گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 49

فادرآف گوادر

سوئٹزرلینڈ چونکہ ساحل سے محروم ہے، اس لئے یہاں کی بحریہ ان چھوٹے چھوٹے جہازوں پر مشتمل ہے جو اس کی بڑی بڑی جھیلوں میں چلتے ہیں۔ میں لندن سے ہائی کمشنر کی کار لے کر جنیوا جاتا تھا۔ا س طرح میں نے اس خوبصورت ملک کے اچھے حاصے علاقے کی سیر کرلی۔ میرا شو فرمجھے ہمیشہ مشورہ دیتا تھا کہ جرمنی میں رائن کی وادی سے ہوتے ہوئے اٹلی کی سیر کو چلیں لیکن میں اس سیر کے لئے کبھی نہیں نکلا کیونکہ مجھے یقین نہ تھا کہ ایک آمر مطلق کے ملک میں معلوم نہیں کیا واردات گزرے۔

گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 48 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
میں نے 1937ء ہندوستان کی سوتی صنعت کے ایک وفد کی قیادت کی۔ یہ وفد واشنگٹن گیا تھا۔ جی ڈی برلا کے چھوٹے بھائی ہندوستان کے سوتی صنعتکاروں کی نمائندگی کرنے کے لئے میرے ساتھ روانہ ہوئے۔ ان کے ہمراہ ان کی بیوی بھی تھیں اور کھانا پکانے کے لئے ایک رسوئیا بھی کیونکہ وہ لوگ بڑے کٹر ہندو تھے۔ اخباروں میں ان کی کئی تصویریں شائع ہوئیں جن میں انہیں ہوٹل کی نشست گاہ میں زمین پر بیٹھ کر ہندوستانی کھانا کھاتے ہوئے دکھاگیا تھا۔ مگر انہوں نے مجھے کبھی کھانے پر مدعو نہیں کیا کیونکہ ان کے عقیدے کے مطابق میرے وہاں جانے سے ان کا کمرہ بھر شٹ ہوجاتا۔
ایک دن واشنگٹن میں وزیر محنت مس پرکنس نے ہمیں رات کے کھانے پر مدعو کیا۔ اگر میرا حافظہ درست ہے تو یادپڑتا ہے کہ ان کا اصل نام مسز ولسن تھا۔ ان کے بچے تھے اور ہنسی خوشی عائلی ز ندگی گزاررہی تھیں۔ انہوں نے یہ بڑی نوازش کی کہ ہم سب کو اپنے گھر پر مدعو کیا۔ کھانے کے بعد جب میں ان سے باتیں کررہا تھا تو دوران گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ ہمارے آئین کی ایک بہت بڑی کوتاہی یہ ہے کہ وزراء کو کانگریس کے اجلاس میں اپنے معاملات کا دفاع کرنے کے لئے خود موجود ہونے کی اجازت نہیں۔ ان کی طرف سے ممبروں کو تقریریں کرنی پڑتی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ امریکہ کے آئین کی یہ بہت بڑی کمزوری ہے، جس کی اصلاح ہوجانی چاہیے۔ حکومت کے تمام وزراء کو اپنے معاملات کے تحفظ کی خاطر پارلیمنٹ کے اجلاس میں بیٹھنے کا حق ہونا چاہیے۔ جیسا کہ 1937ء تک دہلی میں اور صوبوں کی اسمبلیوں میں بھی اس کی اجازت تھی۔ اس وقت حکومت کے نامزد وزراء بھی، جو ایوانون کے منتخب ارکان نہ تھے، پارلیمنٹ میں بیٹھتے تھے۔ اس صورت میں آئین کے تحت یہ اہتمام کرنا ہوگا کہ کوئی منتخب رکن وزیر مقرر نہیں ہوسکے گااور اگر اسے وزارت قبول کرنا ہے تو رکنیت سے مستعفی ہونا پڑے گا۔ اگر یہ اہتمام نہ ہوا تو پارلیمنٹ میں مستقل طور پر انتشار برپارہے گا۔ اگر وزراء کو اپنا کام کرنے کے لئے زیادہ وقت درکار ہے تو انہیں نائب وزراء کے تقرر کا اختیار ہونا چاہیے تاکہ وہ پارلیمنٹ میں ان کی نمائندگی کرسکیں لیکن نائب وزراء بھی ایوان کے منتخب ارکان نہیں ہونے چاہئیں۔ امریکہ جس قرینے سے اپنا یہ مسئلہ حل کرے گا، ایک دنیا پوری دلچسپی کے ساتھ اس کا مشاہدہ کرے گی۔
