لاہور میں کڈنی اور لیور ٹرانسپلانٹ انسٹی ٹیوٹ کا قیام

اداریہ


وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے پاکستان کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ انسٹی ٹیوٹ اینڈ ریسرچ سنٹر کی سائٹ پر ہیپاٹائٹس ٹریٹمنٹ فلٹر کلینک کا افتتاح کر دیا، اس موقع پر انسٹی ٹیوٹ کی مین بلڈنگ کا سنگ بنیاد بھی رکھا گیا۔ جدید مشینری اور طبی سہولتوں سے آراستہ اس فلٹر کلینک میں ہیپاٹائٹس کے مریضوں کو علاج معالجے کی بہترین اور جدید سہولتیں ملیں گی کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ انسٹی ٹیوٹ میں جگر کی پیوند کاری کی سہولت بھی ملے گی۔ وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ ایسے فلٹر کلینک پنجاب کے تمام 36 اضلاع میں بنائے جائیں گے اور ان کلینکوں میں رواں سال کے آخر تک طبی سہولتوں کی فراہمی شروع کر دی جائے گی ان کلینکس کے لئے مشینری ہوائی جہازوں سے منگوانا پڑی تو منگوائیں گے، انہوں نے کہا ملک کی تاریخ میں پہلے اور منفرد پاکستان کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ انسٹی ٹیوٹ اینڈ ریسرچ سنٹر کا پہلا مرحلہ رواں برس 25 دسمبر کو مکمل ہو جائے گا اور یہاں پر جگر کی پیوند کاری کا پہلا آپریشن بھی ہوگا یہاں مستحق اور غریب مریضوں کا مفت علاج ہوگا اور انہیں مفت لیور ٹرانسپلانٹ کی سہولت بھی میسر ہو گی اس ہسپتال کو 14 اگست 2017ء کو کام شروع کرنا تھا لیکن اس میں بعض وجوہ کی بنا پر تاخیر ہوئی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ انسٹی ٹیوٹ اینڈ ریسرچ سنٹر میں ڈاکٹروں کی کوئی ہڑتال نہیں ہو گی بلکہ تمام ڈاکٹر اور عملہ دل و جان سے عوام کی خدمت کرے گا انہوں نے ینگ ڈاکٹروں سے اپیل کی کہ احتجاج کا راستہ چھوڑ کر دکھی انسانیت کی خدمت کریں ۔
بیدیاں روڈ پر یہ انسٹی ٹیوٹ ڈاکٹر سعید اختر کی نگرانی اور سربراہی میں قائم کیا جارہا ہے۔ اس ہسپتال پر جو 60ایکڑ اراضی پر محیط ہوگا، 16ارب روپے لاگت آئے گی جبکہ مریضوں اور ادویات پر 8ارب روپے سالانہ خرچ ہوں گے جو ابتدائی طور پر تین سال تک پنجاب حکومت برداشت کرے گی جس کے بعد 25فیصد اخراجات صوبائی حکومت اورباقی 75فیصد اخراجات خود انسٹی ٹیوٹ برداشت کرے گی بنیادی طور پر کڈنی انسٹی ٹیوٹ کا خیال ڈاکٹر سعید اختر کو 2004ء میں آیا تھا، وہ ہر دو ماہ بعد امریکہ جاتے اور جتنی رقم کی ضرورت ہوتی وہاں سے اکٹھی کرکے لاتے تھے۔ 2012ء تک یہ منصوبہ خاصا پھیل گیا تھا، ڈاکٹر سعید اختر کا کہنا ہے کہ انہیں اس بات کا بہت دکھ اور قلق تھا کہ کڈنی( گردے) کے مریض وقت لینے کے بعد چھ چھ ماہ تک انتظار کی سولی پر لٹکے رہتے تھے اسی پریشانی کی وجہ سے ڈاکٹر سعید اختر کو یہ خیال آیا کہ اس مقصد کے لئے پنجاب حکومت کی مدد حاصل کی جائے ایک دوست کی وساطت سے وزیر اعلیٰ شہباز شریف سے ملاقات ہوئی جنہوں نے ہر قسم کے تعاون کی نہ صرف یقین دہانی کرائی بلکہ تمام اقدامات کا اعلان بھی کردیا، صرف اتنا کہا کہ ان میں سے ایک ہسپتال لاہور میں ضرور بننا چاہئے اس مقصد کے لئے انہوں نے ہمیں 2015ء میں 60ایکٹر زمین بیدیاں روڈ پر الاٹ کردی اور ٹرسٹ بھی بنا دیا گیا۔
