’جو لوگ تیز کھانا کھاتے ہیں ان کو یہ سنگین ترین بیماری لاحق ہونے کا خطرہ 5 گنا زیادہ ہوتا ہے‘ سائنسدانوں کا ایسا انکشاف کہ جان کر آپ بھی اسلامی تعلیمات پر عش عش کر اُٹھیں گے

تعلیم و صحت

ٹوکیو(مانیٹرنگ ڈیسک)بعض لوگ اس قدر تیزی سے کھاتے ہیں گویا ابھی ان کے سامنے سے کوئی کھانا اٹھا لے گا۔ایسے لوگوں کے لیے سائنسدانوں نے نئی تحقیق میں انتہائی خطرناک خبر سنا دی ہے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق جاپان کے سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ ”تیزی سے کھانانگلنا انسان کے لیے انتہائی خطرناک ہوتا ہے اور اسے کئی طرح کی خطرناک بیماریوں میں مبتلا کرنے کا سبب بن سکتا ہے جن میں شوگر، ہائی بلڈ پریشر، ہائی کولیسٹرول، موٹاپا اور دل کی بیماریاں شامل ہیں۔“

’ریسٹورنٹ میں گلاس پر لگا لیموں کا ٹکڑا کبھی غلطی سے بھی اپنے مشروب میں نہ ڈالیں کیونکہ اس میں۔۔۔‘ ماہرین نے سخت ترین وارننگ جاری کردی
ہیروشیما یونیورسٹی کے ماہرین امراض قلب و دیگر سائنسدانوں نے اس تحقیق میں درمیانی عمر کے 1ہزار سے زائد مردوخواتین پر تجربات کیے۔ انہوں نے 5 سال تک ان کی کھانے کی رفتار اور اس کے ان کی صحت پر اثرات کا معائنہ کیا اور نتائج مرتب کیے جن میں معلوم ہوا کہ جو لوگ تیز رفتاری سے کھانا کھاتے ہیں ان کے مذکورہ بیماریوں میں مبتلا ہونے کے امکانات ساڑھے 5گنا زیادہ ہو جاتے ہیں۔تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر تاکیوکی یاماجی کا کہنا تھا کہ ”تیز کھانا کھانے سے انسان کے نظام انہضام میں خطرناک تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جو جان لیوا بیماریوں پر منتج ہوتی ہیں۔ لوگ جب انتہائی تیزی سے کھانا کھاتے ہیں تو ان کے جسم کو یہ محسوس کرنے کا وقت ہی نہیں ملتا کہ اسے اب مزید کھانے کی ضرورت نہیں رہی،یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگ دوسروں سے زیادہ کھاتے ہیں۔اس سے معدے میں جو مہلک تبدیلی آتی ہے اسے ’میٹابولک سنڈروم‘ کہتے ہیں۔جو لوگ نارمل سے بھی سست رفتار سے کھانا کھاتے ہیں انہیں یہ بیماریاں لاحق ہونے کے امکانات سب سے کم ہوتے ہیں۔“