میں اکتوبر 1938ء میں اپنی اہلیہ مرحومہ اور بچوں کو لے کر چھٹی پر ہندوستان روانہ ہوا۔ میرے سب سے چھوٹے لڑکے منظور کو جو اس وقت ڈھائی برس کا تھا، نمونیہ ہوگیا اور عدیس ے ممبئی تک کاایک دن کاسفررہ گیا تھا کہ اس کا مرض خطرناک صورت اختیار کرگیا۔ جہاز کے ڈاکٹر نے مجھے آنے والے المیہ سے خبردار کردیا تھا۔ اس نے معذرت کی کہ سلفا دوائیں میرے پاس موجود نہیں کیونکہ ان کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے۔ ان مایوس کن حالات میں مَیں اپنے کیبن میں داخل ہوا۔ مجھے یہ معلوم تھا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دل کی گہرائی سے اگر کوئی دعا مانگی جائے تو وہ اسے ضرور قبول فرماتا ہے۔ میں نے اپنی جائے نماز بچھائی اور دعا کی ’’اے باری تعالی، تو کائنات کا خالق ہے اور موت تیرے ہی اختیار میں ہے۔ اس بچہ کو ہمیں دینے والا بھی تو ہی ہے اور اسے واپس لینے کی قدرت تجھی کو حاصل ہے۔ مَیں تیری قدرت کاملہ میں مداخلت نہیں کرسکتا اور دنیا کی کوئی طاقت اس کی جسارت نہیں کرسکتی، لیکن اے خدا! اگر تیری رضا یہی ہے کہ اسے ہم سے واپس لے لے تو ہم تیری قدرت کاملہ سے محض اتنی آرزو رکھتے ہیں کہ اس کی تکمیل یہاں نہیں بلکہ ممبئی پہنچ کر ہو۔ بچہ کا جسد خاکی اگر سمندر میں پھینکا گیا، تو اس کی ماں کا دل اس صدمہ سے اور بھی زخمی ہوجائے گا لیکن اے میرے خدا! اگر تو اسے ممبئی پہنچنے کے بعد بھی زندگی کی نعمت سے نوازے تو تیری رحمت بے پایاں سے کچھ دور نہیں‘‘
جہاز کے ڈاکٹر نے اس سہ پہر کو جہاز رکوانے کا پہلے ہی انتظام کرلیا تھا۔ میں جب دعا مانگ کر جائے نماز سے اٹھا تو میرا دل گواہی دے رہا تھا کہ یہ دعا بے اثر نہیں گئی۔ کیبن سے باہر نکلا تو دیکھا کہ ایک شخص تیز تیز قدم اُٹھاتا جیکٹ کی آستینیں درست کرتا، میری طرف چلا آرہا ہے۔ وہ موگا کے مشہور ڈاکٹر متھراداس جنہوں نے موتیا بند کے تین لاکھ سے زیادہ آپریشن کئے تھے اور بہت سے ڈاکٹروں کو جن میں امریکی ڈاکٹر خاص طور پر شامل تھے، اس کی تربیت دی تھی، کا بڑا بیٹا تھا اور برطانیہ میں اعلیٰ تعلیم کے لئے گیا تھا۔ اس نے پہلے تو مجھ سے معذرت کی کہ میں برطانیہ کے دران قیام میں آپ کی خدمت میں حاضر نہ ہوسکا حالانکہ والد نے مجھے کئی خطوط میں اس کی ہدایت کی تھی۔ اس وقت میں عرشے پر بیٹھا کتاب پڑھ رہا تھا کہ اچانک آپ سے ملاقات کا خیال آیا اور دل نے کہا کہ آپ سے ضرور ملنا چاہیے۔ میں نے فوراً کتاب ایک طرف ڈالی، جیکٹ پہنی اور آپ کی خدمت میں حاضری کیلئے بھاگا چلا آیا۔
