کترینہ کیف کی نئی فلم کا گانا ’کالا چشمہ‘ جس نے انٹرنیٹ پر دھوم مچادی، لیکن دراصل یہ گانا کس عام آدمی نے لکھا، اس سے یہ گانا کس طرح چُرایا گیا اور پھر اس کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟ ایسا انکشاف کہ بھارتی فلم انڈسٹری کا پول پوری دنیا کے سامنے کھل گیا

تفریح

ممبئی (نیوز ڈیسک) بھارتی فلم انڈسٹری میں بیرون ملک سے آئیڈیاز، موسیقی اور کہانیاں چرانے کا رواج تو عام بات تھی ، لیکن اب پتا چلا ہے کہ بالی وڈ کے ماہر چور تو اپنوں کو بھی معاف نہیں کرتے۔ کترینہ کیف اور سدھارت ملہوترا کی فلم بار بار دیکھو کا گانا ’کالا چشمہ‘ بھی ایک ایسی ہی مثال ہے، جسے ہر کوئی گنگناتا نظر آتا ہے لیکن حیرت کی بات ہے کہ کسی کو معلوم ہی نہیں کہ اس گانے کا اصل خالق بھارتی پنجاب پولیس کا ایک ہیڈ کانسٹیبل ہے، جس کا گانا چرانے والے مشہور لوگوں نے اس سے معذرت تک نہیں کی۔
اخبار ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق یہ مشہور گیت 1990ءکی دہائی میں کپور تھلا سے تعلق رکھنے والے ہیڈ کانسٹیبل امریک سنگھ نے لکھا، جب وہ ایک نوعمر لڑکے تھے۔ جالندھر کے قریبی گاﺅں تلونڈی چودھریاں سے تعلق رکھنے والے 43 سالہ امریک سنگھ کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے یہ گیت لکھا تو ان کے تصور میں بھی نہیں تھا کہ کوئی اسے کسی مقبول فلم کا حصہ بنا لے گا، اور وہ بھی انہیں خبر کئے بغیر ۔ ان کا کہنا تھا کہ جب دو ماہ قبل ان کے ایک دوست نے فون کرکے بتایا کہ کالا چشمہ ایک چینل پر چل رہا تھا تو وہ واقعی حیرت زدہ رہ گئے۔
امریک سنگھ نے بتایا کہ جب انہوں نے یہ گیت لکھا تو ان کی عمر 15 سال تھی اور وہ نویں جماعت کے طالبعلم تھے۔ بھارت سے پہلے ان کا گانا کینیڈا میں مقبول ہوا اور پھر ایک میوزک کمپنی نے اسے بھارت میںلانچ کیا۔ کئی سال قبل ہی یہ گانا شہرت کی بلندیوں پر پہنچا لیکن پھر لوگوں کی یادداشت سے محو ہو گیا۔ اب ایک بار پھر ہر کوئی اسے گنگنا رہا ہے، لیکن اس کے خالق کے بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہیں۔