گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 24

فادرآف گوادر

میرے نہانے کا ٹب مدور تھا اور اس کی دیواریں 15.4 انچ کی ہوگی۔ ملازم لڑکا اس ٹب میں ایک بالٹی ٹھنڈے پانی کی ڈالتا، پھر ایک جگ گرم پانی ڈالتا اور کہتا ’’جناب عالی! غسل کا پانی تیار ہے‘‘ میں بھاگم بھاگ نہانے کے لئے پہنچتا کیونکہ ذرا سی تاخیر سے پانی ٹھنڈا ہوجاتا تھا۔ ہفتہ کے دن میرے کمرے میں سکون و عافیت کا ڈیرہ ہوتا تھا۔ اس دن مستقل آنے والے میں میرے ایک دوست پرسی نکولس بھی شامل تھے۔ جنہوں نے بعد میں کلیسا کی زندگی اختیار کرلی اور جو بچپن سے ہی نابینا تھے۔ا س کے باوجود وہ بی اے میں اول آئے۔ ان کے لئے بریل میں کتابیں مہیا کی گئی تھیں۔ ایک لڑکا دوسری عام کتابیں انہیں پڑھ کر سناتا تھا۔ ایک اور دوست جو میرے کمرے میں پڑاؤ ڈالتے وہ ریکس سمتھ تھے۔ میرا کمرہ اس اعتبار سے بھی ایک ڈیرہ تھا کہ اس کے عین بالمقابل یونیورسٹی کا ایک ٹیوٹر رہتا تھا۔
میرا ایک امریکی دوست بھی تھا۔ جس کا نام ویلڈن کراس لینڈ تھا۔ اسے ایک لڑکی سے محبت تھی وہ ا مریکہ میں ایک پھول والے کو تاکیداً لکھتا رہتا تھا کہ وہ خاص خاص مواقع پر لڑکی کو پھول بھیجتا رہے۔ مجھے اس کے بارے میں آخری اطلاع اس وقت ملی جب وہ راکسٹر کیتھڈرل میں تھا۔ ایک دن ہم دونوں یونیورسٹی کے پارک میں چہل قدمی کے دوران کسی مسئلے پر بحث کررہے تھے۔ چلتے چلتے جب ایک گھنے درخت کے قریب پہنچے تو کسی شخص نے جو سامنے سے آرہا تھا ماچس جلائی۔ میرا امریکی دوست میرے دلائل کے جواب میں بولا ’’اس بات سے مسئلہ زیر بحث پر کچھ تھوڑی سی روشنی پڑتی ہے۔‘‘ ماچس کی اس تیلی نے اس جوڑے پر بھی کچھ روشنی ڈال دی تھی جو درخت کے سائے میں لپٹا ہوا کھڑا تھا۔ میرا ایک اور امریکی دوست تھا جو میرے ساتھ ہی کالج میں پڑھتا تھا۔ لیکن اسے بعد میں کالج سے نکال دیا گیا کیونکہ کیبل کالج میں ایک دوست کے ساتھ باکسنگ کے دوران میں اس نے اپنے حریف کے کان کا پردہ پھاڑ دیا تھا۔
گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 23  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مسٹر لائیڈ نے آکسفورڈ میں بہت سے لوگوں سے میری ملاقات کرادی تھی اور اب یہ میرا فرض تھا کہ ہر تعلیمی مدت میں کم سے کم ایک بار ان سے ملنے کے لئے ضرور جاؤں۔ آکسفورڈ میں اس طرح کی ملاقاتوں کو ایک ادارہ کا درجہ حاصل تھا چونکہ طلبہ کو بہت سے لوگوں سے ملنا ہوتا تھا اس لئے اتوار کی سہ پہر کو یہ منظر دیکھنے کے لائق ہوتا تھا کہ طلبہ سائیکلوں پر سوار بھاگے چلے جارہے ہیں اور اسی روز تین چار ملاقاتیں بھگتانے پر تلے ہوئے ہیں۔ اس گڑ بڑ کے باوجود، ان بزرگوں کے کمراہ ملاقات کی فضا بڑی خوشگوار اور پرسکون ہوتی۔ ایک بڑی بی تھیں نام ان کا مس ہل تھا۔ ان کے والد نے انگلینڈ میں ایک پنی کا ٹکٹ رائج کیا تھا۔ بہت سے طلبہ ان سے ملاقات کے لئے جاتے تھے۔

میرے والد نے مجھے مشورہ دیا تھا کہ ہندوستانی لڑکوں سے زیادہ گھلنے ملنے کی ضرورت نہیں۔ مجھے افسوس ہے کہ میں نے ان کے مشورے کی پوری پابندی کی۔ ان کا خیال تھا کہ ہندوستانیوں سے ملنا ہو تو وہ ا پنے ملک میں بھی بہت مل جائیں گے لیکن غیر ملک میں مجھے خاص طور پر وہاں کے لوگوں سے ہی ملنا چاہیے تاکہ میں ان کے رسوم و رواج سے واقف ہوجاؤں ۔یہی وجہ ہے کہ میں برطانیہ میں ہم وطنوں کے ساتھ میل جول سے محروم رہا۔ جن میں سے متعددد لوگوں نے بعد میں امتیازی حیثیت حاصل کی۔ ان میں سہروردی اور دیوان چمن لال جیسی شخصیتیں بھی تھیں۔ یہ لوگ آکسفورڈ میں تھے لیکن میں ان سے نہیں ملا۔
ہم فٹ بال کھیلا کرتے تھے۔ کالج کا میدان وہاں سے پانچ میل دور ہوگا۔ اس لئے ہمیں سائیکل پر جانا پڑتا تھا۔ (ہمارے یہاں بھی کالجوں کے کھیل کے میدان شہر سے باہر پانچ میل دور بنائے جاسکتے ہیں۔ میونسپل حدود میں وسیع میدان کے لئے اراضی خریدنے کی رقم ہمارے کالجوں کے پاس کبھی نہیں ہوگی) میں آئسس کلب کی طرف سے ہاکی کھیلتا تھا۔ ایک دن میرے چند دوست تیراکی کے لئے گئے۔ یونیورسٹی پارک کے دریا میں نہانے کے لئے ان کے ساتھ میں بھی چل پڑا۔ جب میں نے پانی میں پاؤں ڈالنے سے پس و پیش کیا تو لڑکوں نے مجھے پکڑ کر دریا میں پھینک دیا۔ لہٰذا جان بچانے کی خاطر مجھے تیرنا پڑا۔ اس طرح میرے دل سے دریا کا خوف نکل گیا۔ لمبے لمبے ہاتھ مار کر تیرنے میں مجھے بے حد لطف آتا تھا۔
میرے ٹیوٹر کالج کے وارڈن مسٹر جیو فری ویلز تھے۔ میں خوش نصیب تھا کہ ان کی شاگردی میسر آئی۔ میں ایک ہفتہ میں ان سے دو تین سبق لیتا تھا اور اس میں کوئی اور طالبعلم موجود نہیں ہوتا تھا۔ آکسفورڈ کی تعلیم کا یہی تو حسن ہے۔ وہاں امتحان دینے کے لئے کسی موضوع کی ایک ہی کتاب مقرر نہیں کی جاتی بلکہ اس موضوع کی چار پانچ کتابیں تجویز کی جاتی ہیں۔ اس کے بعد آپ جتنی کتابیں چاہیں پڑھیں۔
طلبہ اکثر شرارتیں کرتے رہتے تھے۔ ایک رات چند شوخ لڑکے شہداء کی یادگار (مارٹائر میموریل) پر چڑھ گئے اور وہاں ایک حاجتی (Jerry) رکھ کر آگئے۔ دوسرے دنا سے اتارنے کے لئے فائر بریگیڈ کو بلانا پڑا۔ ایک دفعہ کافی پارٹی کی رات کو کچھ تیز طرار لڑکے کالج کی چھت پر چڑھ گئے اور وہاں پہنچ کر ویڈھم اور ڈوروتھی ویڈھم کے مجسموں پر کاغذ چڑھادئیے۔ دوسری صبح بیچارے ملازموں کو چھت پر چڑھ کر مجسموں پر سے کاغذ اتارنا پڑا۔
ان دنوں ہمیں ضروری حوائج کے لئے کالج کی عمارت کے پیچھے جانا پڑتا تھا۔ ایک دن میں کالج میں اپنی نشست گاہ کے اندر روشن دان کے سامنے بیٹھا بیٹھا سوگیا۔ رات کے دو بجے آنکھ کھلی تو سخت سردی محسوس ہوئی۔ اس کے بعد میں نے روشن دان کی آگ سے آکر دم تک لطف اندوز ہونے کی کوشش کی۔
