نیند میں خلل ڈالنے پرمصری یونیورسٹی سربراہ نے خاتون نیوز کاسٹر کو جھڑک دیا

عالمی منظر

قاہرہ (این این آئی)مصر میں ڈی ایم سی‘ ٹی وی چینل کی ایک خاتون نیوز اینکر کو اس وقت سخت مشکل کا سامنا کرنا پڑا جب انہوں نے ایک یونیورسٹی میں طلباء کے درمیان ہونے والے تصادم پر بات کرنے کے لیے اس یونیورسٹی کے ریکٹر کو ٹیلیفون کیا۔عرب ٹی وی کے مطابق نیوز اینکر ایمان الحصری کی جانب سے لائیو بیپر کے لیے رابطہ کرنے پر ’جامعہ 6 اکتوبر‘ کے ریکٹر ڈاکٹر احمد عطیہ نے نہ صرف اسے جھڑک دیا بلکہ کہا کہ رات گیارہ بجے فون کر کے اس کی نیند میں خلل کیوں پیدا کیا گیا۔ایمان الحصری نے ڈاکٹر عطیہ سے یونیورسٹی میں دن کو دو طلباء گروپوں کے درمیان ہونے والے تصادم پر ان کی رائے معلوم کی تو اس کے جواب میں ڈاکٹر عطیہ نے کہا کہ کسی سے رائے معلوم کرنے کا یہ کون سا وقت ہے۔ رات کے گیارہ بج رہے ہیں۔ میں گھر میں اکیلا ہوں اور بچے گھر سے باہر ہیں۔ میں نے فون کال اس خدشے کے تحت اٹینڈ کرلی کہ خدا نخواستہ اس کے بچوں کے ساتھ کوئی حادثہ پیش نہ آ گیا ہو۔
ڈاکٹر العطیہ نے ٹی وی چینل کی اینکر کو کہا کہ جامعات میں طلباء کے درمیان معمولی تنازعات چلتے رہتے ہیں۔ انہیں اچھالنے اور آدھی رات کو ان پر رائے لینے کا کوئی جواز نہیں۔اس پر ایمان الحصری نے معذرت کی اور کہا کہ وہ سمجھے تھے کہ معاملہ شاید زیادہ سنگین ہے۔ کیونکہ یہ اطلاعات ملی تھیں کہ جامعہ کی حدود میں دو طلباء4 گروپوں نے اسلحہ کا استعمال کیا ہے۔ ڈاکٹر احمد عطیہ نے بات مکمل کیے بغیر ہی فون بند کردیا