلام آبادمیں 20مارچ سے شروع ہو رہے ہیں، دونوں اطراف کے واٹر کمشنر اپنے وفود کے ساتھ اِن میں حصہ لیں گے جو دو روز جاری رہیں گے۔ یہ مذاکرات جو معاہدے کی بنیادی شق ہیں ہر سال منعقد ہونا لازمی ہیں،لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی کے باعث2015ء کے بعد نہ ہو سکے کہ ستمبر2016ء کا اجلاس اوڑی کیمپ حملہ کی آڑ میں بھارت کی طرف سے ملتوی کر دیا گیا اور اِسی اثناء میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے پاکستان کو پانی کی بہم رسانی سے انکار کیا اور سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کی دھمکی دی۔یہ مذاکرات اب عالمی بنک کی مداخلت کے بعد ہو رہے ہیں تاہم اصل میں بھارت میں ہونے والے ریاستی انتخابات مکمل ہونے پر مودی نے کلیئرنس دی کہ انتخابی مہم کے دوران پاکستان کے خلاف اعلانات اور ہرزہ سرائی کر کے ہی نریندر مودی تین ریاستوں میں انتخابات جیتنے میں کامیاب ہوئے،جن میں سب سے اہم ریاست اُتر پردیش (یو۔پی) ہے۔ریاستی انتخابات سے مطمئن ہونے کے بعد ہی مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی گئی ہے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان یہ معاہدہ 1960ء میں ہوا، جس کا ضامن ورلڈ بنک ہے۔ تاہم تب سے اب تک بھارت کی طرف سے معاہدے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ اور پاکستان کی طرف سے احتجاج جاری ہے۔ بھارت کی حکومت نہ صرف دریائے چناب، بلکہ جہلم اور سندھ پر بھی ڈیم بنا رہی ہے، بظاہر یہ ڈیم بجلی پیدا کرنے کے لئے ہیں،لیکن مودی کے عزائم میں یہ شامل ہے کہ اِن دریاؤں کے منبع پر بند باندھ کر پاکستان کے لئے پانی روک کر بھارت میں نہروں کے ذریعے مہیا کیا جائے گا اور پاکستان کو پانی کے بحران میں مبتلا کر کے صحرا میں تبدیل کریں گے۔ پاکستان کی طرف سے معاملہ عالمی بنک تک لے جایا گیا۔ بنک انتظامیہ نے دونوں کو مشترکہ اجلاس میں دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے معاملہ طے کرنے کی ہدایت کی تھی۔
بھارت کے وفد کی قیادت کمشنر پی کے سکسینہ اور پاکستانی وفد کی قیادت کمشنر آصف بیگ کریں گے۔ اس اجلاس میں بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں چھ پن بجلی گھروں کی تعمیر پر بات ہو گی۔اگرچہ مذاکرات شروع ہونے سے یہ اطمینان پایا جاتا ہے کہ بالآخر معاہدہ پر عمل شروع ہوا اور معاہدہ ختم کرنے کی دھمکی کھوکھلی ثابت ہوئی، کیونکہ ایسا ممکن نہیں،تاہم یہ امر بھی مدّنظر رہے کہ بھارت پن بجلی کے بہانے پاکستان کا پانی روکنے کا منصوبہ بنا چکا ہے اور اِس کا کھلم کھلا اظہار بھی کیا گیا ہے۔پاکستان کی طرف سے ڈیموں کی تعمیر اور ان کے ڈیزائن پر اعتراض کیا جائے گا۔سندھ طاس معاہدہ ایک عالمی معاہدہ ہے جسے یوں بیک قلم جنبش مسترد کرنا مشکل تو ہے،لیکن بھارت کے متعصب وزیراعظم مودی مسلسل ہندوتوا کے فارمولے پر عمل پیرا اور پاکستان دشمنی کا مظاہرہ کرتے چلے جا رہے ہیں۔ ان سے نیکی کی کوئی توقع نہیں، اِس لئے پاکستان کو اپنا کیس مضبوط بنانا ہو گا اور پہلے ہی سے یہ سوچ بھی اپنانا ہو گی کہ بالآخر عالمی عدالت یا عالمی بنک سے رجوع کرنا ہی ہو گا۔ بہرحال مذاکرات کا شروع ہونا اچھی بات ہے۔
لاہور میں فیڈر بس سروس کا آغاز!
انتظار ختم ہوا، حکومت پنجاب نے لاہور میں فیڈر بس سروس کا آغاز کرنے کا فیصلہ کر لیا، پنجاب سپیڈ کے نام سے یہ سلسلہ 20مارچ سے شروع ہو گا، دوسو نئی بسوں پر مشتمل یہ قافلہ چودہ روٹوں پر چلے گا جو میٹرو بس اور میٹرو ٹرین کے سٹیشنوں کو آپس میں ملائے گا، حکومتی اعلان کے مطابق کم از کم 20اور زیادہ سے زیادہ 30روپے فی کس کرایہ ہو گا جو مختلف نوعیت کے سفر پر منحصر ہے، دو سو بسوں کے لئے مقررہ روٹ پر ڈرائیوروں اور کنڈکٹروں کی تربیت مکمل ہو چکی ہے اور اب سب کچھ تیار ہے۔
بسوں میں 28نشستوں والی چھوٹی بسیں بھی ہیں جو زیادہ تنگ اور ٹریفک والے علاقوں میں چلائی جائیں گی۔ لاہور کے شہریوں کو دیر سے اس سہولت کا انتظار تھا، یہ پبلک ٹرانسپورٹ سروس بہت مفید ہو گی اور بہت سے کار والے حضرات بھی اسے ترجیح دیں گے، یہ مفید تر سفر ہو گا اور کم خرچ سے منزل تک پہنچنے میں معاون بھی ہو گا،اس سروس کو فیڈر سروس سے بڑھا کر شہر کے روٹوں تک توسیع دینا چاہئے تاکہ پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال بڑھے اور سڑکوں پر کاروں کا رش کم ہو۔