سعودی عرب کا خطے میں اہم کردار ہے: جاپانی وزیراعظم

عالمی منظر


ٹوکیو(این این آئی)جاپان کے وزیر اعظم شینزو ایبی نے کہا ہے کہ سعودی عرب کا خلیج کے خطے میں اہم کردار ہے اور سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کا جاپان کا حالیہ دورہ تاریخی اہمیت کا حامل تھا کیونکہ کسی سعودی شاہ نے 46 سال کے بعد جاپان کا یہ دورہ کیا ہے۔عرب ٹی وی کو انٹرویومیں انہوں نے کہاکہ ان کے سعودی عرب کے شاہی خاندان سے 1971ء سے مضبوط خاندانی روابط استوار ہیں۔ تب مرحوم شاہ فیصل جاپان کے دورے کے موقع پر شینزو ایبی کے دادا اور اس وقت جاپان کے وزیراعظم نوبو سوکی کیشی کے گھر بھی آئے تھے۔انھوں نے بتایا کہ انھوں نے اپنے وزارت عظمیٰ کے دونوں ادوار میں دو مرتبہ سعودی عرب کا دورہ کیا ہے اور وہ ذاتی طور پر سعودی عرب کے ساتھ شراکت داری کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔دونوں ممالک میں یہ شراکت داری تیل اور توانائی کی سکیورٹی سے آگے بڑھ کر اب معیشت ،تعلیم اور انسانی وسائل کی ترقی تک جا پہنچی ہے۔انھوں نے کہا کہ سعودی مملکت اپنی نوجوان آبادی کی بدولت روشن اور جدید انسانی وسائل سے مالا مال ہے۔جاپان اس عظیم ذریعے سے فائدہ اٹھانے میں گہری دلچسپی رکھتا ہے اور سعودی حکومت کی جانب سے وضع کردہ ترقیاتی پروگراموں میں معاونت کا خواہاں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جاپان اور سعودی عرب دونوں ایک دوسرے کے متنوع وسائل اور ترقی سے مکمل فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔جاپانی وزیراعظم نے بتایا کہ سعودی عرب کے نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے گذشتہ سال ستمبر میں جاپان کے دورے کے موقع پر ایک فریم ورک سمجھوتا طے پایا تھا۔اس کو ہم نے سعودی جاپان وڑن 2030 کا نام دیا تھا۔اس مشترکہ وڑن کا مقصد سعودی عرب کے وڑن 2030 کی روشنی میں کام کرنا تھا تاکہ سعودی مملکت کی تیل کی آمدن پر انحصار کم کرنے اور معیشت کو متنوع بنانے کے لیے مدد کی جاسکے۔اس کے علاوہ جاپان کی اقتصادی ترقی کے لیے حکمت عملی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔شینزو ایبی کا کہنا تھا کہ خلیج کے خطے میں امن اور استحکام یقینی طور پر ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔ان کا ملک عربوں کے آباء واجداد کی دانش کو سراہتا ہے جن کا کہنا تھا کہ ’’اعتدال پسندی ہی میں خیر‘‘ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جاپان کی نظر میں سعودی مملکت کا خطے میں اہم کردار ہے۔