کڈنی انسٹیٹیوٹ ملتان کی افسوسناک صورتِ حال

اداریہ


کڈنی انسٹیٹیوٹ ملتان کے دورے کے دوران پنجاب کے وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے جن بے قاعدگیوں اور خامیوں کی نشاندہی کی، ان سے صحت کے شعبے میں عام مریضوں کو دی جانے والی سہولتوں کی فراہمی اور ذمہ دار افسران کی سنجیدگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ سی ٹی سکین جیسی قیمتی اوراہم مشین کو چلانے کے لئے غیر تربیت یافتہ ملازمین کی تعیناتی، ایکسرے مشین کے لئے یو پی ایس نہ لگانے اور بستروں پر گندی چادریں بچھانے کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب نے برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے وہاں موجود حکام کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ ہسپتالوں کو بہترین علاج گاہیں نہ بنانے والے ملازمین اپنے گھروں کو چلے جائیں۔ کڈنی انسٹیٹیوٹ صحت عامہ کے حوالے سے اہم مرکز ہوتا ہے۔ مریضوں کے علاج کے لئے وہاں حکومت قیمتی اور جدید مشینری مہیا کرتی ہے۔ یہ بات حیرت انگیز ہے کہ سی ٹی سکین ٹیسٹ کرنے کے لئے کڈنی انسٹیٹیوٹ میں تربیت یافتہ عملہ تعینات نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ انسٹیٹیوٹ میں تربیت یافتہ عملہ بھرتی کیوں نہیں کیا گیا اور قیمتی مشینری کو غیر تربیت یافتہ لوگوں کے ذریعے چلانے کا رسک کیوں لیا جا رہا ہے؟ اِسی طرح ایکسرے مشین کو چالو رکھنے کے لئے یو پی ایس کا نہ ہونا بھی سخت افسوسناک ہے۔ مریضوں کو ایکسرے کی سہولت ہر وقت مہیا کرنے کے لئے یو پی ایس لازم ہوتا ہے۔ لوڈشیڈنگ اور مقامی طور پر الیکٹرک بریک ڈاؤن کی صورت میں ایکسرے نہ ہونے سے مریضوں کو سخت تکالیف اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اِس معاملے میں یہ معلوم کرنے کی ضرورت ہے کہ انسٹیٹیوٹ میں کسی یو پی ایس کی سہولت مہیا بھی کی گئی ہے یا نہیں؟ جہاں تک انسٹیٹیوٹ میں لائے جانے والے مریضوں کے لئے گندی بیڈ شیٹس کے استعمال کی بات ہے تو ہسپتالوں میں عموماً اِسی طرح ہوتا ہے۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ مریضوں کے لئے جو سہولتیں موجود ہوتی ہیں، وہ نہ مل رہی ہوں تو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ حیرت ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے دورے کے موقع پر بھی ایسی چھوٹی چھوٹی سہولتیں مہیا کرنے کا انتظام نہیں کیا گیا تھا۔ وزیراعلیٰ شہباز شریف گزشتہ تین چار ماہ سے ہسپتالوں میں سہولتوں کی فراہمی کا جائزہ لیتے چلے آ رہے ہیں، انہیں کڈنی انسٹیٹیوٹ کی صورتِ حال سے یقیناًمایوسی ہوئی ہو گی۔ المیہ یہ ہے کہ ہسپتالوں میں مریضوں کے لئے متعلقہ حکام کی طرف سے سہولتوں کی فراہمی پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی۔ صرف کڈنی انسٹیٹیوٹ ہی نہیں بیشتر ہسپتال اور دیگر مراکز صحت میں یہی حال ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کو اس جانب خصوصی توجہ دینے اور پوری سنجیدگی سے اپنے فرائض ادا نہ کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لینے کی ضرورت ہے۔