ازدواجی فرائض کی ادائیگی سے قبل یہ ایک کام کرنے سے بیٹے کی پیدائش کا امکان بے حد زیادہ ہوتا ہے، جدید تحقیق میں سائنسدانوں نے انتہائی حیران کن انکشاف کردیا

تعلیم و صحت

سان فرانسسکو (نیوز ڈیسک) امریکا میں اسقاط حمل پر کی جانے والی ایک حالیہ تحقیق میں حیران کن انکشاف ہوا ہے کہ ازدواجی فرض کی ادائیگی سے قبل ایسپرین استعمال کرنے والی خواتین میں لڑکے کو جنم دینے کا امکان دیگر خواتین کی نسبت زیادہ ہو جاتا ہے۔
اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جو خواتین حمل سے قبل ذہنی دباﺅ، ماحولیاتی آلودگی اور سگریٹ نوشی جیسے مسائل سے متاثر ہوتی ہیں ان میں لڑکے کو جنم دینے کا امکان کم ہوجاتا ہے، جبکہ اس کے برعکس درد اور بخار کے لئے استعمال ہونے والی عام دوا ایسپرین کا ازدواجی فرض کی ادائیگی سے قبل استعمال نہ صرف حمل کے امکان کوبڑھادیتا ہے بلکہ لڑکا پیدا ہونے کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔

حاملہ خاتون نے بچے کو جنم دینے کے دوران ایسا کام کردیا جو آج تک کسی خاتون نے نہ کیا ہوگا، انٹرنیٹ پر تہلکہ برپاکردیا
یونیس کینیڈی شریور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ ہیومن ڈویلپمنٹ کی تحقیق میں اسقاط حمل کے مسئلے کا سامنا کرنے والی 1228 خواتین کو جنسی اختلاط سے قبل ایسپرن کھانے کو دی گئی۔ تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ جن خواتین نے اختلاط سے قبل ایسپرن استعمال کی ان میں سے 31 فیصد کے ہاں لڑکے پیدا ہوئے، جبکہ خواتین کا دوسرا گروپ جنہوں نے ایسپرن استعمال نہیں کی ان میں 23 فیصد کے ہاں لڑکے پیدا ہوئے۔
کیئر فرٹیلٹی کلینکس کے سربراہ پروفیسر سائمن فشل کا کہنا ہے کہ رحم کی سوزش کی وجہ سے اسقاط حمل کا مسئلہ پیدا ہوجاتا ہے لیکن جب ایسپرن استعمال کی جاتی ہے تو اس سوزش میں کمی آجاتی ہے، جس کی وجہ سے ناصرف حمل کا امکان بڑھ جاتا ہے بلکہ لڑکے کی پیدائش کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس سلسلے میں مزید تحقیقات کی ضرورت ہے تاکہ ایسپرین کو ان خواتین کے لئے باقاعدہ طور پر تجویز کیا جا سکے کہ جن کے ہاں لڑکوں کی پیدائش نہ ہورہی ہو۔