فورتھ شیڈول میں شامل افراد کے جسموں میں مائیکرو چپ نصب کرنے کا فیصلہ

صفحہ اول

 لاہور(اے این این) پنجاب حکومت نے کالعدم تنظیموں اور فورتھ شیڈول میں شامل افراد کی نگرانی کے لئے ان جسموں میں مائیکرو چپ نصب کرنے کا فیصلہ کر لیا،ایسے افراد کو اپنے علاقے سے باہر جانے کے لئے پولیس سے اجازت لینا ہو گی،جوائنٹ انٹیلی جنس کمیٹی نے 1132 افراد کی فہرست بنائی ہے جس میں زیادہ تر لوگ وہ ہیں جو کہ تشدد میں ملوث رہے ہیں یا دہشتگردی کی مالی معاونت کرتے رہے ہیں اور ایسے شعلہ بیان مقرر ہیں جو مسلح کاروائیوں کی حمایت کرتے ہیں، صوبے کے داخلی اور خارجی راستوں پر تعینات سکیورٹی اہلکاروں اور پولیس کو ایسی مشینیں دی جائے گی جن کی مدد سے وہ انگوٹھے کا نشان لے کر لوگوں کی شناخت کر سکیں گے، یہ مشینیں نادرا کے ڈیٹا بیس کے ساتھ منسلک ہوں گی، مدارس کی جیو ٹیگنگ کی جا رہی ہے اور اکثر مدارس تعاون کر رہے ہیں تاہم کچھ مدارس ایسے بھی ہیں جن کے مسلح تنظیموں سے رابطے ثابت ہوچکے ہیں۔ یہ بات پنجاب کے وزیر داخلہ کرنل (ر) شجاع خانزادہ نے برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ایسے افراد کی مانیٹرنگ کو سخت کرنے کے لیے نیا نظام لا رہی ہے جن کے نام مسلح گروہوں، فرقہ وارارنہ اور کالعدم تنظیموں کا رکن ہونے یا ان سے وابستگی کے باعث فورتھ شیڈول میں شامل ہیں۔اس شیڈول میں شامل افراد کو اپنے علاقے سے باہر جانے کے لیے پولیس کی اجازت درکار ہوتی ہے۔انھوں نے کہا کہ ماضی میں پولیس کے لیے فورتھ شیڈول میں شامل افراد کی نقل وحرکت پر نظر رکھنا ممکن نہیں تھا تاہم انھیں مائیکرو چپس لگائی جائیں گی تا کہ ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جاسکے۔ان کا کہنا تھا کہ جوائنٹ انٹیلیجنس کمیٹی نے 1132 افراد کی فہرست بنائی ہے جس میں زیادہ تر لوگ وہ ہیں جو کہ تشدد میں ملوث رہے ہیں یا دہشتگردی کی مالی معاونت کرتے رہے ہیں اور ایسے شعلہ بیان مقرر ہیں جو مسلح کاروائیوں کی حمایت کرتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ان میں سے 700 افراد گرفتار ہو چکے ہیں جبکہ فورتھ شیڈول میں شامل افراد کی نگرانی کے لیے انھیں چپس لگائی جا رہی ہیں تاکہ ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا سکے۔یہ کالعدم تنظیمیں ہیں جن کی پنجاب میں تعداد 14 ہے۔ ان کے خلاف سکیورٹی اداروں کے پاس ٹھوس ثبوت ہیں۔ جہاں جہاں پر ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اپنے دائرے سے باہر نکلتے ہیں یا پھر قانون کے نرغے میں آرہے ہیں تو پھر ان کے خلاف بھی کاروائی ہو گی۔شجاع خانزادہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ صوبے کے داخلی اور خارجی راستوں پر تعینات سکیورٹی اہلکاروں اور پولیس کو ایسی مشینیں دی جائے گی جن کی مدد سے وہ انگوٹھے کا نشان لے کر لوگوں کی شناخت کر سکیں گے۔ یہ مشینیں نادرا کے ڈیٹا بیس کے ساتھ منسلک ہوں گی۔صوبائی وزیرِ داخلہ نے بتایا کہ حکومتِ پنجاب نے لاڈ سپیکر کے غلط استعمال، نفرت انگیز مواد، وال چاکنگ اور کرائیداری کے آرڈیننس جاری کیے ہیں اور اب صورتحال میں کافی بہتری آئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ لاڈ سپیکر کے استعمال کے قانون کی خلاف ورزی پر ساڑھے تین ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں سے ساڑھے تین سو کو عدالت سزا دے چکی ہے۔اس سوال پر کہ کیا نئے قوانین کے تحت لشکر جھنگوی اور جماعت الدعو جیسی تنظیموں کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی شجاع خانزادہ کا کہنا تھا کہ یہ کالعدم تنظیمیں ہیں جن کی پنجاب میں تعداد 14 ہے۔ ان کے خلاف سکیورٹی اداروں کے پاس ٹھوس ثبوت ہیں۔ جہاں جہاں پر ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اپنے دائرے سے باہر نکلتے ہیں یا پھر قانون کے نرغے میں آرہے ہیں تو پھر ان کے خلاف بھی کاروائی ہو گی۔اس سوال پر تو کیا ان تنظیموں نے ابھی تک کچھ ایسا نہیں کیا کہ یہ قانون کے نرغے میں آ سکیں، وزیرِ داخلہ نے کہا کہ نہیں ابھی تک تو کوئی ایسی چیز نہیں ہوئی لیکن ہم مرحلہ وار جا رہے ہیں۔ ہم ایک ساتھ سب کچھ لپیٹنے نہیں جارہے۔ ہم نے پہلا مرحلہ شروع کیا ہے اس کے بعد آگے بڑھیں گے ۔