پاک چین تعلقات اور سی پیک کی اہمیت

اداریہ

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان چین کے ساتھ اپنی مضبوط دوستی کی بڑی قدر کرتا ہے،اور اِسی جوش و جذبے سے آگے بڑھانے کا خواہاں ہے انہوں نے اِن خیالات کا اظہار بیجنگ میں چینی وزیر خارجہ وانگ ژی کے ساتھ ملاقات کے دور ان کیا۔ اِس موقع پر چینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ سی پیک کو حقیقت بنانے کے لئے پاکستان کی کوششیں قابلِ تعریف ہیں۔ پاکستان کو درپیش چیلنجوں کو سمجھتے ہیں، علاقائی امن و استحکام کے لئے پاکستان کا کردار اہم ہے۔ چین پاکستان کی بھارت اور افغانستان سے بہتر تعلقات کی کوششوں کو سراہتا ہے، چینی وزیر خارجہ اور پاکستانی فوج کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کے درمیان ملاقات میں پاکستان کو درپیش چیلنجوں، جیو پولیٹیکل صورتِ حال اور خطے کے امن و سلامتی سے متعلق امور پر گفتگو کی گئی۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ سی پیک کو ’’ون بیلٹ ون روڈ‘‘ سمجھنا پاکستان کا احسن اقدام ہے۔ دوسری جانب چین کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ہواچن ینگ نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کو مسئلہ کشمیر مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہئے۔وزارتِ خارجہ کی ترجمان نے مزید کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے چین کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
آرمی چیف کا عہدہ سنبھالنے کے بعد جنرل قمر جاوید باجوہ نے چین کا پہلا دورہ کیا ہے،دونوں ممالک کے درمیان جو قریبی تعلقات ہیں اِس دورے میں اُن پر ایک دفعہ پھر زور دیا گیا ہے۔ چینی وزیر خارجہ کا یہ کہنا بڑی اہمیت رکھتا ہے کہ چین پاکستان کو درپیش چیلنجوں سے آگاہ ہے اور ضرورت کے وقت پاکستان کی ہر طرح سے مدد کرے گا۔ سی پیک منصوبے کی وجہ سے پاکستان اور چین کے تعلقات نئی بلندیوں سے شناسا ہوئے ہیں۔ پاکستان کے دوست اِس منصوبے سے خوش ہیں اور چند روز قبل ہی وزیراعظم نواز شریف نے انکشاف کیا ہے کہ دُنیا کے54ممالک کو اِس منصوبے سے دلچسپی ہے اتنی بڑی تعداد میں خطے اور دوسرے علاقوں کے ملک اگر اِس عظیم منصوبے میں دلچسپی لے رہے ہیں تو تصور کیا جا سکتا ہے کہ اُن کے نزدیک یہ منصوبہ کتنی زیادہ اہمیت کا حامل ہو گا۔
سی پیک منصوبے پر عملدرآمد تیزی سے جاری ہے تاہم ہزاروں کلو میٹر لمبی سڑکوں کی تعمیر اور اِن کے راستے میں دوسرے ترقیاتی منصوبے ایک دو برس میں تو پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچ سکتے۔ یہ طویل المدت منصوبہ ہے اور پاکستان میں دہشت گردوں نے جس طرح کے حالات پیدا کر رکھے ہیں اُن کی وجہ سے منصوبے پر کام کرنے والے انجینئروں اور فنی ماہرین کی حفاظت کے لئے سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات بھی کرنے پڑ رہے ہیں اور یہ فریضہ پاک فوج کی تشکیل کردہ وہ سپیشل فورس انجام دے رہی ہے جو خصوصی طور پر فوج نے اِس مقصد کے لئے تشکیل کی ہے۔چینی حکام سیکیورٹی کے اِن انتظامات پر مسرور و مطمئن ہیں اور جب بھی اُن کی پاکستانی حکام کے ساتھ ملاقات ہوتی ہے وہ اپنے اطمینانِ قلب کا اظہار کرتے ہیں۔ گوادر کی بندرگاہ سی پیک کا مرکز و محور ہے اِس لئے برّی فوج کے ساتھ ساتھ پاک بحریہ نے گوادر کی حفاظت کے خصوصی انتظامات بھی کئے ہیں۔