سی پیک کا مسئلہ کشمیر سے کوئی تعلق نہیں

اداریہ


چین نے سی پیک کے حوالے سے بھارت کے تمام تحفظات اورخدشات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اِس عظیم منصوبے کا مسئلہ کشمیر سے کوئی تعلق نہیں۔ چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ’’ون بیلٹ روڈ سربراہی کانفرنس‘‘ میں بھارت کو خوش آمدید کہنے کا اشارہ کیا ہے۔ چین کی حکومت نے صاف الفاظ میں مودی سرکار کو آئینہ دکھاتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت فضول حیلوں بہانوں سے اپنے تحفظات اور خدشات کا اظہار کرتا رہتا ہے۔ مسئلہ کشمیر بنیادی طور پر کشمیریوں کو حقِ خود ارادیت نہ دیئے جانے کی وجہ سے سنگین صورت اختیارکر چکا ہے، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجی مظالم کی انتہا کر کے تحریکِ آزادئ کشمیر کو دبانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف نے تین روز قبل ہی خبردار کیا ہے کہ فوجی طاقت سے کشمیریوں کی آزادی کی تحریک کو زیادہ دیر تک نہیں دبایا جا سکے گا۔جہاں تک پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کی بات ہے تو یہ منصوبہ اِس خطے کے شاندار مستقبل کی ضمانت ہے۔اگرچہ بھارت اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پرکشمیریوں کو آزادانہ رائے دینے کا وعدہ کر کے مُکر جانے اور مقبوضہ کشمیر میں بے پناہ فوجی مظالم کی وجہ سے قابلِ نفرت کردار بن چکا ہے،لیکن چین نے سی پیک میں بھارت کو بھی شمولیت کی دعوت دی ہے ۔ بھارت کو مسئلہ کشمیر پر صحیح کردار ادا کرنا چاہئے۔ اس کے لئے واحد بہترین راستہ سہ فریقی مذاکرات ہیں۔