پاکستان سے "مغل بادشاہت "ختم ،جمہوریت کا دور شروع ہونے والا ہے ، سراج الحق

صفحہ اول

   لنڈی کوتل ، جمرود (اے این این )امیرجماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ پاکستان سے مغل بادشاہت کا دور ختم اور جمہور کی حکمرانی کا دور شروع ہونے والا ہے۔ پشاور، لاہور، کراچی، اسلام آباد اور دیگر شہروں میں بنگلوں کی نشاندہی کر لی ہے، قومی دولت لوٹنے والوں اور کرپشن سے مال بنانے والوں سے غریبوں کا پیسہ واپس لیں گے۔ 21 نومبر کو 'تحریک پاکستان سے تکمیل پاکستان' تحریک کا آغاز کریں گے اور اسلامی پاکستان کی منزل حاصل کریں گے۔ کراچی سے چترال تک لوگوں کو جمع کرکے اپنے ساتھ کھڑا کریں گے، معاشرے کے تمام طبقات کو اپنی صفوں میں جگہ دیں گے۔وفاق فاٹا میں تباہی و بربادی کا ذمہ دار ہے، قبائلی علاقوں کے لیے 100 ارب کے خصوصی ریلیف پیکیج کا فوری اعلان کیا جائے۔ جماعت اسلامی اقتدار میں آئی تو قبائلی علاقوں میں تاریخی ترقیاتی کام کرے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے خیبر ایجنسی کے علاقوں لنڈی کوتل اور جمرود میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کے نظام سے بغاوت کا راستہ اختیار کیا گیا ہے اور کاروبار مملکت اسلامی تعلیمات اور قومی امنگوں کے مطابق نہیں چلایا جا رہا۔ انھوں نے کہا کہ اسلامی نظام ہر عیب سے پاک ہے، اس میں تمام مسائل کا حل موجود ہے مگر انگریز کے شاگردوں نے سازش کے ذریعے قرآن و سنت اور اسلام کو نظام حکومت سے دور رکھا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اسلامی نظام آئے گا تو مہنگائی و بےروزگاری، بدامنی، کرپشن، لوٹ مار اور غربت سمیت تمام مسائل حل ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ سرمایہ داروں اور جاگیرداروں نے ملک کی دولت اور وسائل پر قبضہ کیا ہے، ان کے بچے اور کتے عیش کرتے ہیں مگر غریب کا بچہ کوڑے کے ڈھیر سے رزق تلاش کرنے اور فٹ پاتھ پر سونے پر مجبور ہے۔ کرپشن کی وجہ سے سڑکیں نہیں ہیں، بجلی اور گیس نہیں ہے مہنگائی اور غربت ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان سیاسی پنڈتوں اور سیاسی فنکاروں کے لیے نہیں بلکہ اسلام اور غریبوں کی فلاح کے لیے بنا تھا۔ انھوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی حکومت آئی تو 15 لاکھ علمائے اور امام مساجد کی تنخواہ حکومت دے گی اور مساجد کے بجلی اور گیس کے بل بھی حکومت ادا کرے گی۔ انھوں نے کہا کہ ایسا یکساں نصاب اور نظام تعلیم دیں گے کہ غریب اور صدر اور وزیراعظم کے بچے ایک اسکول میں پڑھیں گے۔پاک افغان تعلقات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ پرامن افغانستان اور خوشحال پاکستان وقت کی ضرورت ہے۔ ہم افغانستان کی ترقی چاہتے ہیں اور ہماری دوستی افغان عوام سے ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت میں آئے تو افغانستان اور پاکستان کو ریل سے جوڑیں گے۔ افغان صدر اشرف غنی کی طرف سے طالبان کو مذاکرات کی دعوت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ افغان حکومت، گلبدین حکمت یار اور طالبان میں مذاکرات ہونے چاہیے۔امریکہ افغانستان سٹریٹجک معاہدے کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ افغان حکومت کا امریکہ سے معاہدہ پاکستان افغانستان کے لیے نیک شگون نہیں، اس پر ہمیں تحفظات ہیں۔ انھوں نے کہا کہ امریکی اور نیٹو فوجوں کی موجودگی میں خطہ سازشوں کا مرکز بنا رہے گا۔ انھوں نے کہا کہ اشرف غنی کو افغان عوام پر بھروسہ کرتے ہوئے اعلان کرنا چاہیے تھا کہ ہم منتخب ہو کر آئے ہیں، اب ہمیں امریکی و نیٹو فوج کی ضرورت نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ کو خطے سے مکمل طور پر نکل جانا چاہیے۔
سراج الحق