ابھی گزشتہ روز ہی پاک بحریہ نے خشکی سے سمندر میں مار کرنے والے میزائل کا تجربہ بھی کیا ہے۔ پاک بحریہ نے حال ہی میں امریکہ سمیت دُنیا کے کئی ممالک کے ساتھ بحری مشقیں بھی کی ہیں اِن مشقوں کے نتیجے میں دوسرے ممالک کے ساتھ تجربات کا جو تبادلہ ہوا ہے اس سے بھی مستقبل میں استفادہ کیا جائے گا ان مشقوں میں پاکستان نیوی کی جو پرفارمنس رہی اسی کی وجہ سے پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل محمد ذکا اللہ کو اعلیٰ ترین امریکی فوجی اعزاز لیجن آف میرٹ سے نوازا گیا۔
سی پیک کی یہ تمام سرگرمیاں اُسی صورت خوش اسلوبی سے جاری رہ سکتی ہیں جب خطے کے حالات پُرامن رہیں،لیکن بدقسمتی کی بات ہے کہ بھارت نہ صرف سی پیک کے راستے میں روڑے اٹکانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا،بلکہ کشمیر کی لائن آف کنٹرول پر بھی چھیڑ چھاڑ کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے،جبکہ کشمیر کے اندر ریاستی دہشت گردی جاری ہے اور کشمیری نوجوانوں کو شہید کیا جا رہا ہے۔ کشمیریوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لئے جواہر لال نہرو یونیورسٹی دہلی کے طُلبا سامنے آئے تو سیمینار کا اہتمام کرنے والے طالب علم رہنما کو گرفتار کر لیا گیا، اس کے باوجود پورے بھارت میں کشمیریوں کے حق میں آوازیں اُٹھ رہی ہیں۔ کشمیر کے مسئلے کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے درمیان جو کشیدگی پائی جاتی ہے۔ چین کی وزارتِ خارجہ کا مشورہ ہے کہ دونوں مُلک یہ کشیدگی مذاکرات کے ذریعہ مسئلہ حل کرکے ختم کریں، امن کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا نہ صرف پاکستان، بلکہ بھارت کے بھی مفاد میں ہے کہ وہ کشمیر کا مسئلہ بات چیت کے ذریعے پُرامن طور پرکشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرے اس طرح خطے میں امن کا قیام ممکن ہو سکے گا اور دونوں مُلک اپنے وسائل عوام کی فلاح و بہبود کے لئے مختص کر سکیں گے۔
چین کے وزیر خارجہ نے ہمسایوں کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے لئے پاکستان کے کردار کی تعریف کی ہے، جس کا تازہ ترین ثبوت وہ مذاکرات ہیں جو افغانستان کے ساتھ لندن میں ہوئے، ان مذاکرات کے نتیجے میں نہ صرف دونوں ممالک کے تحفظات دور ہونے کا امکان ہے، بلکہ پاک افغان سرحد دوبارہ کھلنے کا امکان بھی پیدا ہو گیا ہے۔ افغانستان کے ساتھ تعلقات کی تازہ کشیدگی کے پس منظر میں بھی بھارت کا ہاتھ کار فرما ہے، افغانستان میں بھارتی قونصل خانے تخریب کاروں کو تربیت دے کر پاکستان بھیج رہے ہیں جن کی وجہ سے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں ہوتی ہیں، گرفتار بھارتی جاسوس نے اعتراف کیا تھا کہ اُس نے پاکستان کے اندر ایک ایسا نیٹ ورک تشکیل دیا تھا جو منصوبے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے میں ملوث تھا، پاکستان اور افغانستان کے درمیان جو تجارت ہوتی ہے اس پر دونوں ممالک کے تاجروں کا بڑا انحصار ہے، سرحد کی بندش کی وجہ سے تجارتی سازو سامان کی آمدورفت بھی متاثر ہوئی ہے۔اگر سرحد دوبارہ کھلتی ہے تو معمول کی تجارت تو بحال ہو جائے گی، لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ سرحد پر بغیر سفری دستاویزات آنے جانے والوں کے راستے سختی سے بند کر دیئے جائیں اور صرف پاسپورٹ اور ویزے پر معمول کی آمدورفت کی اجازت دی جائے تاکہ دہشت گرد اپنے مقاصد میں کامیاب نہ ہو سکیں۔