جدید ترین بس سروس کا آغاز

اداریہ


پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف نے فیڈر بس سروس کا افتتاح کرتے ہوئے زندہ دلان لاہور کو جدید اور ایئر کنڈیشنڈ بسوں کے ذریعے خوشگوار سفر کا تحفہ دیا ہے۔ ابتدائی طور پر شہر میں دو سو بسیں چلانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ شہباز شریف نے فخریہ کہا ہے کہ لاہور میں لوگ انٹرنیشنل سٹینڈرڈ کی حامل عوامی ٹرانسپورٹ ’’پنجاب سپیڈ‘‘ کے ذریعے سستے ترین کرائے 25) روپے( کی ادائیگی سے پورے شہر میں سفر کرسکتے ہیں۔ میٹرو بس کے بعد وزیراعلیٰ شہباز شریف نے لاہور کے شہریوں کو عالمی معیار کی دوسری سفری سہولت مہیا کی ہے۔ لاہور میں ٹرانسپورٹ کا مسئلہ پچھلے دو تین عشروں سے سنگین صورت اختیار کرچکا ہے۔ سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ اور ناجائز تجاوزات کی وجہ سے صورت حال ابتر ہوچکی ہے۔ سیاسی اور تجارتی لحاظ سے مستحکم انجمنوں اور تنظیموں کی وجہ سے ناجائز تجاوزات کو ختم کرنے سے عموماً گریز ہی کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ آئے روز مختلف سرکاری محکموں اور نجی اداروں کے ملازمین کے احتجاج کی وجہ سے بیشتر سڑکوں پر گھنٹوں ٹریفک جام رہتا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ نے مال روڈ پر جلسے جلوس اور احتجاجی ریلیوں کی ممانعت کا حکم دے رکھا ہے لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔ تاجر برادری احتجاج ہی کرتی رہ جاتی ہے۔ بعض اوقات سڑکوں کی توسیع اور اپ گریڈیشن کے باعث بھی لوگوں کے لئے سفر ایک اذیت ناک مرحلہ بنتا رہتا ہے۔ ٹوٹی پھوٹی ویگنوں اور پھٹیچر بسوں کے ذریعے سفر ایک عذاب بنا ہوا ہے۔ رکشے کا سفر بہت مہنگا پڑتا ہے اور منہ مانگا کرایہ ادا کرنا عام آدمی کی جیب پر بھاری ثابت ہوتا ہے۔ میٹرو بس سے ابھی تک بیس فیصد سفری سہولت میسر آئی ہے۔ اب جدید اور ایئر کنڈیشنڈ بسوں کے چلنے سے لوگوں کو مزید سہولت حاصل ہوگی۔ اس کے لئے حکومت پنجاب کی یہ کاوش لائق تحسین ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اعلان کے مطابق دو سو بسیں چلائی جائیں اور بعد میں بسوں کی تعداد میں اضافہ بھی کیا جائے۔ جب میٹرو بس سروس چلائی گئی تھی تو ایک سو میٹرو بسیں چلانے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن پچاس سے بھی کم بسوں کی سہولت مہیا کی گئی تھی۔ لوگوں کو گزشتہ سال سے شکایت ہے کہ میٹرو بسوں میں رش بہت زیادہ ہونے سے پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ توقع رکھنی چاہئے کہ فیڈر بس سروس کی بسوں میں یہ مسئلہ نہیں ہوگا۔