اوما بھارتی کی ڈھٹائی اور بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ

اداریہ


متعصب ،انتہا پسند اور مسلم دشمنی میں پیش پیش ہندوؤں کی ڈھٹائی مشہور ہے۔ بی جے پی رہنما اوما بھارتی نے برملا کہا ہے کہ چاہے پھانسی ہوجائے، میں تو شہید کی گئی بابری مسجد کی جگہ رام مندر بنوا کر رہوں گی۔ انتہا پسند اور متعصب ہندو رہنما اوما بھارتی نے سپریم کورٹ کی طرف سے ایل کے ایڈوانی سمیت بی جے پی رہنماؤں کے خلاف بابری مسجد کی شہادت کے الزامات کی بحالی کا فیصلہ تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ نے بی جے پی رہنماؤں کو بابری مسجد کی شہادت کی سازش میں ملوث قرار دیتے ہوئے یہ بھی واضح کیا ہے کہ تمام رہنما بابری مسجد کو شہید کرنے کے معاملے میں مکمل طور پر شریک تھے اور انہوں نے لوگوں کو مشتعل کرتے ہوئے باقاعدہ مسجد شہید کرنے پر اکسایا تھا۔متعصب، انتہا پسند ہندو رہنماؤں کی ڈھٹائی کا یہ عالم ہے کہ وہ اپنے ہی ملک کی سپریم کورٹ کے فیصلے کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں۔جہاں تک بھارتی سپریم کورٹ کی طرف سے اتنا عرصہ گزرنے کے بعد بی جے پی رہنماؤں پر لگائے گئے الزامات کو بحال کرنے کے فیصلے کا تعلق ہے تو یہ مبنی بر انصاف ہے۔ سپریم کورٹ نے پیش کئے گئے تمام تر ثبوتوں کی روشنی میں یہ فیصلہ کیا ہے، اسے سراہا جانا چاہئے اور اگلے مرحلے میں یہ توقع رکھنی چاہئے کہ بھارتی سپریم کورٹ متعصب ہندوؤں کے کسی دباؤ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے بابری مسجد کی شہادت کے ذمہ داران کو قانون کے مطابق سزا ضرور سنائے گی بھارت کو سیکولر ملک قرار دینے والوں کو بھی چاہئے کہ وہ اس ایشو پر انصاف کے تقاضوں کو پورا ہونے دیں یا پھر وہ بھارت کو سیکو لر ملک قرار دینا ترک کردیں۔ بہتر ہوگا کہ بھارتی عدلیہ مسجد کی شہادت میں عملی حصہ لینے والوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا اہم فریضہ جلد ادا کرے۔