اب کچھ تھوڑا سا پراکٹر صاحبان کے بارے میں عرض کرتا ہوں۔ ہم انہیں بل ڈاگ کہتے تھے۔ ہم سے یہ توقع کی جاتی تھی کہ رات میں زیادہ سے زیادہ گیارہ بجے تک کالج واپس پہنچ جائیں اور جب بازار میں نکلیں تو گاؤن اور ٹوپی پہنے رکھیں۔ پراکٹر اور لڑکوں کے درمیان اس سلسلہ میں اکثر مقابلے ہوتے تھے لیکن مجموعی طور پر یونیورسٹی میں ضابطہ پسندی کا ماحول تھا۔ ایک دن کچھ لڑکوں نے بلیک ویل نامی ایک کتب فروش کی کھڑکی میں ایک کارٹون بنادیا۔ کارٹون میں دو امریکی خواتین کو ہاتھ میں چھتری لئے برقی ٹرام میں سوار ہوتے دکھایا گیا تھا۔ خواتین کندیکٹر سے کہہ رہی تھیں کہ ہمیں آکسفورڈ یونیورسٹی لے لو۔ آکسفورڈ یونویرسٹی تمام کالجوں اور پورے ایک قصبے پرمشتمل تھی۔ امریکہ اور متعدد دوسرے ملکوں میں یونیورسٹی بالعموم ایک ہی عمارت میں ہوتی ہے یا ایک کیمپس کی متعدد عمارتوں میں۔ لطیفہ تو یہی تھا کہ طلبہ امریکی یونیورسٹی کے بارے میں یہ جانتے تھے کہ وہاں یونیورسٹی کے لئے ایک ہی عمارت ہوتی ہے۔ جسے ہم اپنے یہاں کالج کہتے ہیں۔
میں ہر تعلیمی مدت کے خاتمہ پر انٹرٹمپل کے عشائیوں میں شرکت کے لئے آکسفورڈ سے لندن جاتا تھا۔ عشائیہ کی میز پر ہر شخص چاہتا تھا کہ میرے پاس بیٹھے۔ کیونکہ شیری کی ایک بوتل چار لڑکوں کے درمیان رکھی جاتی تھی اورمیں شراب سے تائب تھا۔
ڈاکٹر ہبرڈ میرے ٹیوٹر تھے۔ مین نے صرف ان کے دئیے ہوئے نوٹس پڑھے، کوئی کتاب نہیں پڑھی اور امتحانات میں بہ آسانی کامیاب ہوگیا۔ لندن میں یہ معلم ایک بڑی نعمت ہیں۔ آکسفورڈ میں سال کے 300 پاؤنڈ خرچ آتے تھے اور والد مجھے 400 پاؤنڈ بھیجتے تھے چنانچہ میرا وقت بڑے آرام سے گزرا۔ آج کل 700 پاؤنڈ یا کچھ زائد خرچ آتا ہے۔
جب میں ویڈھم کالج کا آنریری فیلو بنا تو مجھے یوں محسوس ہوا جیسے مجھے ایک بہت بڑا اعزاز ملا ہو۔ میرا خیال ہے کہ میں اگر پہلا نہیں تو دوسرا ہندوستانی طالبعلم تھا جسے آکسفورڈ کے کسی کالج کا آنریری فیلو بنایا گیا تھا۔ مجھے فخر ہے کہ مجھے وہاں تعلیم کا موقع ملا۔ ویڈھم کالج نے ماضی میں عظیم شخصیتیں پیدا کی ہیں جیسے ایف ای سمتھ جو بعد میں لارڈ برکن ہیڈ ہوئے۔ شہرہ آفاق کرکٹر فرائی، سرجان سائمن جو بعد میں لارڈ سائمن ہوئے۔ انہی نے 1932ء میں اس کمیشن کی صدارت کی تھی جو ہندوستان میں سیاسی اصلاحات کی غرض سے آیا تھا۔ میں نے 1917ء میں بیرسٹری کی تعلیم مکمل کی اور اسی سال ستمبر میں یعنی پہلی جنگ عظیم کے دوران ہندوستان واپس آگیا۔ 1914ء میں بھی گرمیوں کی تعطیلات میں نے ہندوستان میں ہی گزاری تھیں کیونکہ میری والدہ نے ریٹرن ٹکٹ بھجوادیا تھا تاکہ وہ دو سال بعد میری صورت دیکھ لیں۔ عدن سے بمبئی تک ایک جرمن جہاز ایمڈن نے ہمارا پیچھا کیا لیکن ہم بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے۔
تعطیلات کے خاتمہ پرمیرے لئے یہ امکان پیدا ہوا تھا کہ ریلوے کی ملازمت میں اسسٹنٹ ٹریفک سپرنٹنڈنٹ بنادیا جاؤں لیکن میں نے انکار کردیا اور اچھا کیا۔ یہ میری بڑی خوش نصیبی تھی کہ ستمبر 1914ء میں جنگ کے باوجود میرے والدین نے مجھے آکسفورڈ واپس جانے کی اجازت دے دی۔(جاری ہے )

گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 25 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں