وہ حرام چیز جسے استعمال کرنے والوں میں مردانہ کمزوری کا خطرہ بے حد بڑھ جاتا ہے، سائنسدانوں نے واضح اعلان کردیا، مردوں کو خبردار کردیا

تعلیم و صحت

لندن (نیوز ڈیسک) مردانہ قوت سے محرومی کسی بھی مرد کے لئے ایک ڈراﺅنا خواب ہے۔ یہ بیماری صرف عزت نفس اور خود اعتمادی کی ہی قاتل نہیں بلکہ بسااوقات گھر بھی برباد کرکے رکھ دیتی ہے۔ اگرچہ اس مسئلے کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں لیکن سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ حرام مشروب یعنی شراب اس کی اہم ترین وجوہات میں سے ایک ہے، اور ضروری نہیں کہ بہت زیادہ شراب پینے والوں کو ہی نامردی کا سامنا کرنا پڑے بلکہ ہلکا پھلکا ’شغل‘ کرنے والے بھی دردناک انجام کا شکار ہوسکتے ہیں۔
ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر ایڈم سائمن نے مردانہ قوت پر شراب کے منفی اثرات کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا ”جنسی تناﺅ کے دوران خون رگوں میں داخل ہوتا ہے، جو بعدازاں سکڑ جاتی ہیں اور تناﺅ برقرار رہتا ہے۔ شراب نوشی کرنے والوں کی رگیں خون داخل ہونے کے بعد پوری طرح سکڑ نہیں پاتیں جس کی وجہ سے خون اعضاءمیں ٹھہر نہیں پاتا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ تناﺅ برقرار رکھنا ممکن نہیں ہوتا، جسے دوسرے لفظوں میں نامردی کہا جاتا ہے۔ شراب نوشی کی وجہ سے سپرم کی صحت اور تعداد بھی متاثر ہوجاتی ہے۔ شراب کا نشانہ ٹیسٹاسٹیرون ہارمون بھی بنتا ہے، جس کی مقدار میں غیر معمولی کمی ہونے کی وجہ سے جنسی تحریک ختم ہوکررہ جاتی ہے۔ ٹیسٹاسٹیرون ہارمون کی کمی کی وجہ سے سپرم پیدا کرنے کی صلاحیت بھی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔“

تحقیق کاروں کا مزید کہنا ہے کہ 40 سے 70 سال عمر کے مردوں میں سے تقریباً نصف کو کسی نہ کسی صورت میں مردانہ کمزوری کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن شراب پینے والوں میں یہ شرح خوفناک حد تک زیادہ ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ مردانہ کمزوری سے بچنے کیلئے سادہ غذا اور ورزش بہت مفید ہے، لیکن شراب نوشی کرنے والے بدقسمت مرد اچھی غذا اور ورزش کے باوجود مردانہ کمزوری اور بانجھ پن کا شکار بن جاتے ہیں۔