میں نے ڈاکٹر کو اپنی بپتا سنائی ۔ اس نے اپنا ہاتھ تھوڑی پر رکھتے ہوئے کہا۔‘‘ مجھے ذرا سوچنے دیجئے۔ سلفادوائی کی ایک شیشی میرے پاس لندن میں تھی۔ لیکن مجھے اندیشہ ہے کہ تقریباً ساری شیشی لند ن میں ہی ختم ہو گئی ہے۔ بہر حال میں جاتا ہوں اوراپنے بکس میں وہ شیشی ڈھونڈتا ہوں۔‘‘ ذرا دیر بعد وہ شیشی ہاتھ میں پکڑے بھاگا ہوا آیا۔ اس میں تھوڑی سی گولیاں بچ رہی تھیں۔ ڈاکٹر کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہ تھا۔ اس نے بچوں کی زندگی بچالی تھی۔ اللہ نے بڑا رحم کیا اور میری دعا تمام و کمال قبول فرمائی ۔ منظور نے ، میرے پُرانے کالج واڈ ہم، آکسفورڈ سے سول لا کر ڈگری حاصل کی ہے۔ وہ ان دنوں برماشیل میں کام کررہا ہے اور ماشااللہ بڑا تندرست نوجوان ہے۔
میں فروری ۱۹۳۹ء میں ہندوستان سے لندن واپس گیا۔ اس وقت مسٹر نیول چیمبرلین انگلستان کے وزیراعظم بن چکے تھے۔
لندن میں ہندوستان کے ہائی کمشنر کے طور پر میرے تقرر کے دوران میں ہی میونخ کا سال بھی گزرا۔ مجھے وہ ساری باتیں آج تک یاد ہیں کہ وزیراعظم چیمبرلین کس طرح ’’باعزت امن ‘‘ کی نوید لے کر طیارہ سے نیچے اُترے کہ تشویش میں مبتلا لوگوں کو تشفی کیلئے ان کے پاس یہی رہ گیا تھا اور ان کے اس بے کیف ڈرامائی عمل کا عامتہ الناس کے ذہنوں نے کیا اثر قبول کیا۔ وہ کتنی شدید غلط فہمی میں مبتلا تھے ۔ دراصل ایک عام برطانوی مُدبر جس نے پبلک سلوک آکسفورڈ یا کمیبرج میں تعلیم پائی ہو ، غیر ،ملکیوں کے ساتھ معاملہ کرتے وقت گھاٹے میں رہتا ہے۔ وہ اس مفروضہ کے ساتھ معاملہ کرتا ہے کہ مخالف فریق کے ارکان بھی اسی کی طرح صاف گو اور فراخ دل ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ نقصان اُٹھاتا ہے ۔ ایسے تعلیمی ادارے جن میں کردار سازی کی سعی کی جاتی ہے ، برطانیہ سے باہر موجود نہیں اس کے علاوہ انگریزوں کو دنیا کی وہ ساری نعمتیں حاصل ہیں جو خدا کے فضل سے کسی قوم کو حاصل ہو سکتی ہیں۔ اپنی سلطنت کی تعمیر کرتے وقت انہوں نے بہت سی ناروا حرکتیں بھی کیں، تاہم ۱۹۳۶ ء میں ان کی حالت اس رئیس کی سی تھی جو نہایت مضبوط ساکھ رکھتا ہے اور کبھی کبھی یہ حقیقت فراموش کر دیتا ہے کہ اس نے یہ دولت ناروا ذرائع سے بھی حاصل کی تھی۔ چنانچہ اس کے رویہ میں ایک خاص طرح کے وقار اور دوسروں کیلئے اعتماد کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ جرمن قوم انگریزوں کی اس حیثیت پر رشک کرتی تھی۔ کچھ لوگ آج بھی اس قماش کے موجود ہیں جن کے خیال میں ان لوگوں کو دھوکا دینا ، جو اعتماد کرتے ہیں تدبر ’ڈپلومیسی ‘ کا ثبوت ہے۔ بدقسمتی سے بین الاقوامی ڈپلومیسی کے معنی اب بعض پہلوؤں سے یہی نکلتے ہیں کہ ہر حیلے سے کامیابی حاصل کی جائے۔ جیسا کہ ایک بوڑھے بنیے نے اپنے بیٹے سے کہا تھا کہ ’‘پیسہ کمائیے مکرسے، روٹی کھائیے شکر سے۔‘‘(جاری ہے )

گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 50 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں