بچے کی پیدائش میں دیر کرنے والی خواتین اس سنگین ترین بیماری کا شکار ہوسکتی ہیں، سائنسدانوں نے تشویشناک بات کہہ دی، نوجوان جوڑوں کو مفید ترین مشورہ دے دیا

تعلیم و صحت

لندن (نیوز ڈیسک) جدید دور کے سماجی اور معاشی حالات کی وجہ سے شادیوں میں تاخیر ایک عام مسئلہ بن گیا ہے، اور شادی ہو بھی جائے تو جوڑے بچے کی پیدائش میں تاخیر کرتے نظر آتے ہیں۔ برطانوی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ تاخیر خواتین کے لئے خصوصی طور پر خطرناک ہے کیونکہ اس کا نتیجہ کینسر کی صورت میں بھی نکل سکتا ہے۔
اخبار ڈیلی میل کے مطابق برطانوی ادارے ”کینسر ریسرچ یوکے“ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پچھلی ایک دہائی کے دوران کینسر کی شرح میں مجموعی طور پر تقریباً 25 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ بچوں کی پیدائش میں تاخیر یا بچے پیدا نہ کرنے والی خواتین میں کینسر کا خطرہ تقریباً 33 فیصد زیادہ پایا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی بنیادی وجہ ہارمونز کا عدم توازن ہے جس کا غیر شادی شدہ خواتین کو زیادہ سامناکرنا پڑتا ہے۔ تحقیق کے مطابق خواتین میں پایا جانے والا ہارمون ایسٹروجن کینسر کے خلیات کی نشوونما کا باعث بنتا ہے۔ حمل کے وجہ سے اس ہارمون کی افزائش میں کمی واقع ہوجاتی ہے جبکہ بچوں کو دودھ پلانے کے دوران بھی اس کی افزائش بہت کم رہتی ہے۔ ایسٹروجن ہارمون کی مقدار جسم میں کم رہنے کی وجہ سے کینسر کے خلیات کو بڑھنے کا موقع نہیں ملتا۔ اسی طرح حمل کے دوران پروجیسٹرون ہارمون کی مقدار میں اضافہ ہوجاتا ہے جو کہ کینسر سے بچاﺅ میںا ہم کردار ادا کرتا ہے۔ بچوں کی پیدائش میں جتنی تاخیر ہوگی خواتین کو ایسٹروجن کے منفی اثرات کا اتنا ہی زیادہ سامنا کرنا پڑے گا، جس میں کینسر کا خدشہ بھی شامل ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کینسر کی مجموعی شرح میں اضافے کی وجہ موٹاپا، سگریٹ نوشی، شراب نوشی اور غیر متوازن خوراک بھی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق شراب نوشی کی وجہ سے جگر کے کینسر میں 59 فیصد کا اضافہ پچھلی ایک دہائی کے دوران ہوا ہے، جبکہ جلد کے کینسر میں 54 فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔ خواتین میں رحم کے کینسر کی شرح گزشتہ ایک دہائی کے دوران نمایاں طور پر بڑھی ہے اور اب یہ چوتھا سب سے زیادہ پایا جانے والا کینسر بن گیا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران بریسٹ کینسر کی شرح میں 8 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ اس کا خدشہ بھی تاخیر سے اولاد پیدا کرنے یا اولاد سے محروم خواتین میں نسبتاً زیادہ پایا جاتا ہے۔