جگر کا مرض ہیپاٹائٹس بنیادی طور پر گندے پانی سے پھیلتا ہے اور بد قسمتی ہے کہ پاکستان کے شہریوں کو پینے کے لئے صاف پانی بھی میسر نہیں ہے پنجاب کی حکومت نے چند برس پہلے جو واٹر فلٹریشن پلانٹ لگانے شروع کئے ہیں وہ بھی محدود آبادی کی رسائی میں ہیں، لاہور سے باہر اور چھوٹے شہروں اور قصبات میں صاف فلٹر شدہ پانی کا کوئی تصور موجود نہیں، بلکہ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ منرل واٹر کے نام پر جو پانی فروخت ہو رہا ہے۔ وہ بھی غیر معیاری ہے لوگ زیادہ سے زیادہ یہی کر سکتے ہیں کہ اپنی صحت کی خاطر محدود وسائل میں پانی خرید کر استعمال کرلیں لیکن اگر یہ پانی بھی صاف نہیں ہوگا تو پھرلوگ کہاں جائیں؟ خوراک میں ملاوٹ کی وجہ سے بھی بیماریاں پھیل رہی ہیں بچوں کے دودھ تک میں ملاوٹ ہوتی ہے جس کی وجہ سے بچوں کی نشوونما بھی اچھی طرح نہیں ہوتی ایسے حالات میں اگر بیمار ہونے والوں کو ہسپتالوں کی سہولت بھی میسر نہیں ہو گی تو ان کی زندگی اجیرن ہو جائے گی۔ پاکستان میں گردے اور جگر کے علاج کی محدود سہولتیں ہی میسر ہیں اب اگر اس مقصد کے لئے مخصوص ایک ہسپتال ایک صاحبِ دل ڈاکٹر کی مساعی اور پنجاب حکومت کی معاونت سے بن رہا ہے تو ضروری ہے کہ اس ہسپتال کا حال دوسرے سرکاری ہسپتالوں کی طرح نہ ہو جہاں آئے روز ہڑتالیں ہوتی رہتی ہیں اور ’’ینگ ڈاکٹرز‘‘ مریضوں سے بھی الجھ پڑتے ہیں یہاں تک کہ مریضوں یا ان کے ساتھ ہسپتال سے رجوع کرنے والے ان کے لواحقین سے لڑتے جھگڑتے بھی رہتے ہیں اور جن وارڈوں میں مریضوں کا علاج ہونا چاہئے وہ لڑائی مار کٹائی کا منظر پیش کریں گے تو مریضوں کا پرسانِ حال کون ہوگا؟
وزیر اعلیٰ نے کڈنی انسٹی ٹیوٹ میں ہیپاٹائٹس فلٹر کلینک کا افتتاح کرتے ہوئے ڈاکٹروں سے کہا کہ وہ ہڑتالوں سے گریز کریں لیکن کیا ان کی اس اپیل سے سرکاری ہسپتالوں میں ہڑتالوں کا بڑھتا ہوا کلچر تبدیل ہو جائے گا؟ بظاہر تو معاملات جس حد تک خراب ہو گئے ہیں لگتا تو نہیں ہے کہ ایسا ہوگا اس کے لئے ضروری ہے کہ ڈاکٹروں اور حکومت کے نمائندے ایک ہی مرتبہ بیٹھ کر مسائل پر غور کرکے حل طلب مسئلوں کا شیڈول طے کر لیں۔ جو مسائل حکومت کو حل کرنے ہیں ان کے حل کا شیڈول بنا لیا جائے اور جن مسائل کے متعلق حکومت یہ سمجھتی ہے کہ اسے وقت ملنا چاہئے ان کے بارے میں بھی کوئی تاریخ مقرر کر لی جائے جو مطالبات ڈاکٹروں نے محض دباؤ ڈالنے کے لئے رکھے ہوئے ہیں وہ واپس لئے جانے چاہئیں اس کے جواب میں ڈاکٹروں کو بھی یہ یقین دہانی کرانی پڑے گی کہ وہ ہسپتالوں میں مریضوں کے علاج معالجے پر توجہ دیں گے اور بات بے بات ہڑتالوں سے گریز کریں گے۔ بعض اوقات تو ڈاکٹروں کا رویہ صریحاً زیادتی پر مبنی ہوتا ہے اور نظر بھی آتا ہے اس رویے کی وجہ سے ڈاکٹروں کی جگ ہنسائی بھی ہوتی ہے۔ یہ تو چند بڑے شہر ہیں جہاں ڈاکٹروں کی خدمات کسی نہ کسی طرح دستیاب ہیں چھوٹے شہروں اور قصبات میں تو پیچیدہ امراض کے علاج کا کوئی تصور نہیں اور ڈاکٹر اِن علاقوں کا رخ بھی نہیں کرتے کیونکہ انہیں اپنے پرائیویٹ کلینکوں کو بھی وقت دینا ہوتا ہے دیہات میں تو اس طرح کے کلینک نہیں چل سکتے اس لئے دیہی علاقے سال ہا سال سے عطائیوں کے سپرد ہیں ایسے میں گردوں اور جگر کے علاج کے لئے سٹیٹ آف دی آرٹ انسٹی ٹیوٹ کا قیام خوش آئند ہے۔