مغربی بنگال،آر ایس ایس کے سکولوں میں عدم رواداری کا سبق

عالمی منظر

نئی دہلی (این این آئی)بھارت کی ریاست مغربی بنگال کی حکومت نے سخت گیر ہندو تنظیم آر ایس ایس (راشٹریہ سویم سیوک سنگھ )سے وابستہ سکولوں میں متنازع نصاب پڑھانے پر اعتراض کرتے ہوئے سکولوں کو نوٹس جاری کردیا،بھارتی ٹی وی کے مطابق حکومت نے بتایاکہ آر ایس ایس کے ماتحت سکولوں میں عدم رواداری پر مبنی نصاب پڑھایا جا رہا ہے۔حکومت نے مذہبی عدم برداشت کو فروغ دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے ریاست کے ایسے 125 سکولوں کو نوٹس جاری کیا ہے۔آر ایس ایس نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اس کے ماتحت سکولوں کو نشانہ بنانے کے بجائے تیزی سے بڑھتے ہوئے مدارس اور عیسائی مشنری کے تحت چلنے والے سکولوں پر لگام لگانی چاہیے۔آر ایس ایس کے سکولوں سے نصاب کی فہرست محکمہ تعلیم کے حوالے کرنے کو کہا گیا ہے تاکہ اس کا جائزہ لیا جا سکے۔حال ہی میں کمیونسٹ پارٹی کے رکن اسمبلی مانس مکھرجی نے یہ مسئلہ اٹھایا تھا۔ اس کے بعد حکومت نے اس معاملے میں کارروائی کی۔جن سکولوں کو نوٹس بھیجا گیا ہے، ان میں سے بیشتر یوچ بہار، شمالی دیناج پور، نادیہ اور مغرب مدنا پور جیسے اضلاع کے دیہی علاقوں میں چل رہے ہیں۔ریاست کے وزیر تعلیم پارتھ چٹرجی نے کہاکہ ہم نے ایسے سکولوں سے اپنا نصاب بھیجنے کو کہا ہے تاکہ اس کا جائزہ لیا جا سکے۔ قصوروار پائے جانے پر ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی،وزیرر تعلیم کا کہنا تھا کہ تعلیم کے نام پر مذہبی عدم برداشت کو فروغ دینے والی سرگرمیاں قطعی طور پر برداشت نہیں کی جائیں گی۔بی جے پی کے صدر دلیپ گھوش کا کہنا تھاکہ حکومت ان سکولوں کو نوٹس کس طرح بھیج سکتی ہے؟ تمام سکول حکومت کی اجازت سے ہی چل رہے ہیں۔ دراصل، حکومت ریاست میں آر ایس ایس کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر پابندی لگانے کے لیے اس طرح کے اقدامات کر رہی ہے۔